- الإعلانات -

کپتان کا جراَت مندانہ موقف اور بھارتی سازشیں

پاکستان نے اپنے قیام کے آغاز سے ہی ہمیشہ کوشش کی ہے کہ دنیا بھر کے سبھی ملکوں کے ساتھ بالعموم اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں اور بلاشہ اس مقصد کے حصول میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اسے بھارت کی صورت میں اسے ایسا ہمسایہ میسر آیا جس نے وطن عزیز کو کبھی دل سے تسلیم نہےں کی ۔ اسی وجہ سے دہلی سرکار نے پاکستان کے خلاف سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ اسی تناظر میں مبصرین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ادارے’ این ڈی ایس‘ نے کالعدم تحریک طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کی تیاری کی سازش تیار کی ہے ۔ واضح رہے کہ ر اور این ڈی ایس کا ٹی ٹی پی ،جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے ساتھ کنڑ میں اجلاس ہوا جس میں تمام دہشت گردوں نے ٹی ٹی پی کے سربراہ دہشتگرد نورولی کی قیادت میں خونریزی کو بڑھاوا دینے کا فیصلہ کیا ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق افغانستان میں جیسے جیسے امن کے قیام کے آثار بڑھتے جا رہے ہیں ویسے ویسے افغانستان کو دہشتگردی کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے والے بھارت کے لئے پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسے میں یہ امر حوصلہ افز ا ہے کہ پاک اداروں کی مستعدی کی وجہ سے دہشتگرد مستقل ناکامی سے دوچار ہیں اور اسی ناکامی نے بھارت کو مجبور کیا ہے کہ وہ بکھرے ہوئے پتوں کو پھر سے جمع کرکے پاکستان کے خلاف استعمال کرے ۔ یاد رہے کہ پاکستان کو بخوبی اندازہ ہے کہ بھارت کے منفی عزائم کیا اور کیسے ہےں مگر کیونکہ اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے اس لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھارتی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ لینا ممکن نہیں ہو سکا ۔ یوں کنڑ میں ہونے والے اس اجلاس نے بھارت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے لہذا مودی کی قیادت میں بھارت جو مرضی کرلے پاکستانی عوام اور فورسز کے جذبے کو شکست نہیں دے سکتا ۔ ظا ہر کہ بھارت نے دباؤ ڈالنے کی خاطر یہ تمام گروپ بنوائے تھے جو بری طرح ناکام رہے ۔ انشا اللہ اب ان سب درندوں کو متحد کر کے بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوگا اور غالبا کچھ ممالک بھارت کو چین کیخلاف استعمال کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔ اسی طرح چین نے بھی ہر اچھے برے وقت میں ساتھ دیا لہٰذا ہمارا مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے حوالے سے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹر ویو میں یہ بھی کہا کہ مسائل کے فوری حل کی توقعات رکھنے والے عوام میں مایوسی کی فضا پیدا ہونا فطری امر تھا ۔ علاوہ ازیں غیر جانبدار مبصرین کی رائے ہے کہ وزیراعظم نے اس صورتحال میں بھی بہتری کی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور وہ ادارہ جاتی اصلاح احوال اور عوام کے روٹی روزگار کے مسائل کے حل کی کوششیں بروئے کار لاتے رہے ۔ ماہرین کے مطابق اب امریکی سرپرستی میں اور اسکے ایماء پر بھارت پاکستان کی سلامتی کیخلاف کسی قسم کی سازش کرسکتا جس کا مودی سرکار اعلانیہ اظہار بھی کرتی نظر آتی ہے تو اسے پاکستان کی جانب سے ہی نہیں ‘ برادر ملک چین کی جانب سے بھی منہ توڑ جواب ملے گا کیونکہ سی پیک کے تناظر میں دونوں ملک ایک دوسرے کی سلامتی کے ضامن بن چکے ہیں ۔ اس صورتحال میں امریکہ پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی بھارتی سازشوں کو اسکی دفاعی امور میں معاونت کرکے تقویت پہنچاتا ہے تو پاکستان امریکہ کی جگہ چین کو اپنی قومی خارجہ پالیسی کا محور بنانے میں حق بجانب ہوگا ۔ دوسری جانب بھارت کشمیر کو مستقل ہڑپ کرنے کی اعلانیہ منصوبہ بندی کے ناطے پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہے جبکہ پاکستان اپنی شہ رگ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ اصولی موقف سے دست کش ہونے یا کسی قسم کی مفاہمت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ پالیسی بانی پاکستان قائداعظم نے 1948ء میں بھارتی فوجوں کے کشمیر میں داخل ہونے کے وقت کشمیر کو بھارتی شکنجے سے آزاد کرانے کے حوالے سے خود وضع کی تھی اور 1948ء میں جب اقوام متحدہ نے فلسطین پر ناجائز قابض اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا تو قائداعظم نے کشمیر پر اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر ہی اسرائیل کو تسلیم کرنے والی یواین قرارداد کا ساتھ نہ دیا اور اسکی مخالفت کی ۔ مبصرین کے مطابق یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان مظلوم کشمیریوں کی طرح فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ بھی شروع دن سے ڈٹ کر کھڑا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز تسلط ختم ہونے تک وہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے موقف پر قائم ہے جس کا گزشتہ روز وزیراعظم نے بھی دوٹوک الفاظ میں اعادہ کیا ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کے برادر سعودی عرب سمیت عرب دنیا کے ساتھ برادرہڈ کے ناطے بہت اچھے مراسم استوار ہیں تاہم ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے حوالے سے پاکستان نے اپنی قومی خارجہ پالیسی کا خود تعین کرنا ہوتا ہے اور اسی تناظر میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملہ میں کوئی اندرونی بیرونی دباءو قبول نہ کرنا پی ٹی آئی حکومت کی قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بہترین پالیسی ہے جو بہرصورت وزیراعظم عمران خان ہی کا کریڈٹ ہے ۔ ایسے میں حرف آخر کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام اور سبھی قومی اداروں کے باہمی تعاون سے کافی حد تک ملک کی معاشی ،سفارتی اور دیگر ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہورہی ہے مگر اس تمام تر صورتحال میں بہر کیف بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔