- الإعلانات -

ہندوستان اپنی مکروہ حرکتوں سے باز نہیں آیا

بلوچستان میں ایک بار پھر دہشت گردوں اور ہندوستان کے ایجنٹوں نے اپنی کاروائیاں تیز کر دی ہیں ۔ آئے روز ایف سی کے قافلوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ ایف سی کے جوانوں کا خون بہایا جا رہا ہے ۔ چند ہفتے پہلے بھی تربت (کیچ) میں ایف سی کے جوانوں کو شہید اور زخمی کیا گیا ۔ میں نے پہلی دفعہ 2015ء کے اوائل میں بلوچستان کے دورے شروع کئے ۔ پھر دو سال مسلسل بلوچستان کے اونچے پہاڑوں ، ریگستانوں ، جنگلوں ، سنگلاخ چٹانوں ، قدرتی اور خود ساختہ غاروں کو دیکھنے، حالات کو سمجھنے ، وہاں کی مقامی آبادی کے حالات دیکھنے، خیالات سننے اورپرکھنے کا بڑے قریب سے موقع ملا ۔ آج میں بڑے فخر سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ 90فیصد بلوچستان میں بسنے والے لوگوں سے زیادہ میں بلوچستان کے حالات سے آگاہ ہوں ۔ وہاں پر بسنے والے لوگ اپنے علاقے یا پھر صوبائی دارالحکومت کوءٹہ کے علاوہ چند ایک ضلعی کوارٹر کے شہروں کے حالات سے واقف ہونگے وہ پورے بلوچستان کے حالات سے آگاہ نہیں ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے میڈ یا ایکسپرٹس بھی اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کے ائیر کنڈیشنڈ کمروں سے اٹھ کر ٹی وی سکرین پر بیٹھ کر بلوچستان کا انتہائی خوفناک نقشہ پیش کرتے رہے ۔ میں بھی جب کوءٹہ ائیرپورٹ سے اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوا تو مجھے تجزیہ کاروں کی گفتگو کو سامنے رکھ کر ایسے لگ رہا تھا کہ میں منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے اغواء ہو جاؤں گا ۔ لیکن میں گھر پہنچ کر باہر نکلا ۔ ریاستی بلوچستان کے دورے شروع کئے ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ بلوچستان کے لوگ انتہائی محبت کرنے والے اور پر امن لوگ ہیں لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اگر یہ پر امن ہیں تو پھر حالات کہاں خراب ہیں اور کون کر رہا ہے ۔ کیونکہ بعض علاقے زیادہ بدنام تھے کہ وہاں زیادہ جرائم ہوتے ہیں ۔ ایسی بھی بات نہیں تھی ہر علاقے کے لوگ بہت اچھے بلکہ بہت ہی اچھے تھے ۔ ہر علاقے کے لوگوں سے تعلقات بھی بنے اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ اسلام آباد تشریف لاتے ہیں تو مجھے ہی میزبانی کا شرف بخشتے ہیں جس کو میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں ۔ اسی طرح اگر میں بلوچستان کے کسی علاقے میں جاؤں تو وہ اپنی آنکھیں بچھا دیتے ہیں ۔ پھر ایک خیال آتا ہے کہ اگر دونوں طرف اتنی محبت ہے تو پھر خرابی کہاں پر ہے ۔ آخر کچھ تو ہے اور کہیں کہیں تو اس کے اثرات ہیں ۔ ہاں بالکل ہیں ضرور ہیں ۔ میں پہاڑوں میں جا کر فراریوں سے ملا اور میں ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے والے فراریوں سے بھی ملا ۔ ان کے خاندان کے لوگوں اور قریبی دوستوں سے بھی ملا ۔ انتہا پسند لوگوں اور حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے نوابوں ،سرداروں کے خیالات کو سننے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا ۔ دہشت گردی کے مرض کی مکمل تشخیص کرنا چاہتا تھا کہ بیماری کی اصل جڑیں کہاں سے شروع ہوتی ہے جس تک پہنچنے کےلئے ہمارے تجزیہ کاروں میں سے98فیصد لوگوں نے کبھی کوشش ہی نہیں کی یا اگر کی ہے تو ان کی یا میری سوچ سمجھ کے مطابق یہ باتیں پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ وہاں کے حالات خراب کرنے میں بذاتِ خود ہندوستان اور ہندوستان کے پیسے پر چلنے والی دو چار تنظیموں کے کارندے بلوچستان کے سادہ لوح لوگوں کے جذبات بھڑکا رہے ہیں ۔ بدقسمتی سے جو نواب یا سردار بھی ہندوستان سے پیسہ لینے میں پیش پیش ہیں ان کی شروع سے یہ پالیسی رہی کہ دونوں طرف کے لوگوں کو بلیک میل کرو ۔ حکومت کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگر ہم سیاسی کردار ادا نہ کریں تو پہاڑوں پر بیٹھے ہوئے لوگ بلوچستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ۔ ادھر فراریوں کو یہ تاثر دیا کہ آپ کے ٹھکانوں کو ہم نے محفوظ کر رکھا ہے ورنہ ایف سی یا فوج کب تک تباہ کر چکی ہوتی اوردونوں طرف غلط فہمی پھیلا کر اقتدار میں بیٹھتے رہے ۔ دوسری طرف وہ لوگ جو ڈائریکٹ ہندوستان کے کارندے ہیں ۔ ان نوابوں میں سے ایک بھائی حکومت میں یا حکومت کا اتحادی بنا بیٹھا ہوتا ہے اور دوسرا ہندوستان سے پیسے لے کر دہشت گردوں کو فنڈنگ کر رہا ہوتا ہے ۔ کالم کا دامن وسیع ہو تا جا رہا ہے میں اپنے اصل موضوع پر آنا چاہتا ہوں کہ تربت (کیچ) بلوچستان کے قافلے پر چند دن پہلے دہشت گردوں نے حملہ کر کے تین صوبیدار سمیت جوانوں کو شدید زخمی کر دیا ۔ عین اسی جگہ ایف سی فورس کے جوانوں نے جاکر ناکہ بندی شروع کی ۔ اسی دوران وہاں کی لوکل آبادی کا ایک نوجوان حیات بلوچ بھی آیا ۔ کسی بات پر تلخی بڑھی تو ایف سی کے نائیک شادی اللہ نے فائر کھول دیا ۔ جس سے حیات بلوچ زخموں کی تاب نہ لا کر خالقِ حقیقی سے جا ملا ۔ نائیک شادی اللہ کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا ۔ اس کی اطلاع جب آئی جی ایف سی جنرل سرفراز علی کو ہوئی تو انہوں نے دو گھنٹے کے انتہائی قلیل وقت میں ملزم کو پولیس کے حوالے کر کے قانونی کاروائی کی درخواست کی ۔ اس کے فوری بعد وہ حیات بلوچ کے گھر پہنچے ۔ افسوس کے ساتھ مرحوم حیات بلوچ کے لئے دعائے مغفرت کی ۔ میرا جہاں تک اندازہ ہے جہاں تک بھی ہو سکا جنرل سرفراز علی مرحوم حیات بلوچ جیسے لوگوں کو انصاف دلانے کی پوری پوری کوشش کریں گے ۔ اب الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے لوگوں کے علاوہ ہر محب وطن بلوچستانی اور محب وطن پاکستانی کا فرض بنتا ہے کہ ہندوستان کے کشمیر میں مظالم اور بلوچستان میں کھلم کھلا مداخلت کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان کارِ زار میں شامل ہو کر ظالم اور مکار دشمن کا مقابلہ کریں ۔ ملک دشمن سوشل میڈیا پر رات دن افواہیں پھیلا کر حالات کو خراب سے خراب تر کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اب یونیورسٹیوں اور کالجز کے طالبعلم بلوچستان کا مثبت پہلو سامنے لانے کےلئے شبانہ روز سوشل میڈیا کا استعمال کر کے ہندوستانی سوشل میڈیا کو ناکام اور ناکارہ بنا دیں ۔ ایف سی اہلکارکے فائر سے وفات پانے والے حیات بلوچ کو سوشل میڈیا بے پناہ کوریج دے رہا ہے ۔ لیکن ایف سی کے تین جوانوں پر حملہ کر کے شدید زخمی کرنے والوں کا نام نہیں ۔ وہ تینوں بھی کسی کے بیٹے تھے ۔ کسی کے بھائی تھے اور کسی کے باپ تھے ۔ میری گزارش ہے کہ محب وطن بلوچستانی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں اور ہندوستان کی چالوں اور اس کے کارندوں سے لوگوں کو آگاہ کریں ۔ ایف سی ساوَتھ کے ترجمان ایف سی جوان نائیک شادی اللہ کی انفرادی غلطی کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ خدا کےلئے اس کو ایک شخص کی انفرادی غلطی ہی کہا جائے ۔ یہ ایف سی کی بطور ادارہ یا اس کے سربراہ میجر جنرل سرفراز علی کی قطعاً پالیسی کا حصہ نہیں ۔ پاکستان مخالف قوتیں مخالفت میں سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں ۔ اس زہر آلود پروپیگنڈے کا اثر زائل کرنے کےلئے ہر محبِ وطن بلوچستانی اور پاکستانی ہندوستان کے مکروہ چہرے پر طمانچہ مارنے کے انداز میں اپنے سوشل میڈیا کا استعمال کریں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔