- الإعلانات -

فرنگ کی رگ جاں پنجہَ ےہود مےں ہے

آج امت مسلمہ بحرانوں کے گرداب مےں اسےر ،ےکجہتی و ہم آہنگی سے دور اور اپنے مفادات کےلئے امرےکہ کی غلامی مےں ہی نجات کی متلاشی ہے ۔ فلسطےنےوں پر اسرائےل کی جانب سے کس طرح ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور آزادی کےلئے ان کی قربانےاں دنےا سے پو شےدہ نہےں ۔ امرےکہ نے اپنے اتحادےوں کے حوالے سے اسرائےل اور بھارت کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فلسطےنےوں ،کشمےرےوں اور دنےا کے دےگر ممالک مےں مسلمانوں کی آزادی کی راہ مےں رکاوٹےں پےدا کےں سب پر عےاں ہےں ۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائےل کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے اسرائےل کو مملکت کی حےثےت سے تسلےم کرلےا ہے ۔ بظاہر ےہ معاہدہ اسرائےل اور ’’ےو اے ای‘‘ کے درمےان ہو اہے لےکن اصل مےں ےہ معاہدہ امرےکہ اور اسرائےل کی منصوبہ بندی اور خواہش کی تکمےل کے طور پر کےا گےا ہے ۔ مصر اور اردن پہلے ہی اسرائےل کو تسلےم کر چکے ہےں ۔ اس معاہدے پر مختلف مسلم ممالک اور ان کی نمائندہ تنظےموں کی طرف سے رد عمل سامنے آےا ہے ۔ ترکی اور اےران نے فوری طور پر اس معاہدہ کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے پر زور مذمت کی ہے ۔ اےران کے صدر حسن روحانی نے اپنی تقرےر مےں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائےل کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اےک بہت بڑی غلطی کی ہے جو دھوکے کے مترادف ہے اور اس سے مشرق وسطیٰ مےں اسرائےل کے پاءوں مضبوط کرنے کے سنگےن نتاءج بر آمدہوں گے ۔ اس معاہدے کا مقصد تو نومبر مےں ہونےوالے امرےکی انتخابات مےں صدر ٹرمپ کی نامزدگی کو مستحکم کرنا ہے ۔ ےہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کا اعلان تےسرے ملک واشنگٹن مےں کےا گےا ۔ ترکی کے صدر طےب اردگان نے کہا کہ اسرائےل کے ساتھ معاہدے سے فلسطےنی عوام کے حقوق کو دھچکا لگا ہے اور ترکی متحدہ عرب امارات سے اپنے سفےر واپس بلا سکتا ہے ۔ ترکی وزارت خارجہ نے کہا کہ تارےخ کا ضمےر اور خطے کے لوگ اسرائےل کے ساتھ معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے منافقانہ طرز عمل کو کبھی فراموش نہےں کرےں گے ۔ متحدہ عرب امارات کے وزےر مملکت برائے خارجہ امور انور گرکش نے خبر رساں ادارے بلومبرگ کو بتاےا کہ اس معاہدے کا مقصد اےران کے خلاف کسی بھی طرح سے گروپ نہےں ہے اور انہوں نے ترکی کے رویے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ترکی کے تو اسرائےل کے ساتھ تجارتی تعلقات ہےں اور ہر سال پانچ لاکھ اسرائےلی ترکی آتے ہےں ۔ دونوں ممالک کے درمےان دو ارب ڈالر کا کاروبار ہے اور اسرائےل مےں ترکی کا اپنا سفارت خانہ بھی ہے ۔ بےن الاقوامی علماء کونسل نے اس معاہدے کو بہت بڑی خےانت ، صےہونےوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش ، القدس اور فلسطےنی قوم کے حقوق کےلئے دی جانے والی قربانےوں کی توہےن اور ارض فلسطےن پر ناجائز صےہونی رےاست کو سند جواز دےنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے جس پر امارات کو تارےخ معاف نہےں کرے گی ۔ وزےر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ فلسطےنےوں کو حق نہ ملنے تک اسرائےل کو تسلےم نہےں کرےں گے ۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ امارات کی تقلےد مےں اسرائےل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہےں کر سکتا جب تک ےہودی رےاست فلسطےنےوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کر دے ۔ فلسطےن کی تنظےم فتح کی مرکزی کمےٹی کے سےکرٹری جبرئےل الرجوب نے کہا کہ غاصب صےہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے مابےن ہونے والے معاہدے پر بطور احتجاج ابو ظہبی مےں تعےنات فلسطےنی سفےر واپس آ گئے ہےں ۔ فلسطےنی اتھارٹی کے ترجمان نبےل ابو ردےنہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے غاصب صےہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی برقراری کا اقدام فلسطےنےوں کے خلاف غاصب صےہونےوں کے جرائم اور مظالم کےلئے ہری جھنڈی دکھائے جانے کے مترادف ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائےل کے ساتھ امن معاہدے کو جراَت مندانہ قرار دےتے ہو ئے کہا کہ اس سے اسرائےل اور فلسطےن کے مابےن طوےل عرصے سے جاری تنازعہ کا حل ممکن ہو سکے گا اور اس معاہدے کے بعد فلسطےنی علاقوں کا اسرائےل مےں مزےد انضمام رک جائے گا جبکہ اسرائےلی وزےر اعظم نےتن ےاہو نے صاف کہہ دےا ہے کہ فلسطےن کی سر زمےن کو اسرائےل مےں ضم کرنے اور اس پورے علاقے کو اسرائےل بنانے کے حوالے سے انضمام کا ہمارا منصوبہ برقرار ہے اور ہم اپنی زمےن پر اپنے حقوق سے دستبردار نہےں ہوں گے ۔ ےہ اےک کھلی حقےقت ہے کہ فلسطےن کی سر زمےن پر اسرائےل کے قےام کا سرے سے کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہےں بنتا ۔ حتیٰ کہ اسرائےل کے بانی بھی اس کا ناجائز ہونا تسلےم کرتے ہےں ۔ امرےکی محققےن پروفےسر جان مئےر شےمر اور اسٹےفن والٹ نے اپنی کتاب ’’ دی اسرائےل لابی اےنڈ ےو اےس فارن پالےسی ‘‘ مےں ےہ خط نقل کےا ہے کہ پہلے وزےر اعظم ڈےوڈ بن گورےان عالمی ےہودی کانفرنس کے نام صدر ناہم گولڈ مےن کو لکھے گئے اپنے تارےخی اہمےت کے حامل خط مےں اس سچائی کا بر ملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اگر مےں کوئی عرب لےڈر ہوتا تو اسرائےل سے کبھی سمجھوتا نہ کرتا ۔ ےہ اےک فطری بات ہے کہ ہم نے ان سے ان کا ملک چھےنا ہے ۔ اگرچہ ےہ بات درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائےل سے ہے لےکن ےہ دو ہزار سال پہلے کی بات ہے ،فلسطےنےوں سے بھلا اس کا کےا واسطہ ،ہاں دنےا مےں ےہودی مخالف تحرےک ،نازی،ہٹلر آتش وٹز سب کہہ رہے ہےں ،کےا اس کے ذمہ دار فلسطےنی ہےں ;238; فلسطےنی صرف اےک چےز کو دےکھتے ہےں کہ ہم ےہاں آئے اور ہم نے ان کا ملک چرا لےا ۔ آخر وہ اس ملک کو کےوں قبول کرےں ;238;سعودی عرب کے تعاون سے 2002ء مےں عرب امن معاہدے مےں اسرائےل سے مطالبہ کےا گےا تھا کہ وہ 1967ء کی جنگ کے بعد فلسطےنےوں کے قبضہ کئے گئے علاقوں سے دستبردار ہو جائے تو قےام امن کے اس قےام کے بدلے مےں وہ اسرائےل کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر بحال کر سکتے ہےں لےکن اےسا آج تک ممکن نہ ہو سکا بلکہ اس کے بر عکس اسرائےل فلسطےنےوں کا خون بہانے کے ساتھ مزےد فلسطےنی علاقوں پر قبضے جماتا رہا ۔ اگر اسرائےلی رےاست کے قےام کا جائزہ لےں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظےم تک ےہودےوں نے ےورپ کے کئی ملکوں مےں اپنا اثر و نفوذ قائم کر کے عوام الناس کو اپنا معاشی غلام بنا لےا اور ےہودی جکڑ بند سے ان کا سب کچھ ےہودی معاشی اداروں کے پاس گروی ہو گےا حالانکہ اس سے پہلے 1290ء مےں برطانوی بادشاہ اےڈورڈ نے انہےں برطانےہ سے جبری بے دخل کر دےا تھا اور ےہ جبری بے دخلی تقرےباً چار سو سال تک موجود رہی ۔ اس دوران پورے ےورپ مےں ےہودےوں پر جائےداد خرےدنے پر پابندی تھی ۔ ہٹلر نے ےہودی معاشی حصار توڑنے کےلئے سخت اقدامات اٹھائے اور ےہودےوں کو بری طرح کچل کر رکھ دےا لےکن ےہودےوں نے کمال ذہانت سے دوسری جنگ عظےم کے اثرات کو اپنے مفاد مےں تبدےل کر لےا اور ےہ ظاہر کےا گوےا ہٹلر ےہ جنگ صرف ےہودےوں کے خلاف لڑ رہا تھا جبکہ اس کی لڑائی برطانےہ و فرانس جےسی رےاستوں کے ساتھ تھی ۔ ےہودےوں نے اپنی مظلومےت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانےہ و فرانس کی حکومتوں کو استعمال کےا اور باسفورس ڈےکلےرےشن کے تحت فلسطےن مےں اپنی اےک آزاد و خود مختار حکومت قائم کر لی مگر ےہ بات فہم سے بالا ہے کہ ہٹلر کے مظالم کی سزا فلسطےنےوں کو کےوں دی گئی ۔ ےہودی رےاست بنانا اگر ضروری تھا تو ےہ جرمن علاقوں مےں کےوں نہےں بنائی گئی ;238;علامہ اقبال;231; کی مذہبی و سےاسی بصےرت بڑی روشن و درخشاں ہے ۔ آپ پر ےہودی معےشت کی سفاکےت اور اسرائےلی تےارےاں و ہتھکنڈے بڑے واضع اور عےاں تھے ۔ انہوں نے درست فرماےا تھا کہ فرنگ کی رگ جاں پنجہ ےہود مےں ہے ۔ آج بھی امرےکی صدر وہاءٹ ہاءوس مےں کٹھ پتلےوں کی طرح ہےں اور دنےا کی معےشت ان کے قبضہ مےں ہے ۔ اس سال جنوری 2020سے امرےکہ اسرائےل اور ےو ای اے کے نمائندوں کے درمےان اسرائےل کو تسلےم کرنے سے متعلق بات چےت چل رہی تھی اور مذاکرات کو کامےاب بنانے مےں امرےکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کا بہت اہم کردار ہے جو خود بھی ےہودی ہے ۔ بلاشبہ امن انسانےت کی ضرورت ہے لےکن حقےقی امن کےلئے انصاف لازم ہے اس کے بغےر قائم ہونے والا عمل جس کی لاٹھی اس کی بھےنس کے مترادف اور ظلم کے تسلسل کا دوسرا نام ہے ۔