- الإعلانات -

صدرمملکت کاپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے کلیدی خطاب

صدرمملکت عارف علوی کاپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب انتہائی کلیدی تھا انہوں نے قومی اوربین الاقوامی مسائل کواجاگرکرتے ہوئے کہاکہ اب ہندوتوامزیدنہیں چل سکتا، بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایکشن لیناچاہیے ، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں ظلم کے وہ پہاڑ توڑرکھے ہیں جن کومورخ سیاہ ترین الفاظوں سے تاریخ کاحصہ بنائے گا ۔ تما م تر ظلم وبربریت کے باوجود بھارت کشمیریوں کی آزادی کے جذبے کو دبانے میں ناکام رہاہے اور انشاء اللہ ناکام ہی رہے گا ، پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں بھائیوں کاساتھ دیتے ہوئے سیاسی وسفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھی ۔ اقوام متحدہ کافورم ہو،سلامتی کونسل ہو،او آئی سی ہویا کوئی اورفورم ،ہرجگہ پر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اوربھارتی مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا صرف مسئلہ کشمیرہی نہیں فلسطین کے مسئلے کو بھی کبھی پس پردہ نہیں چھوڑا ،دنیابھر میں جہاں بھی مسلمانوں کو مسائل درپیش ہیں پاکستان ان کی آواز بنا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ بھی اس حوالے سے اتحادکامظاہرہ کرے ۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی صدرمملکت نے واضح طورپرموقف اختیار کیاہے ۔ سعودی عرب کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ سعودی عرب ہمارا دیرینہ دوست ہے اور وہ رہے گا سعودی عرب سے مسلمانوں کاتعلق حرمین شریفین کی وجہ سے بھی انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔ امت مسلمہ کابچہ بچہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار ہے ۔ بین الاقوامی مسائل کے ساتھ ساتھ انہوں نے قومی سطح کے مسائل پربھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے جس طرح دہشت گردی کے مسئلے پرقابوپایا اس کی مثال نہیں ملتی پھروزیراعظم کے بہترین ویژن کے تحت دنیابھرنے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اوراس کی مدد سے پاکستان نے کوروناپر جس طرح قابوپایاپوری دنیانے اس کی مثال دی ۔ اس پر ہماری ڈاکٹرز برادری کے ساتھ ساتھ قوم اورمیڈیا بھی مبارکباد کا مستحق ہے کہ انہوں نے ہرطرح سے مکمل تعاون کیا لیکن ابھی تک کورونامکمل طورپرختم نہیں ہوا احتیاطی تدابیرکواپناناہوگا ۔ معیشت کے حوالے سے بھی انہوں نے کہاکہ اب یہ بہتری کی جانب گامزن ہے حکومتی پالیسیوں کے تحت بیرون سرمایہ کار بھی پاکستان میں دلچسپی کا اظہارکررہے ہیں اب انشاء اللہ نوکریوں کے مواقع بھی ملیں گے ملک بھی ترقی کرے گا ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے وزیراعظم عمران خان کے پالیسی بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے حامی ہیں ، کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ بھارت کی موجودہ ہندوتوا فاشسٹ پالیسی قائم نہیں رہے گی بلکہ کشمیر جلد آزاد ہو گا کورونا روکنے پر حکومت تعریف کی مستحق ہے یہ وبا نہ آتی تومعیشت کو چارچاند لگ جاتے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مستحکم ہیں اور رہیں گے ۔ اسرائل کو تسلیم نہیں کیاجائے گا پاکستان کے عوام سول عسکری قیادت تمام ادارے عدلیہ اور میڈیا ملک کی تعمیر و ترقی اور کرپشن کے خاتمے کےلئے ایک صفحے پر ہیں ۔ ہم سب قانونی، معاشی اور معاشرتی انصاف چاہتے ہیں ہم کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ ترقی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ حکومت اسمگلنگ کی روک تھام قرضوں اور پاورسیکٹرپر توجہ دے مشکل حالات کے باوجود معیشت کامیابی کی طرف گامزن ہے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو سالوں میں 20ارب ڈالر سے کم ہو کر 3ارب ڈالر کی سطح پر آگیا ہے ۔ آبادی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے قومی وسائل پر دباو بڑھ رہا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون سے کراچی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے گا، قوم نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور دیگر چیلنجوں پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا ہے ۔ یہ اچھا موقع ہے کہ ماضی قریب کے واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہوئے پچھلے ایک سال کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ کیا سیکھا، کیا کیا;238; اچھا یا برا کیا اور کیا کرناہے;238; اور مستقبل کے راستوں کا تعین کریں ۔ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی جبکہ ہ میں انسانیت کا سبق دینے والے ممالک تارکین وطن کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ کورونا وباء نے وطنِ عزیز کے تمام شعبہ ہائے زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں مگر قوم کے مثالی نظم و ضبط اور حکومت کی بہترین اسمارٹ لاک ڈاون پالیسی کی بدولت اس چیلنج پرکافی حد تک قابو پالیا گیا ہے ۔ اس وقت ہم انتہائی غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں ، ملک میں اچھی خبروں کو اجاگر نہیں کیا جاتا، قوم کی ہمت بڑھانے کی بجائے تنقید زیادہ کی جاتی ہے حالانکہ یہ قوم کے اٹھ کر کھڑے ہونے کا دور ہے، قو میں عزم سے بنتی ہیں ، قوموں کے پاس وژن ہو تو کامیابی ملتی ہے ۔ غریبوں کا خیال رکھنے پر اللہ مدد کرتا ہے ۔ دنیا کورونا وباکی روک تھام کیلئے پاکستان کے تجربات سے استفادہ کیلئے تیار ہے، کورونا وباکے دوران وزیراعظم عمران خان اپنی اسمارٹ لاک ڈاون کی پالیسی پر قائم رہے ۔ سالوں سے التواء کے شکار دیامر بھاشا ڈیم پر حکومت نے کام کا آغاز کر دیا ہے، دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور 16500افراد کو روزگار مہیا ہو گا ۔ قومی اہمیت کے منصوبے ایم ایل ون کی توسیع اور بہتری کیلئے ایکنک نے حال ہی میں منظوری دی ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کی مد میں سالانہ 50000 سے زائد اسکالرشپس دے رہی ہے یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی سکالرشپ سکیم ہے ۔ یکساں قومی نصاب سے ملک میں قومی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو گا ۔ آبادی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے ہمارے قومی وسائل پر دباءو بڑھ رہاہے اور اس سے زندگی کے اہم شعبے متاثر ہو رہے ہیں ۔ قرآن حکیم میں ماءوں کےلئے حکم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں ۔ صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے حسب روایت احتجاج کیا اورکالی پیٹیاں باندھ کرایوان میں داخل ہوئے،صدرنے کہاکہ میں نے سوچاتھا کہ اس سال اپوزیشن خطاب آرام سے سنے گی لیکن ایسانہیں ہوا ۔ ایسے مواقع پر سیاسی ہم آہنگی کامظاہرہ انتہائی ضروری ہے ۔ جب مسائل ہونے کی طرف جارہے ہوں جمہوریت پنپ رہی ہوتو پھر اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ سیاسی پختگی کامظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کرے ۔

بھارتی مظالم تشویش کا باعث

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عالمی برادری کیلئے شدید تشویش کا باعث ہیں ۔ بھارت شروع دن سے ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کیخلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے مگر گزشتہ برس5 اگست کے بعدتواس نے انتہا ہی کر دی ہے ۔ وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد 80 لاکھ کشمیری محصور ہو کر رہ گئے ۔ ایک سال میں خواتین و بچوں سمیت 214 افراد کو شہید کر دیا گیا ۔ بھارتی سرکار نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی تمام اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں سے بالکل بھی مخلص نہ ہے ۔ بی جے پی آر ایس ایس کے نظریہ پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے پر تلی ہے جو خود اس کےلئے بہت بڑا خطرہ ہے ۔ بھارتی اقدامات سے ان کا سیکولر اور جمہوری چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے اور یہ ہندوتوا سوچ کے تحت بگڑ گیا ہے ۔ عوام بھارتی سرکار کی پالیسی سے ناخوش ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھارت پر تنقید کر رہے ہیں ۔ گزشتہ روز ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے،عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کا مواخذہ کرے،وزیر خارجہ کے دورہ چین کا سعودی عرب سے کوئی تعلق نہیں ۔ سعودی اتحاد میں راحیل شریف کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،پاک سعودی عرب تعلقات پر کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑا،اسرائیل کو تسلیم کرنیکی کوئی تجویز نہیں ہے، ۔ کلبھوشن کے معاملے پربھارت کو تیسری قونصلر رسائی کی پیشکش کر رکھی ہے، افغان سرزمین پاکستان دشمن سرگرمی میں استعمال نہیں ہونی چاہیے ۔ بھارتی حکومت اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ، پاکستان او آئی سی کے کشمیر پر کانٹیکٹ گروپ میں سعودی عرب کے اہم کردار کو اہم سمجھتا ہے،شاہ محمودسے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کا رابطہ ہوا ۔ وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔