- الإعلانات -

پاکستان میں خوشحالی کا دور شروع ہونے والا ہے

وزیراعظم عمران خان نے ملک کی اقتصادی حالت بدلنے‘ ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے اور عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ روٹی روزگار کے مسائل حل کرنے کے جس جذبے اور عزم کے ساتھ اقتدار سنبھالا انہیں اپنے منشور اور ایجنڈ ے پر عملدرآمد کیلئے فری ہینڈ کی ضرورت تھی مگر بدقسمتی سے انہیں ملکی معیشت کی انتہائی دگرگوں صورتحال میں اقتدار سنبھالنا پڑا چنانچہ وہ فوری طور پر عوام کو روزمرہ کے مسائل سے نجات نہ دلاسکے جبکہ معیشت کو سنبھالنے کیلئے اختیار کی گئی سخت مالیاتی پالیسیوں کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ چنانچہ ان سے اپنے مسائل کے فوری حل کی توقعات رکھنے والے عوام میں مایوسی کی فضا پیدا ہونا فطری امر تھا ۔ وزیراعظم نے اس صورتحال میں بھی بہتری کی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور وہ ادارہ جاتی اصلاح احوال اور عوام کے روٹی روزگار کے مسائل کے حل کی کوششیں بروئے کار لاتے رہے ۔ انکی حکومت کو اس دوران مافیاز کی ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کا بھی سامنا کرنا پڑا جو مہنگائی میں کمی کے انکے اقدامات کو ناکام بنانے کیلئے آٹا‘ چینی‘ گھی اور ادویات کی قلت پیدا کرکے نرخوں میں خود بھی اضافہ کرتے رہے اور اس کیلئے حکومت کو بھی مجبور کرتے رہے ۔ وزیراعظم نے اس مافیا سے ہار نہیں مانی اور وہ اصلاح احوال میں مگن رہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ کپتان کی پالیسیاں اور اقدامات شفاف ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر عمل کیا جائے ایک اور قومی اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اب امریکی سر پر ستی میں اور اسکے ایماء پر بھارت پاکستان کی سلامتی کیخلا ف کسی قسم کی سازش کریگا جس کا مودی سرکار اعلانیہ اظہار بھی کرتی نظر آتی ہے تو اسے پاکستان کی جانب سے ہی نہیں ‘ برادر چین کی جانب سے بھی منہ توڑ جواب ملے گا کیونکہ سی پیک کے تناظر میں دونوں ملک ایک دوسرے کی سلامتی کے ضامن بن چکے ہیں ۔ اس صورتحال میں امریکہ پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی بھارتی سازشوں کو اسکی دفاعی امور میں معاونت کرکے تقویت پہنچاتا ہے تو پاکستان امریکہ کی جگہ چین کو اپنی قومی خارجہ پالیسی کا محور بنانے میں حق بجانب ہوگا ۔ بھارت کشمیر کو مستقل ہڑپ کرنے کی اعلانیہ منصوبہ بندی کے ناطے پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہے جبکہ پاکستان اپنی شہ رگ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ اصولی موقف سے دست کش ہونے یا کسی قسم کی مفاہمت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ یہ پالیسی بانی پاکستان قائداعظم نے 1948ء میں بھارتی فوجوں کے کشمیر میں داخل ہونے کے وقت کشمیر کو بھارتی شکنجے سے آزاد کرانے کے حوالے سے خود وضع کی تھی اور 1948ء میں جب اقوام متحدہ نے فلسطین پر ناجائز قابض اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا تو قائداعظم نے کشمیر پر اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر ہی اسرائیل کو تسلیم کرنے والی یواین قرارداد کا ساتھ نہ دیا اور اسکی مخالفت کی ۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کی طرح فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ بھی شروع دن سے ڈٹ کر کھڑا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز تسلط ختم ہونے تک وہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے موقف پر قائم ہے جس کا چند روزقبل وزیراعظم عمران خان نے بھی دوٹوک الفاظ میں اعادہ کیا ہے ۔ یواے ای کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد اگرچہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے اندرونی اور بیرونی دباءو بڑھ گیا ہے تاہم پاکستان کیلئے اسرائیل کو تسلیم کرنا اس حوالے سے بھی ناممکنات میں شامل ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پاکستان کے کشمیر کاز کی نفی ہوگی ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کے برادر سعودی عرب سمیت عرب دنیا کے ساتھ برادرہڈ کے ناطے بہت اچھے مراسم استوار ہیں تاہم ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے حوالے سے پاکستان نے اپنی قومی خارجہ پالیسی کا خود تعین کرنا ہوتا ہے اور اسی تناظر میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملہ میں کوئی اندرونی بیرونی دباءو قبول نہ کرنا پی ٹی آئی حکومت کی قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بہترین پالیسی ہے جو بہرصورت وزیراعظم عمران خان ہی کا کریڈٹ ہے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اب وزیراعظم نے ملکی معیشت کواوپر اٹھانے کیلئے کمر کس لی ہے اور نوجوانوں کو اسٹیک ہولڈر بنانے کے لیے پروگرام ترتیب دے لیا ہے ۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے معاون خصوصی عثمان ڈار اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے گفتگو کرتے ہوئے کی ۔ چند دنوں میں 30 ہزار سے زائد نوجوانوں نے رقم کے حصول کیلئے درخواستیں دی ہیں ۔ مزید 53 ارب روپے سے زائد رقم کے حصول کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو ہر وہ سہولت دیں گے جس سے وہ روزگار کے مواقع حاصل کریں ۔ پروگرام کے دوران رقم کی تقسیم کے عمل پر مکمل نظر رکھیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ شفافیت اور میرٹ پر کسی سطح پر بھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ۔ وزیراعظم نے پروگرام میں پیش رفت پر ماہانہ بریفنگ لینے کا بھی فیصلہ کرتے ہوئے معاون خصوصی عثمان ڈار کو ہر ماہ بعد جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے پروگرام میں اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں سیاحت کے فروغ کےلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ہوا ۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک میں سیاحت کے فروغ اور اس حوالے سے بین الصوبائی روابط اور کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کے لئے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سیاحت کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ این سی سی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں ، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں ٹورازم اتھارٹی کے قیام کے عمل کو جلداز جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے، سیاحتی مقامات پر ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے فوری طور پر مہم کے آغاز ۔ سیاحتی مقامات کے حوالے سے جامع اور مفصل ویسٹ مینجمنٹ پلان کی تشکیل ۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک کے طول و ارض میں پھیلے سیاحتی مقامات کو اس انداز میں ترقی دینا ہے کہ وہ ہماری تہذیب اور ہماری سماجی اقدار کی عکاسی کریں اور سیاحوں کےلئے سیاحت کی معیاری سہولیات میسر آئیں ۔ مقامی آبادیوں کےلئے نوکریوں اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ۔ سیاحتی مقامات کے فروغ اور تعمیرو ترقی کےلئے حکمت عملی و منصوبہ بندی کا فوری طور پرآغاز کیا جائے ۔ وزیراعظم پاکستا ن نے اب جو اقدامات اٹھائے ہیں اور ان کی ٹیم نے بھی ان کا ساتھ دیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو جائے گا اب ان کی باڈی لینگویج سے یوں لگ رہا ہے کہ وہ اب اپنی جماعت میں سے بھی کسی کو معاف نہیں کریں گے اور جو جرم کا ارتکاب کرےگا وہ ضرور اپنے انجام کو پہنچے گا اب ٹیم کو چاہیے کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لے ورنہ عمران خان کے شکنجے سے اب وہ نہیں بچ سکیں گے عوام کو عمران سے اب ایسی ہی توقع ہے اللہ تعالیٰ اس غیور رہنما کی حفاظت فرمائے ۔ (آمین)