- الإعلانات -

کشمیری صحافی مسرت زہرا کے لئے فرانسیسی ایوارڈ

گذشتہ برس اگست میں کشمیر کو انڈین وفاق میں پوری طرح ضم کیے جانے کے بعد قدغنوں اور حد بندیوں کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ ابھی جاری ہی تھا کہ مار چ میں کورونا لاک ڈاوَن شروع ہو گیا ۔ گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران متعدد صحافیوں کی تھانوں میں طلبی، گرفتاری اور مقدموں کی وجہ سے پہلے ہی یہاں کی صحافتی برادری عجیب اْلجھن کا شکار ہے ۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ ’ہم نے کبھی کسی صحافی کو یہ نہیں کہا کہ وہ کیا رپورٹ کرے ۔ لیکن یہ سب آزادی، ملک کی سالمیت، سلامتی اور امن و قانون کے ساتھ مشروط ہے ۔ اگر کوئی سوشل میڈیا پر لوگوں کو اْکساتا ہے تو قانون اپنی کارروائی کرے گا ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اس کے مظالم دنیا کو دکھانے والی بہادر خاتون صحافی مسرت زہرا کو صحافیوں کے عالمی تنظیم رپورٹر ود آوَٹ بارڈرز اور فرانسیسی خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے تعاون سے چلنے والی تنظیم گلوبل میڈیا فورم ٹریننگ گروپ (جی ایم ایف ٹی جی) نے ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ۔ پیٹر میکلر اے ایف پی کے ساتھ طویل عرصے تک خدمات دینے والے صحافی تھے جنہوں نے گلف جنگ، افغان جنگ، عراق جنگ، فلسطین میں اسرائیلی مظالم، نائن الیون حملے سمیت کئی طرح کے واقعات کی رپورٹ کرکے حقائق سامنے لائے تھے ۔ پیٹر میکلر کے انتقال کے بعد ان کے اہل خانہ نے گلوبل میڈیا ٹریننگ نامی تنظیم بنا کر مختلف ممالک کے صحافیوں کو تربیت و اسکالر شپ دینے کا آغاز کیا اور بعد ازاں اسی تنظیم نے اے ایف پی سمیت دیگر صحافتی تنظیموں کے اشتراک سے 2008 سے ایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع کیا ۔ عالمی تنظیم پیٹر میکلر ایوارڈ ہر سال نمایاں مسائل کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو دیتی ہے ۔ مسرت زہرا سمیت مذکورہ ایوارڈ دنیا بھر کے 12 صحافیوں کو دیا جا چکا ہے ۔ تنظیم نے کشمیری نوجوان فوٹوجرنسلٹ کو ان کی جانب سے قابض فوج کے وادی کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو بہادری سے دنیا کے سامنے لانے پر ایوارڈ سے نوازا ۔ کشمیری خاتون صحافی کو چند دن قبل ہی تنظیم نے ان کے نمایاں کام اور بہادری کی وجہ سے پیٹر میکلر ایوارڈ دینے کا اعلان کیا اور انہیں آئندہ ماہ ستمبر میں ایوارڈ سے نواز دیا جائے گا ۔ متنازعہ خطے میں بسنے والے شہریوں کو لاک ڈاوَن، انٹرنیٹ کی بندش جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور 1989 سے سینکڑوں عام شہری مارے بھی جا چکے ہیں ۔ زہرا کا شمار ان چند خواتین میں ہوتا ہے جو کشمیر میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں اور انہیں اپنی رپورٹنگ کے باعث اکثر مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ مسرت زہرا کی تصاویر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بسنے والے لوگوں کو روز مرہ زندگیوں میں درپیش مشکلات کی جھلک پیش کرتی ہیں ۔ اس وقت بھی زہرا کے خلاف سوشل میڈیا پر تصاویر شاءع کرنے کے بعد سے مقدمہ دائر ہے اور انہیں جرمانے اور سات سال تک کی قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مسرت زہرا کی بھارتی فوج کی نہتے کشمیری عوام پر مظالم ڈھانے والی تصاویر معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ سمیت دیگر عالمی نشریاتی اداروں میں شاءع ہوتی رہیں ۔ مسرت زہرا کے خلاف اپریل میں بھارتی حکام نے متنازعہ قانون کے تحت مقدمہ بھی درج کیا تھا ۔ مسرت زہرا کا کہنا ہے کہ اْنھوں نے خواتین میں نفسیاتی تناوَ سے متعلق ایک خبر کےلئے گاندربل ضلع کی ایک خاتون کا انٹرویو کیا تھا جنھوں نے بتایا کہ 20 سال قبل اْن کے خاوند کو ایک ’جعلی مقابلے‘ میں ہلاک کیا گیا تھا ۔ مسرت کے مطابق انھوں نے اس خبر سے متعلق تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں ۔ مسرت کو سرینگر میں قائم سائبر پولیس سٹیشن طلب کیا گیا تھا ۔ پولیس کے بیان میں مسرت زہرا کو ایک فیس بْک صارف کے طور متعارف کر کے اْن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے کئی اشتعال انگیز پوسٹس کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو ہند مخالف مسلح بغاوت کےلئے اْکسایا ہے ۔ پولیس کے بیان کے مطابق مسرت نے فیس بک پر ملک دشمن متن پوسٹ کیا ہے اور ایک پوسٹ میں مذہبی شخصیت کو عسکریت پسندوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔ کئی حلقوں کی طرف سے یہ شکایات ملی ہیں کہ مسرت ایسا مواد پوسٹ کرتی ہیں جس سے نوجوان مشتعل ہوکر عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوسکتے ہیں ۔ ایوارڈ ملنے کے بعد مسرت زہرا نے اپنے بیان میں کہا، ;3939;یہ ایوارڈ ظاہر کرتا ہے کہ چھوٹے علاقوں سے تعلق رکھنے والے مجھ جیسے صحافیوں کے کام کو تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ ‘‘مسرت زہرا گذشتہ کئی سال سے فری لانس صحافی کے طور پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم ہیں اور کئی انڈین اور بین الاقوامی خبررساں اداروں کےلئے کام کر چکی ہیں ۔ ایسے وقت جب کورونا وائرس سے بچنے کےلئے دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاون ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کو نہ صرف وائرس سے بچنے کی فکر ہے بلکہ اْنھیں رپورٹنگ کرتے ہوئے اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے یہ خیال بھی رکھنا ہے کہ کہیں ان پر وطن دشمنی کا الزام نہ عائد ہو جائے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران وادی سے تعلق رکھنے والے تین صحافیوں کے خلاف بھارت کے انسداد دہشت گردی قانون ’یو اے پی اے‘ کے تحت مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ جس کے بعد کشمیر کے صحافتی حلقوں میں اضطراب اور تذبذب کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں صحافیوں کی تھانوں میں طلبی ایک دیرینہ عمل ہے جو گذشتہ کئی برس سے جاری ہے تاہم یو اے پی اے قانون کے تحت مسرت زہرا کے خلاف کارروائی اپنی نویت کا پہلا واقعہ ہے ۔ یہ قانون گذشتہ برس پارلیمان سے منظور ہوا تھا اور اسی قانون کے تحت وادی میں انسانی حقوق کے کئی کارکنوں کو قید کیا گیا ہے ۔ کشمیر میں ویسے بھی کام کرنا خطرناک ہے اور ایسے وقت پر جب صحافی انٹرنیٹ پر پابندی اور کورونا وائرس کے خوف کے بیچ کام کر رہے ہیں تو اْن پر طرح طرح کی بندشیں عائد کرکے یہاں کی صحافت کو محدود کیا جا رہا ہے ۔