- الإعلانات -

طالبان کے وفد کادورہ پاکستان،امن کی جانب اہم قدم

طالبان کا افغانستان کے مستقبل میں ایک اہم کردار ہے ۔ طالبان صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک سیاسی تنظیم بھی ہے جس کا اثر ورسوخ جنوبی افغانستان میں ایک حقیقت ہے ۔ پاکستان نے 90 ء کی دہائی میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا ۔ پاکستان کےلئے افغانستان میں امن اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ جنگی صورت حال کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے ۔ افغانستان بھی طالبان سے سیاسی مذاکرات کا حامی ہے اور پاکستان کی طرح اس کا ماننا ہے کہ طالبان سے بات چیت کی جائے لیکن افغان حکومت چاہتی ہے کہ طالبان اس کو ایک جائز حکومت تسلیم کرے ۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو تسلیم کریں کیونکہ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ افغان حکومت اور طالبان کی قطر میں ملاقات کی خبریں رونما ہوئی تھیں لیکن اسی وقت طالبان نے بیان جاری کیا کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں تعینات ہے وہ کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ تب پاکستان نے اپنامثبت کردارادا کیا ۔ بالآخرافغانستان میں 19سالہ طویل جنگ کے خاتمے میں پاکستان کی کوششیں رنگ لے آئیں جس کے بعددوحہ میں امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا ۔ امن معاہدے میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرینگے ۔ قیدیوں کے تبادلے کا عمل 10 مارچ سے قبل مکمل ہونا تھا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا ;200;غاز ہونا تھا تاہم متعدد مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی سے ;200;گے بڑھا ۔ تاہم افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جن میں سے کچھ حملوں بشمول 12 مئی کو میٹرنٹی ہسپتال میں کیے گئے حملے کو داعش سے منسوب کیا گیا ۔ جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کےخلاف جارحانہ کارروائی کے دوبارہ ;200;غاز کا حکم دیا تھا، افغان حکومت کے اعلان کے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان فورسز کے حملوں کے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں ۔ 18مئی کو قبل طالبان نے دوحہ معاہدے پر عملدر;200;مد کا مطالبہ دہرایا تھا، دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل دوحہ معاہدے پر عمل میں ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے چاہئیں ۔ بعدازاں عید الاضحی کے بعد افغان صدر نے 400 خطرناک سمجھے جانے والے طالبان قیدیوں کی رہائی پر مشاورت کےلئے لویہ جرگہ منعقدکیا تھا جس میں ان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کرلیا گیا تھا ۔ امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ،کچھ قوتوں نے رخنہ اندازی کی ہرممکن کوشش کی ۔ بھارت بالکل نہیں چاہتا تھا امن معاہدے میں پیشرفت ہو، افغانستان میں امن کو ناکام بنانے کےلئے بھارت نے افغانیوں کواکسانے کی ہرممکن کوشش کی ۔ یہ افغانستان کے عوام پر منحصر ہوگا کہ وہ اپنے مستقبل کا تعین کیسے کرتے ہیں لہٰذا افغان عوام امن اور اپنے ملک کےلئے ایک نئے مستقبل کے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔ اگر طالبان اور افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں تو امریکہ افغانستان میں جنگ ختم کرنے اور اپنے فوجیوں کو وطن واپس لانے کےلئے ;200;گے بڑھے گا ۔ معاہدہ دیرپا امن کی جانب پہلا قدم تھا کیونکہ امن کی جانب جانیوالا کوئی بھی آسان راستہ نہیں ہوتا تاہم یہ ایک اہم قدم تھا ۔ ضروری یہی ہے کہ تمام فریقین امن معاہدے کی پاسداری کریں ۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے کے پرامن حل کی حمایت کی، پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اور کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ افغان سرزمین کسی اور کیخلاف استعمال کرے اورپاکستان افغان امن عمل میں ، خلوص نیت کے ساتھ اپنا مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا ۔ طالبان کے قطر سیاسی دفتر کے زعما کا وفد وزارت خارجہ کی دعوت پر اسلام آباد پہنچا ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفد کے ساتھ افغان امن عمل میں پیشرفت پر بات چیت ہو گی ۔ دورہ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کی دعوت پر ہورہاہے وفد افغان دھڑوں کے درمیان مفاہمتی عمل کے حوالے سے پاکستانی قیادت سے بات چیت کرے گا ۔ قبل ازیں امارت اسلامیہ افغانستان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ سیاسی دفتر کے نائب پولیٹیکل ڈائریکٹر اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اخوند کی سربراہی میں طالبان راہنماءوں کا ایک وفد وزارت خارجہ پاکستان کی دعوت پر پاکستان روانہ ہوا ۔ وفد سینئر پاکستانی عہدیداروں سے ملاقات کرکے افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کرے گا اور اس موقع پر دونوں ممالک کے مابین تجارتی سہولیات کے قیام اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائیگا ۔ وفد دیگر ممالک کا بھی دورہ کرے گا امارت اسلامیہ افغانستان کی جانب سے وفد کا مقصد خطے کے ممالک اور تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کے قیام اور عالمی امن سے متعلق اپنا موقف پہنچانا ہے ۔ ایسے دورے عالمی سطح پر کرونا کی وبا کی وجہ سے کچھ عرصے کےلئے ملتوی کردیئے تھے لیکن اب یہ عمل دوبارہ شروع ہوا ہے ۔ مستقبل قریب میں ، امارت اسلامیہ کے دفتر کے وفود دوسرے ممالک کا بھی دورہ کریں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں مستقل امن کا قیام ہی اس پورے خطے کے امن کی ضمانت ہے ۔ پاکستان نے بہرصورت افغان امن عمل کا راستہ ہموار کرنے کےلئے بھرپور کردار ادا کیا ۔ اب افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے فریقین کے ہمہ وقت نیک نیت رہنے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان کی بدامنی نے اس خطے بالخصوص پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اس لئے اب فریقین امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہونے دیں ، اس کیلئے بھارتی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک اور اعزاز

وزیراعظم عمران خان ویسے تو ایک مقبول ترین لیڈر ہی ہیں مگر اب ان کی مقبولیت میں اوراضافہ ہوگیاہے اور وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں ، عمران خان اسلام کا صحیح تشخص اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے پردہ اٹھانے کے بعد مقبول ترین رہنمابن گئے ہیں ۔ انہیں عالمی رہنماءوں کا اعزاز حاصل ہے ۔ اب 2020ء کی پانچ سو با اثر مسلم شخصیات پر کتاب جاری کر دی گئی جس میں وزیراعظم عمران خان کو مین ;200;ف دی ایئر;34;قرار دیدیا گیا، معروف مذہبی اسکالر مفتی تقی عثمانی، طارق جمیل،ملالہ یوسفزئی بھی با اثر مسلم شخصیات میں شامل ہیں ۔ پانچ سو با اثر مسلم شخصیات کی فہرست جاری کردی گئی، پہلی 50شخصیات کا تعلق مذہبی اسکالرز اور سربراہان مملکت سے ہے ۔ 450شخصیات سیاسی، سماجی اور میڈیا سمیت 13 کیٹیگریز سے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، فہرست میں عمران خان کو مین ;200;ف دی ایئر قراردیا گیا ہے ۔ دیگر پاکستانی با اثر مسلم شخصیات میں مذہبی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل، تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نذر الرحمان، مولانا الیاس قادری اور ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں ۔ امریکی کانگریس کی خاتون مسلم رہنما راشدہ تلیب کو وومن آف دی ایئر قرار دیا گیا ہے ۔ با اثر مسلم شخصیات میں ایران کے آیت اللہ خامنہ ای، ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان، ترک صدر رجب طیب اردوگان بھی شامل ہیں ۔ سعوی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، حزب اللہ کے سید حسن نصر اللہ، سنگاپور کی صدر حلیمہ یعقوب بھی فہرست میں ہیں ۔ فٹبال میں لیور پول کے فٹبالر محمد صلاح، فرانس کے سابق فٹبالر زیڈان اور کرکٹ میں ہاشم ;200;ملہ شامل ہیں ۔ یاد رہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت عروج پر پہنچ گئی تھی اور وہ یو این لیڈرز میں دوسرے نمبر پر رہے، گوگل سرچ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد سب سے زیادہ عمران خان کو سرچ کیا گیا ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ;200;فیشل یوٹیوب چینل پر وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے مقبولیت میں تمام ممالک کے سربراہان کو پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت ا س کا وزیراعظم ایک ایسی شخصیت کاحامل ہے جس کو دنیابھر میں جانا اور پہچانا جاتا ہے پھر اسلامی دنیا کے رہنما کے طورپر عمران خان کے ابھرنے سے اُن کی شخصیت کو مزید اور جِلاملی ہے ان کاویژن نہ صرف اسلامی دنیا کےلئے بلکہ دنیابھرکےلئے رہنمائی فراہم کرتاہے جس کی واضح مثال کوروناوائرس پرقابوپانے کی پالیسی ہے ۔