- الإعلانات -

یہ نصف صدی کا قصہ ہے ۔ پاک چین دوستی

یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1965کی پاک بھارت جنگ کے دنوں میں ایک پنجابی ملی نغمہ خاصا مشہور ہوا جس کے بول یہ تھے کہ’’چین و انڈونیشیا ایران تیرے نال نے،اللہ دا حبیب تے قرآن تیرے نال نے‘‘ماہرین کے مطابق شاید اسی ایک بات سے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاک چین دوستی میں ایک اور موڈ تب آیا جب کورونا وباء کے عین پھیلاءو کے دنوں میں دونوں ممالک کے وزارئے خارجہ میں اہم دو طرفہ ملاقات ہوئی اور علاوہ ازیں چینی صدر نے اپنے خاص مکتوب میں پاک چین دوستی کو نئی جہت دی ۔ اسی ضمن میں چینی وزیر خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر حل طلب تنازعہ ہے اور یہ مسئلہ یو این او ، سلامی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا اور چین ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گا جس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہو ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کے اقدامات قابل تحسین ہیں ۔ افغان مفاہتی عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں کیوں کہ پاکستان نے خطے میں امن کیلئے مثالی کردار ادا کیا ۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان کی علاقائی سلامتی‘ خود مختاری کی حمایت جاری رکھے گا ۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کےخلاف آج بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور بھارت کی ہندوتوا پالیسی پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے ۔ دوسری طرف سی پیک کے حوالے سے عاصم سیلم باجوہ نے کہا کہ سی پیک دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا عکاسی کرتا ہے ۔ سبھی جانتے ہےں کہ دونوں دوست ہمسایہ ممالک کے تعلقات کسی ایک حکومت یا پارٹی تک محدود نہیں بلکہ ان دوستانہ تعلقات کی اپنی ایک تاریخ ہے جس سے لگ بھگ ساری دنیا آگاہ ہے ۔ موصوف کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کے تحت صوبوں میں خصوصی اکنامک زونز بنائے جا رہے ہےں ان اقدامات سے معیشت کو فروغ ملے گا اور روزگار پیدا ہو گا ۔ انہوں نے بعض حلقوں کی طرف سے گمراہ کن پروپیگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک تیزی سے ایک حقیقت بن کر سامنے آرہا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے باوجود سی پیک کے منصوبوں پر کام پوری رفتار سے جاری ہے ۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مزید چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی جس کے نتیجہ میں حکومت پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں کمی آئے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی مشینری ملک میں بنائی جائے گی جو ہم باہر سے منگواتے ہیں ، 8 انرجی کے منصوبے مکمل ہوچکے ہےں اور ا قدامات سے قرضوں پر انحصار کم ہوگا ۔ اسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے معاشی ماہرین نے کہا کہ سی پیک باہمی تعاون کو نئی جہت تک لے جارہا ہے،پہلے مرحلے میں متعدد انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر توجہ دی گئی، اب دوسرا تاریخی مرحلہ شروع ہوچکا ہے جو ترقی کی نئی راہیں کھولے گا ۔ واضح رہے کہ چین گزشتہ برسوں سے مینوفیکچرنگ کی بنیاد پر حیرت انگیز حد تک اقتصادی ترقی کی راہیں طے کررہا ہے اور زیادہ سے زیادہ مصنوعات کی تیاری کی صلاحیت نے صورتحال بدل کر رکھ دی ہے ۔ ساری دنیا اس امر پر متفق ہے کہ آنے والے برسوں میں سی پیک خطے میں ترقی اور استحکام کی نئی داستانیں رقم کرے گا ۔ چوں کہ پاک چین دوستی ضرب المثال کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ ان دونوں ملکوں کا مستقبل انتہائی روشن اور تابناکیوں کا امین ہوگا ۔ دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشترکہ مستقبل کیلئے پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنے پر تیار ہیں ۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری کا سنگ میل منصوبہ دونوں ممالک کی سدابہار سٹرٹیجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو ترقی اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ دونوں ممالک کے عوام میں قریبی تعلق کو انتہائی گہرائی سے فروغ دینے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ یاد رہے کہ صدر شی جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں ، انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کے صدر عارف علوی کے نام لکھے گئے خصوصی مکتوب میں کیا ۔ چینی صدر نے کہا کہ وہ اس حقیقت کی تعریف کرتے ہیں کہ صدر علوی نے سی پیک سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی میکانزم کی دوسری کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر مبارکباد کا خط بھیجا ۔ جو اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ وہ چین پاکستان تعلقات اور سی پیک کی تعمیر کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ اسی ضمن میں صدر شی نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان اچھے بھائی اور شراکت دار ہیں جن میں خصوصی دوستی قائم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں میں اکثر دوستانہ مشاورت ہوتی ہے اور وہ مستقل طور پر سیاسی اتفاق رائے کو مضبوط کرتی رہتی ہیں ، جو سی پیک کی تعمیر کو مستقل طور پر آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ سی پیک پر اعلی معیار کے تعاون لئے موزوں ہے ۔ اسی ضمن میں چین کے سربراہ مملکت نے کہا کہ چین مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان قریبی تعاون کی تعمیر، علاقائی یکجہتی اور تعاون کو مشترکہ طور پر فروغ دینے اور خطے میں امن اور ترقی کی بہتر نمو کے تحفظ کےلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اچھے بھائیوں کی مانند مثالی ہےں اوریقیناً آنے والے دنوں میں پاک چین دوستی مزید پھلے پھولے گی ۔