- الإعلانات -

شہید کی موت ۔ ۔ ۔ ۔ قوم کی حیات

پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسی شخصیت بھی گزری ہے کہ جس نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ایک مردہ قوم کو جلا بخشی تھی اور نئے عزم اور ولولے سے ہمکنار کرکے اپنی قوم کو عالمگیر برادری میں نمایاں مقام پر لاکھڑا کیا اور آج کی ہماری ممدوح شخصیت کو فطرت نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا شجاعت و بہادری کے اس پیکر کے سامنے دشمن لرزہ براندام ہو جاتا تھا اور بقول اقبال میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح کے مصداق دنیا کی سپر پاور کو اپنے اپنے آشیانے بچانے کی فکر پڑ گئی اور بلاد اسلامیہ فخر سے اپنے سر بلند کرکے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگی پاکستانی قوم اپنے اس عظیم سپوت پر ہمیشہ فخر اور ناز کرتی رہے گی اور تاریخ اپنے اوراق میں ہمیشہ کے لیے سنہری حروف میں یاد کرے گی میری مراد سابق صدر پاکستان ۔ جنرل محمد ضیاء الحق سے ہے جن کا شمار اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں ہوتا ہے اور انکا ذکر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں بڑے احترام سے لیاجاتا ہے نہ جانے کیوں مخالفین انہیں ایک آمر اور جمہوریت کے’’قاتل‘‘کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر وہ صرف میرے ہی نہیں کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں پہلے کی طرح ہی زندہ و تابندہ ہیں ۔ جب ضیاء الحق برسراقتدار آئے تو اس وقت سوائے پیپلز پارٹی کے باقی تمام جماعتیں ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ ساز دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج تھیں ۔ یہ وہ حالات تھے، جب پیپلز پارٹی کے بانی افراد بھی بھٹو کے ظلم و ستم سے تنگ تھے، ہمارے ایک قومی اخبار نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا اندازہ مولانا کوثر نیازی کی اس بات سے لگایاجا سکتاہے ۔ جنہوں نے بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد کہا تھا ;3939;بہت دیر کی مہربان آتے آتے;3939; ۔ یہ اس بات کا ثبوت تھاکہ بھٹو نے نہ صرف عوام، مخالف سیاسی جماعتوں کا ناطقہ بند کررکھا تھا بلکہ جے اے رحیم، مولانا کوثر نیازی افتخار تاری، سمیت کتنے ہی سرکردہ افراد براہ راست بھٹو کے ظلم و ستم کا شکار تھے ۔ ان بدترین حالات میں جب بھٹو کے حکم پر فوج نے عوام پر براہ راست گولیاں چلانے سے یہ کہتے ہوئے انکا ر کردیا کہ پاک فوج عوام کے تحفظ کےلئے ہے، ان پر گولیاں چلانے کےلئے نہیں ہے ۔ اگر جنرل ضیاء الحق بھٹو کا تختہ نہ الٹتے تو کوئی نیچے بھی آسکتا تھا ۔ بہرکیف جنرل ضیاء الحق نے جب اقتدار سنبھالا توانہیں تین مختلف چیلنجوں کا سامنا تھا ۔ بھٹو کے وفادار جیالے بدلہ لینے کےلئے تخریب کاریوں میں مصروف عمل تھے، دوسری جانب سوویت یونین (جسے اس وقت سفید ریچھ کہاجاتاتھا) نے بحیرہ عرب کے گرم سمند ر تک رسائی حاصل کرنے کےلئے افغانستان پر فوجی یلغار کردی تھی ۔ اس کے دماغ میں یہ فتورخاصا مستحکم تھا کہ پاکستان، سوویت یونین کی فوجی طاقت کے سامنے چند گھنٹے بھی کھڑا نہیں ہوسکتا ۔ جنرل ضیاء الحق کےلئے تیسری پریشانی یہ تھی کہ بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں پر حملہ کرنے کےلئے اشارے کی منتظر تھی ۔ جبکہ چند ضمیرفروش سیاست دان روسی ٹینکوں کا استقبال کرنے کےلئے بے چین تھے، یہ وہ لمحات تھے جوجنرل محمد ضیاء الحق اور پاکستانی فوج کا امتحان ثابت ہورہے تھے ۔ بے شک قیادت کا امتحان ایسے ہی مشکل ترین حالات میں ہوتا ہے ۔ مختصر بتاتا چلوں کہ ایوان صدر میں سوویت یونین کا سفیر ملنے آیا اس نے ضیاء الحق کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا آپ ہمارے راستے کی دیوار نہ بنیں ،ورنہ ہم آپ کو یہاں بیٹھے بٹھائے راکھ کا ڈھیر بناسکتے ہیں ۔ ضیاء الحق خاموشی سے سنتے رہے جب سفیر کو الوداع کہنے کےلئے دروازے تک آئے تو انہوں نے کہا مسٹر ایمبیسیڈر میں یہی بیٹھا ہوں تم اپنے میزائل چلاؤ ۔ پھر اس عظمت و استقلال کے پیکر اس سپہ سالار نے پاکستان کے بقا ء کی جنگ افغانستان میں لڑنے کا نہ صرف مشکل ترین فیصلہ کیا بلکہ اپنی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں سوویت یونین کی حکومت اور فوج کو چاروں شانے چت کردیا ۔ پھروہ لمحہ بھی آپہنچا جب سوویت فوجیں افغانستان سے بحفاظت نکلنے کےلئے منتیں کررہی تھیں ۔ اس شکست کے نتیجے میں چھ آزاد اسلامی ریاستیں وجود میں آئیں ۔ انہی ایام میں بھارت، پیپلز پارٹی اور جی ایم سید کی حمایت سے صوبہ سندھ کو پاکستان سے الگ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا تھا، اس نازک موقع پر ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے تمام منصوبوں اور چالوں کو ناکام بنادیا ۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس عظیم سپہ سالار میں طارق بن زیاد اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ ۔ یہ وہی ضیاء الحق ہے جن کو بطورخاص روضہ رسول ;248;کے اندر لیجایا گیا ۔ ضیاء الحق واپسی جدہ پہنچنے تک مسلسل آنسو بہارہے تھے ۔ 17اگست1988ء کو تین بج کرپچاس منٹ پر دریائے ستلج کے کنارے بستی لال کمال کے قریب جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کیا ۔ گیارہ سال تک صدر پاکستان کے منصب پر فائزرہنے والے شخص کے نام پر نہ تو فرانس میں سینکڑوں ایکڑ کا ;3939;سرے محل ;3939; نکلا، نہ لندن کے مہنگے علاقے میں قیمتی فلیٹ نظر آیا بلکہ شہید کی جیب سے قرآن پاک ملا جس کی وہ اکثر تلاوت کیا کرتاتھا ۔ وہ جب تک سربراہ مملکت رہے اشیائے خورونوش کی قیمتیں مستحکم رہیں ملک امن وسکون کا گہوارہ تھا اور اگر جمہوریت اسی کا نام ہے جو وطن عزیز میں راءج ہے تو ایسی ہزار جمہورییتں ضیا صاحب کے مارشل لاء پر قربان کی جا سکتی ہیں روزنامہ پاکستان نے اپنے اداریے ;3939;ایس کے نیازی پروگرام;3939; سچی بات ;3939; میں پر مغز گفتگو;3939; کے عنوان سے سالار صحافت نڈر اور بے باک تجزیہ نگار محترم ایس کے نیازی صاحب کی شہید مسلم سابق صدر،سپہ سالار محترم جنرل ضیاء الحق کی برسی کے موقع پر ان کی یادداشتوں کے حوالے سے پروگرام میں ان کے فرزند ارجمند اعجازالحق سے کی گئی پر مغز گفتگو کو زیب قرطاس کیا ہے محترم ایس کے نیازی صاحب دریا کو کوزے میں بند کرنے کا ہنرجانتے ہیں انہوں نے اس پروگرام میں ہماری ممدوح شخصیت کے تمام گوشوں کو مستنیر کیا انہوں نے کہا کہ مرحوم صدر نے پاکستانی قوم کو اسلامی اقدار سے روشناس کروانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا اور صلوٰۃ کمیٹیوں کے قیام سے ملک میں دینی ماحول کی آبیاری کی پاکستان کو مستحکم اور ایٹمی قوت بنانے کےلئے مرحوم صدر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی خداداد صلاحیتوں سے مستفید ہونے کےلئے ڈاکٹر صاحب کو ہر طرح کی سہولیات مہیا کیں اور اگر آج طاغوتی اور صیہونی طاقتیں پاکستان سے خاءف ہیں تو اس کا سہرا صرف اور صرف شہید صدر اور سابق سپہ سالار کے سر جاتا ہے اور سرخیل صحافت جناب ایس کے نیازی کی اس صداقت کو اقبال کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں سر خاک شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم ;223;کہ خونش با نہال ملت ما سازگار آمد ترجمہ میں شہید کی قبر پر لالے کے پھول کیوں نچھاور نہ کرواس لیے کہ اس کا خون ملت کی آبیاری میں بہت کام آیا ہے ۔