- الإعلانات -

سید علی گیلانی علیل، ان کے نام سے جعلی خطوط

14اگست کو سید علی گیلانی کو آزادی کی جدوجہد پر سب سے بڑے سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازاگیا ۔ سید علی گیلانی کیلئے یہ اعزاز حریت رہنماؤں نے وصول کیا ۔ پاکستان کی جانب سے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کا اعلیٰ اعزاز دینا بھارت سے برداشت نہیں ہو رہا ۔ لہٰذا تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کی بھارت کی ایک اور بھونڈی کوشش کی گئی ہے اور سید علی گیلانی کے نام سے جعلی خط جاری کیا گیا ہے جس میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ حریت رہنماؤں عبدالحمید لون اور راجہ خادم حسین کا کہنا ہے کہ سید علی شاہ گیلانی سخت علیل ہیں اور وہ بات چیت کرنے سے گریزاں ہیں ۔ بھارتی ایجنسیاں پہلے بھی تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کےلئے کئی جعلی خطوط جاری کر چکی ہیں ۔ حریت ترجمان کا کہنا ہے کہ حریت کانفرنس کو قابل اعتماد ذراءع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں سید علی گیلانی سے منسوب ایک اور جعلی اور من گھڑت خط جاری کرنے والی ہیں ۔ حریت کانفرنس نے پہلے ہی چند دن قبل جاری ہونے والے ایک جعلی خط کے بعد اس بارے میں خبردار کیا تھا ۔ اس جعلی خط کامقصد جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کے علاوہ سید علی گیلانی اور پاکستان کے درمیان خلا اور حریت کانفرنس سے وابستہ آزادی پسند جماعتوں کے درمیان انتشار اور بے یقینی کی فضا پیدا کرنا ہے ۔ ایسے مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر کو عنقریب منظر عام پر لایا جائے گا جو تحریک آزادی کے بھیس میں اس گھناءونے کام میں بھارتی ایجنسیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ کشمیری قوم ان بھارتی سہولت کاروں کو کبھی معاف نہیں کریگی ۔ بھارت اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوگا اور حریت کانفرنس اس طرح کے دباءو بڑھانے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہوکر اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی ترک نہیں کرے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے میں ناکامی کے بعد اب جدوجہد آزادی اور حریت قیادت کو بدنام کرنے کیلئے حریت چیئرمین سیدعلی گیلانی کے نام سے منسوب جعلی خط جاری کرنے کے اوچھے اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ حقیقت میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کچھ سازشی عناصر سید علی گیلانی کی مسلسل گھر میں نظربندی ،علالت اور پیرانہ سالی اور حریت قیادت کے مسلسل نظر بند ہونے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ حرکتیں کررہے ہیں تاہم کشمیری عوام ان گھناوَنی سازشوں میں سرگرم عناصر کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو تحریک آزادی کے حامیوں کی آڑ میں ایسے جعلی خطوط جاری کرتے ہیں ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ بزرگ کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی خرابی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات اور ان کی وصیت کے بعد کشمیر میں سخت سکیورٹی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے ۔ بھارت کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے حال ہی میں دو اعلی سطحی میٹنگز میں اپنے مجوزہ ’جی پلان‘ پر غور کیا ۔ سید علی گیلانی کی صحت انتظامیہ کی 2020 میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران بھی زیر بحث رہی ۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق سید علی گیلانی کی وفات کی صورت میں ان کے جنازے کے اجتماع کو قابو سے باہر ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ مودی حکومت کا منصوبہ ہے کہ گیلانی کی وفات پر پیداہونے والی صورتحال سے نمٹنے کےلئے ان کی وفات کا اعلان جلد نہیں کیا جائےگا ۔ مواصلاتی نظام معطل رکھا جائے گا ۔ اس سے عوام متحرک نہیں ہو پائیں گے ۔ گیلانی کو ان کے مقامی قبرستان میں دفن کیا جائے گا اور ان کے جنازے میں صرف رشتہ دار ہی شرکت کر سکیں گے ۔ ابھی گزشتہ دنوں وادی میں انٹرنیٹ سروسز بند تھیں جب سوشل میڈیا پر یہ افواہیں سامنے آئیں کہ 90 سالہ سید علی گیلانی کی صحت بگڑ گئی ہے ۔ حساس مقامات پر امن عامہ کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ سید علی گیلانی کی صحت کے حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ’کشمیر کے لوگ سید علی گیلانی کو بھارتی قبضے کے خلاف امید کی کرن کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ کشمیری عوام کے جذبے نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود جھکنے پر تیار نہیں ہیں ۔ ‘سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر 72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا آواز ہیں ۔ بزرگ کشمیری رہنما 2004 میں حریت کانفرنس کے میرواعظ گروپ سے بھارتی قیادت سے مذاکرات کے معاملے پر الگ ہو گئے تھے ۔ جس کے بعد انہوں نے تحریک حریت جموں و کشمیر کے نام سے الگ جماعت بنائی تھی ۔ جولائی 2016 میں جواں سال کشمیری رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد حریت کانفرنس گیلانی اور میرواعظ گروپس سمیت یاسین ملک کی جے کے ایل ایف نے ‘جوائنٹ ریززسٹنس لیڈرشپ’ کے نام سے اتحاد قائم کیا تھا ۔ اس اتحاد کا مقصد بھارتی قبضے کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا تھا ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کشمیری عوام کی متحد ہ آواز ہے اور سید علی گیلانی کی جر اَت مندانہ اور ذمہ دار قیادت میں اپنے مادر وطن کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی ۔ حریت کانفرنس سے وابستہ قائدین بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کیلئے سیدعلی گیلانی سے رہنمائی حاصل کررہے ہیں اور سیدعلی گیلانی ہی وہ مرکزی قوت ہیں جو تمام تر مشکلات کے باوجود جدوجہد آزادی جاری رکھنے کیلئے مشعل راہ ہے اور وہ سب ان کے سپاہی ہیں ۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ پوری کشمیری قوم کل جماعتی حریت کانفرنس کے ساتھ کھڑی ہے اور حریت کانفرنس مشکل کی اس گھڑی میں کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور سیدعلی گیلانی کی زندگی کو اپنا رہنماء اور رول ماڈل بناتے ہوئے جدوجہد آزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھیں گے ۔