- الإعلانات -

بھارت سے کشمیر ی الحاق کےلئے ہری سنگھ پر برطانوی دباوَ

برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ تمام ریاستیں ، راجوڑے خود فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت میں ۔ ایک تیسری صورت بھی تھی کہ آیا وہ آزاد خود مختار رہنا چاہتے ہیں ۔ بہرحال یہی امید کی جا رہی تھی کہ تمام ریاستیں دونوں ممالک میں سے الحاق کےلئے کسی ایک کا انتخاب ضرور کریں گی ۔ برطانیہ کے زیر تسلط ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کشمیر برطانوی سرپرستی میں ایک خود مختار رجواڑا یا ریاست تھی ۔ متحدہ ہندوستان کے تمام راجواڑے برطانوی ہندوستان کا حصہ تصور نہیں کئے جاتے تھے اور ان کے عوام کو بھی برطانوی عوام کا درجہ حاصل نہ تھا ۔ اسی لئے یہاں پر برطانیہ کو قانون سازی کا حق بھی حاصل نہ تھا ۔ البتہ دفاع اور خارجہ پالیسی کے تمام اختیارات برطانیہ کے پاس تھے ۔ برطانیہ کو روس اور افغانستان سے حملہ آوروں کا خطرہ تھا ۔ کیونکہ ان سے قبل ہندوستان میں جتنے بھی حملہ آور آئے وہ افغانستان کی سرزمین سے ہی آئے ۔ اسی لئے برطانیہ نے کشمیر کو بطور بفر ریاست رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ لہذا ریاست کشمیر کو دیگر ریاستوں کے برعکس زیادہ خودمختیاری اور مراعات حاصل تھیں ۔ اسی لئے کشمیر میں 1885 میں کوئی مستقل برطانوی ’ریزیڈنٹ‘ نہیں ہوا کرتا تھا ۔ کشمیر کا اپنا آئین ، اپنے قوانین اور اس کے برطانیہ اور ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ متعدد معاہدے بھی تھے ۔ ہندوستان پر برطانوی راج کے آخری دنوں میں کشمیر کی خودمختاری کو واضح طور پر تسلیم کیا جا چکا تھا ۔ تین جون 1947 کے ایک بیان میں اس بات کو دہرایا گیا کہ رجواڑوں میں اختیارات اور فراءض کی منتقلی نہیں ہوگی ۔ 16 جولائی 1947 کو ہندوستان اور برما کے امور کے وزیر لارڈ لسٹوویل نے برطانوی پارلیمان کے ایوانِ بالا میں کہا ’اس لمحے سے برطانوی تاج کے نمائندے کی طرف سے کی گئی تعیناتیاں ، ان کے فراءض سب ختم ہو جائیں گے اور ریاستیں خود اپنی قسمت کی مالک ہوں گی ۔ وہ خود اس بات کا انتخاب کریں گی کہ وہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتی ہیں یا پھر اکیلے کھڑے ہونا چاہتی ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمام رجواڑوں کو دونوں میں سے ایک نئے ملک میں اپنا صحیح مقام مل جانا چاہیے ۔ ‘1947 کے انڈین انڈپنڈنس ایکٹ کے تحت پندرہ اگست 1947 کو کشمیر پر سے برطانوی بالادستی ختم ہو گئی اور چونکہ کشمیر نے پندہ اگست سے پہلے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کیا، تو وہ قانونی طور پرآزاد ہو گیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ آزاد ہی رہنا چاہتے تھے ۔ تقسیم ہند کی تمام قانون سازی اور برطانوی حکومت کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ جیسے ہی ہندوستان میں برطانوی سامراج ختم ہوا ۔ کشمیر مکمل طور پر آزاد ہو گیا اور اس بات کو بھارت اور پاکستان دونوں نے تسلیم کیا ۔ یعنی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ 15 اگست 1947 سے 26 اکتوبر 1947 تک، جب کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ہوا، کشمیر مکمل طور پر آزاد تھا ۔ تقسیم ہند کے وقت صرف تین ایسے رجواڑے تھے جنھوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ الحاق کریں گے یا نہیں ۔ کشمیر، جوناگڑھ اور حیدرآباد دکن ۔ کشمیر سٹریٹجک لحاظ سے اہم تھا اور ساتھ ساتھ کشمیر کے ساتھ نہرو کا ’جذباتی تعلق‘ بھی تھا کیونکہ وہ ان کے آباوَ اجداد کا وطن تھا ۔ اس کے بعد کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کرانے کے لیے کافی شدید لابنگ کی گئی ۔ یہ بات نہرو کے کشمیر کے ساتھ جذباتی تعلق کے بارے میں ماوَنٹ بیٹن کے اپنے تبصرے سے بھی واضح ہو جاتی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ’مجھے پتا چلا ہے کہ جب مجھ سے ملاقات سے پہلے پٹیل نے نہرو کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ ٹوٹ کر رو پڑے، اور کہا کہ اس وقت ان کے لیے کشمیر سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں ۔ ‘یہ بات صاف ہے کہ اس ’جذباتی تعلق‘ اور ماوَنٹ بیٹن کے ساتھ قریبی دوستی کا ’ڈرانے اور مجبور کرنے‘ کی اس مہم میں اہم کردار تھا جس کے ذریعے مہاراجہ ہری سنگھ کو بھارت کے ساتھ الحاق پر مجبور کیا گیا ۔ اس مقصد سے لارڈ ماوَنٹ بیٹن نے 18سے 30 جون 1947 کے دوران کشمیر کا دورہ کیا جہاں انھوں نے مہاراجہ ہری سنگھ اور ان کے وزیر اعظم آر سی کاک کے ساتھ کئی ابتدائی ملاقاتیں کیں ۔ چونکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے آزاد رہنے کے لیے اپنا ذہن بنا لیا تھا اسی لئے انہوں نے ماوَنٹ بیٹن سے مزید ملاقاتوں سے کنارہ کشی کی تاکہ انہیں الحاق کے بارے میں بات نہ کرنی پڑے ۔ 1947 مہاراجہ ہری سنگھ کے لیے ایک مشکل سال تھا ۔ مقامی جماعتوں کی طرف سے دباوَ، پونچھ میں خانہ جنگی اور اس کے اوپر برطانوی ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں اور وائسرائے کی طرف سے دباوَ ۔ ماوَنٹ بیٹن نے نہرو کی طرف سے مہاراجہ کے لیے کافی جارحانہ لہجے میں ’کشمیر پر ایک نوٹ‘ بھی لکھا کہ اگر مہاراجہ بھارت کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہو جاتے ہیں تو بہتر ہے ۔ اگر کشمیر کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کی طرف جھکانے کی کوشش کی گئی تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا ۔ کشمیر کی بھارت کی آئین ساز اسمبلی میں شمولیت فطری اور قدرتی ہے ۔ اٹھارہ جون 1947 کو جب نہرو نے مہاراجہ کی اجازت کے بغیر، شیخ عبداللہ سے یکجہتی کے ارادے سے کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تو انہیں دومل میں مہاراجہ کے احکامات پر گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ دو دن تک حراست میں رہے ۔ یعنی 1947 تک بھی مہاراجہ کے پاس اس قدر اختیار تھا کہ وہ اپنے احکامات پر جس طرح چاہتے عمل کروا سکتے تھے اور برطانوی حکومت کا ان پر کوئی کنٹرول نہیں تھا ۔ نہرو کی گرفتاری کے بعد ماوَنٹ بیٹن نے مہاراجہ سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ نہرو کو کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے ۔ تاہم مہاراجہ نے انکار کر دیا ۔ ماوَنٹ بیٹن نے مشورہ دیا کہ ’اگر گاندھی کشمیر جائیں تو ان کی شخصیت کے مذہبی رنگ کی وجہ سے اس کے منفی پہلووں کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ گاندھی کشمیر گئے اور چار اگست 1947 تک وہاں رہے جس دوران انہوں نے مہاراجہ اور ان کے پورے خاندان سے ملاقاتیں کیں ۔ اس دوران مہاراجہ کو بھارت کے ساتھ الحاق پر مجبور کیا جا رہا تھا ۔ ان اقدامات سے واضح ہو جاتا ہے کہ وائس رائے ہوتے ہوئے بھی ماوَنٹبیٹن بھارت کے فائدے کے لیے کام کر رہے تھے ۔