- الإعلانات -

یوم رد استحصال کشمیر

پاکستان کے تمام قومی اخبارات نے یوم استحصال کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے خبروں کا کالموں اور اشاعت خاص کا اہتمام دو ہفتوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا قومی اخبارات کے اداریوں اور زیادہ تر کالم نگاروں کی نگارشات کا لب لباب بھی یہی ہے جو بلا کم و کاست پیش خدمت ہے بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں ہونیوالا اجلاس کوشش کے باوجود نہ روک سکا ۔ اجلاس میں ایک بار پھر بھارت کے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا اور اجلاس میں بھارت کے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر (مقبوضہ کشمیر) اور شام کی صورتحال پر رپورٹ پیش کی گئی ۔ ترجمان دفتر خارجہ کیمطابق اجلاس پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا ۔ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کشمیری اپنے حوصلے بلند رکھیں ، پاکستان ساتھ کھڑا ہے ۔ انشاء اللہ کشمیریوں کی فتح ہوگی ۔ بھارت میں اہل علم اور ذی شعور لوگوں کی کمی نہیں تاہم جمہوریت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں ۔ بھارتی ہندوءوں کے دل و دماغ میں شدت پسند ہندو قیادتوں نے مسلمانوں اور پاکستان کیخلاف دشمنی اور نفرت کے جذبات پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کانگرس کی اندراگاندھی نے پاکستان کے غداروں کی مدد سے پاکستان دولخت کیا اور دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا متکبرانہ ’’بھگوانی دعویٰ‘‘ کردیا اور مودی نے پاکستان توڑنے میں حصہ لینے کا دعویٰ بھی کر دیا ۔ یہ باتیں مودی نے بنگلہ دیش میں کھڑے ہو کر کی تھیں ۔ دو قومی نظریہ ڈوب گیا ہوتا تو بنگلہ دیش آزاد مسلمان ملک نہیں ، اکھنڈ بھارت کے پرچم تلے آچکا ہوتا ۔ آج یہی بنگلہ دیش مودی سے متنازعہ علاقے بلاتاخیر چھوڑنے کا مطالبہ کررہا ہے اور وزیراعظم بنگلہ دیش مودی کا ڈھاکہ میں استقبال کرنے سے انکار کررہی ہیں ۔ مودی ہندو شدت پسندانہ جذبات کو مہمیز دیتے ہوئے دوسری ٹرم میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کی پوزیشن میں آئے اور دو تہائی اکثریت ملتے ہی ایسے فیصلے کئے جو بھارت کی سبکی اور خطے میں بدامنی کی آگ کو مزید بھڑکانے کا باعث بنے ۔ مودی نے اپنی جہالت کی بنیاد پر ان مضمرات اور خرابیوں پر غور نہیں کیا تھا جن کا سامنا آج انکے کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے کے اقدام پر بھارت کو ایک سال سے کرنا پڑرہا ہے ۔ گھس کے ماریں گے‘ سرجیکل سٹرائیک کرینگے‘ کشمیریوں کو باندھ کر رکھ دیں گے ۔ یہ مودی کے دعوے تھے مگر گھس کے کیا مارا‘ سرجیکل سٹرائیک کیا کی‘ پوری دنیا کو دو جہاز گروانے‘ ایک پائلٹ کو مروانے اور دوسرے کو گرفتار کرانے کے عمل سے پتہ چل گیا ۔ مودی کی عاقبت نا اندیشانہ پالیسیوں ہی کے موجب لداخ میں چینی فوج نے بھارت کا داغدار چہرہ مزید کالا کر دیا ۔ 60 کلو میٹر کے متنازعہ علاقے پر چین کا تسلط ہے‘ ان علاقوں کو خالی کرانے کیلئے مودی سرکار گھس کے مارنے کی بات کرتی ہے نہ سرجیکل سٹرائیک کے بارے میں غور کرتی ہے ۔ نیپال اور بھوٹان کو بھارت کی طفیلی ریاستیں سمجھا جاتا تھا‘ سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی اسکے زیراثر گردانے جاتے تھے مگر آج یہ چھوٹے اور بھارت کی نظر میں ناتواں ممالک بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں ۔ بھوٹان اور بنگلہ دیش نے اپنے علاقوں پر کلیم ظاہر کیا جبکہ نیپال نے اسی طرح کا نقشہ جاری کر دیا جیسا بھارت نے دو ماہ قبل جاری کیا تھا اور پاکستان نے بھی جواب میں 4 اگست کو جاری کیا ہے ۔ بھارت کے اندر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ عروج پر ہے ۔ یہ سب مودی کی حماقتوں اور جہالت پر مبنی پالیسیوں اوربصیرت کی پستی کا نتیجہ ہے ۔ گزشتہ سال 5 اگست کو اس نے مقبوضہ وادی پر اس کی خصوصی حیثیت ختم کرکے شب خون مارا اور کشمیریوں کو شدید ترین پابندیوں میں جکڑ دیا جس سے انسانی المیہ نے جنم لیا جو شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاں ایک سال سے کرفیو نافذ ہے وہیں آزاد میڈیا اور غیرجانبدار انسانی حقوق کی تنظیموں کے داخلے پر پابندی ہے ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں انتہا کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ وادی میں نہتے‘ مظلوم اور معصوم کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم دنیا سے اوجھل رکھنے کی بھارت نے اپنی سی کوشش کی ہے مگر بہت ہی کم ان مظالم کا حصہ دنیا کے سامنے آتا ہے ۔ وہ بھی انسانیت کو جھنجوڑنے اور رونگٹے کھڑے کردینے کیلئے کافی ہے ۔ اس پر عالمی برادری کا شدید ردعمل سامنے آیا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ایک سال میں تین بار اس معاملے پر بات کی‘ صدر ٹرمپ ثالثی کی پیشکشوں کا اعادہ کرتے رہے ہیں گو یہ معاملہ ثالثی نہیں انصاف، اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے مگر یہاں بھی بھارت کی رعونت سامنے آتی یوم استحصال کے موقع پر دنیا بھر کو یہ باور کراگیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کے پہاڑڈھا رکھے ہیں وادی میں صرف بنیادی حقوق کا استحصال نہیں ہورہا بلکہ وہاں پر نہتے معصوم کشمیریوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جارہا ہے،بےگناہ کشمیریوں کے لہو سے سڑکیں سرخ ہیں ، زندگی ارزاں ہوچکی ہے،پوری وادی پابند سلاسل ہے، پاکستان ہر موقع پر،ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کررہا ہے لیکن بھارت ہر فورم سے راہ فرار اختیار کررہا ہے ۔ آج دنیا میں جو امن کے پیامبربنے ہوئے ہے ان کیلئے وادی کے حالات ایک سوالیہ نشان ہیں ، اقوام متحدہ کی قراردیں موجود ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہورہا، مودی نے ظلم کی انتہا سکر رکھی ہے ۔ کشمیریوں کیساتھ وہ سلوک ہورہا ہے جو ہٹلر کے دور میں باغیوں نے یہودیوں کیساتھ کیا تھا ۔ مودی کے ظلم دیکھ کر زمین بھی کانپ رہی ہے، آسمان بھی لرز رہا ہے، لیکن اگر مودی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبا لیا جائے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے ۔ آرٹیکل370 ختم کرکے بھارت نے اپنے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر کو کھلی جیل میں بدل دیا ہے ۔ وہاں آٹھ لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں ، ایک سال میں کشمیر کی معیشت کو تباہ کردیا گیا ۔