- الإعلانات -

وزیر خارجہ کا دورہ چین

چین اور پاکستان تاریخی اور جغرافیائی طور پر انمٹ مستقل اور مضبوط رشتوں میں منسلک ہیں یہ روایتی دوستی بلند بین الاقوامی اصولوں اور فروغ امن کےلئے پاکستان اور چین کے مشترکہ عزم و یقین پر مبنی ہے اس دوستی کی بنیاد جمہوریہ چین کے عظیم قائد چیئرمین ماؤزے تنگ اور قابل احترام وزیر اعظم آنجہانی چو این لائی نے رکھی ان رہنماؤں کی دوربین نگاہوں نے مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی نہ صرف ان دو ممالک کےلئے مفید ہوگی بلکہ اس سے عالمی امن کو بھی مدد ملے گی یہ دوستی اور اخوت کسی وقتی مصلحت پر مبنی نہیں بلکہ اس کی جڑیں بڑی گہری مضبوط اور دیرپا ہیں اس دوستی کے بنیادی اصول بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور ان پر مبنی دوستی کی امتحانوں سے کامیابی سے گزر چکی ہے دونوں ملک غلام یاور استحصال کے خلاف جدوجہد کی مشترکہ تاریخ رکھتے ہیں اگرچہ ان دونوں ممالک کی آزادی کی راہ میں مختلف تھی تاہم ان کی منزل ایک ہی تھی عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان سے دو سال بعد آزادی حاصل کی اور بہتر قیادت اور انتھک محنت سے بہت آگے بڑھ گیا عوامی جمہوریہ چین نے نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کو فروغ دیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے منصفانہ موقف کی حمایت کی غرض یہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور مفاہمت کی ایسی فضا قائم ہے جو کسی بھی ملک کےلئے باعث رشک ہو سکتی ہے اس مفاہمت کا اظہار کی مشترکہ منصوبوں کی شکل اختیار کرتا رہا ہے ان میں سے ایک منصوبہ شاہراہ قراقرم کی تعمیر ہے اس شاہرا کی بدولت دونوں ملک ایک دوسرے کے مزید قریب آ گئے ہیں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے جو انیس سو اٹھتر میں جب اس شاہراہ کا افتتاح کیا تو انہوں نے اس عظیم شاہراہ کو پاک چین دوستی کے حوالے سے شاہراہ دوستی قرار دیا تھا پاکستان اور چین دوستی کی ضرب المثال زبان زد خاص و عام ہوچکی ہیں مثلا پاکستان چین دوستی ہمالیہ کی طرح بلند اور مضبوط ہے پاکستان اور چین کی دوستی ایک بہتا ہوا دریا ہے جس کے بہاؤ کو سامراج کی تلوار کبھی نہیں روک سکتیں چین کی دوستی ہمالیہ کی طرح بلند اور بحیرہ عرب کی طرح گہری ہے چھین پاکستان کے تحفظ کا ایک اہم ستون اور اس کے خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے چین نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی جس فراخدلی سے امداد گی اسے پاکستانی عوام کبھی فراموش نہیں کر سکتے پاکستان اور چین کی دوستی کے سفر کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب کہ ابھی چین آزاد بھی نہ ہوا تھا چین کے ایک ہی ابتدائی قدم کی وجہ سے پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط بندھن میں بندھ گئی یہ واقعہ 1949 کا ہے جب برطانیہ نے اپنے پونڈ سٹرلنگ کی قیمت کم کردی اور بھارت نے بھی اس کی تقلید کی جس کے نتیجے میں بھارت نے پاکستانی کرنسی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وہ بھی اپنی کرنسی کی قیمت کم کر دے لیکن پاکستان نے ایسا نہ کیا چنانچہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی لین دین ختم کر دیا حالانکہ اس وقت بھارت پاکستانی مصنوعات کا اہم خریدار تھا اور پاکستان بھارت سے کوئلہ منگواتا تھا اور اس کے بدلے بھارت کو پٹ سن اور کپاس مہیا کرتا تھا اس آڑے وقت میں چین نے اپنی بھرپور دوستی کا ثبوت فراہم کیا اور پٹ سن اور کپاس کے بدلے پاکستان کو کوئلہ فراہم کیا اور اسے اس بحران سے نکالا جس کے سبب اس کی ریلوے سروس بند ہونے کا احتمال تھا ۔ روزنامہ پاکستان نے اپنا اداریہ وزیر خارجہ کے چین کے دورے کے حوالے سے ;3939;وزیر خارجہ کا دورہ چین،خطے میں امن کےلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق ;3939;کے عنوان سے تحریر کیا ہے اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان اور چین نہایت قریبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی تعلقات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں ۔ یہ تعلقات پچھلی سات دہائیوں پر محیط ہیں ۔ اس تعلق کی جڑیں نہایت گہری اور پائیدار ہیں جو کہ یقینا دونوں ممالک کی قیادت کی سمجھ بوجھ اور مستقبل کے مشترکہ نقطہ نظر کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے ۔ چین کی پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی شکل میں شروع ہوئی ہے ۔ سی پیک سے پاکستان کا چین کے مغربی سنکیانگ صوبے سے بذریعہ شاہراہ رابطہ ہو جائے گا ۔ جس سے معاشی ترقی کا ایک نیا دور منسلک ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ سی پیک منصوبہ سے پاکستان کے توانائی کے مسائل حل ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ یہ منصوبہ شاہراہوں اور ریلویز کا ایک جال بچھا دے گا ۔ پاکستان کے ساتھ چین کو بھی اس دوستی سے فائدہ ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن کبھی بھی بھارت کی طرف نہ جھک سکا اور بھارت کا وہ خواب جس میں وہ خود کو جنوبی ایشیا کے علاقے پر اپنا تسلط یا علاقائی طاقت سمجھتا ہے کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چین کے صوبے ہینان پہنچنے ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے شاہ محمود کا استقبال کیا ۔ دونوں وزرا خارجہ نے باہمی تعلقات اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزرا خارجہ کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں وزرا خارجہ نے کرونا علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن ترقی کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ۔ کرونا کے خاتمے کیلئے دونوں ممالک نے ویکسین کی تیاری میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔ پاکستان چین نے صحت کے شعبے میں ملکرآگے بڑھنے پر اتفاق کیا ۔ دریں اثنا وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ۔ ایک سال میں مقبوضہ کشمیر کے حالات میں تبدیلی آئی ہے ۔ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوچکے ہیں ۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان کی علاقائی سلامتی خود مختاری کی حمایت جاری رکھے گا ۔ بلاشبہ پاک چین دوستی لازوال ہے بھارت کے پاس اگر امریکہ کی شکل میں طاقتور اتحادی ہے تو پاکستان کے پاس بھی چین کی شکل میں خطے میں اور سلامتی کونسل میں ایک مضبوط اتحادی موجود ہے جن کے مفادات مشترکہ ہیں ۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات عشروں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے پاک چین تعلقات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں ۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کیساتھ دفاعی توانائی اور اقتصادی تعاون کی مضبوظ ڈور سے بندھ چکے ہیں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کیا جائے پاک چین دوستی سے جہاں پاکستان کو غربت، کرپشن، بیروزگاری کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور معاشی طور پر مستحکم ہوگاوہیں علاقائی امن، دہشت گردی کیخلاف مشترکہ کوششوں کو بھی فروغ ملے گا ۔