- الإعلانات -

میر حاصل خان بزنجو مرحوم کی یادیں

میر حاصل خان بزنجو مرحوم ایک نہایت نفیس ، شفیق اور انقلابی شخصیت کے مالک اور ایک با خبر دلیر سیاست دان تھے ۔ بیس اگست دوہزار بیس کو کراچی میں انتقال ہو اور اپنے گاءوں بلوچستان میں اپنے والد غوث بخش بزنجو مرحوم کے پہلو میں دفن ہوئے ۔ بقول ایک صحافی کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو جب جنرل پرویز مشرف نے استعفیٰ کےلئے طلب کیا تو بزنجو صاحب نے مجھے یہ خبر دی اور کہا اب تم مزید پتہ چلاءو کہ کیا ہونے والا ہے ۔ صحافی نے کہا ابھی کچھ ہی روز قبل بزنجو صاحب سے بات ہوئی تو پوچھا کوئی بریکنک نیوز دیں گے کہا کیوں نہیں ۔ نیوز یہ ہے کہ میں اب ایک دو روز میں دنیا چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔ باقی خبروں کی طرح یہ خبربھی آپ کی سچ ثابت ہوئی اور وہ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے جدا ہو گئے ۔ امیر حاصل خان بزنجو سے راقم کی آخری بار فون پر اس وقت بات ہوئی جب آپ اپنے علاج کے سلسلے میں امریکہ سے واپس اسلام آباد آئے تھے ۔ آپ کے کامریڈ ساتھی دوست پارٹی ورکر کمانڈر ملک ایوب خان تھے ۔ جنہوں نے کینسر کی جنگ میں ہر محاذ پر امریکہ سے لیکر پاکستان بھر میں حاصل خان بزنجو کے ساتھ سائے کی طرح امریکہ پاکستان میں ساتھ ساتھ ر ہے ۔ ملک ایوب خان نے اپنے لیڈر کا علاج کرانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی ۔ راقم کا آپ سے یہ طے ہوا تھا کہ بزنجو صاحب سے ملنے چلیں گے لیکن میری اپنی کچھ ذاتی مصروفیت کی وجہ سے ملنے نہ جا سکا مگر ملک ایوب اپنے وعدہ کے مطابق بزنجو صاحب سے ملنے پہنچ گئے ۔ ملک صاحب نے فون پر میری امیر حاصل بزنجو سے بات کروا دی ۔ بات کرتے وقت آپ میں کوئی کینسر جیسی بیماری کا خوف نہ تھا بلکہ اسی طرح پر جوش گپ شپ کی جیسے پہلے کیا کرتے تھے ۔ آپ سے کراچی کے طالب علمی کے زمانے کی بات ہوئی توکہا اگر میں طلبا یونین کا نمائدہ نہ ہوتا تو شائد موت سے ڈرتا رہتا ۔ اس زمانہ میں کراچی یونیورسٹی میں اسلحہ عام ہوا کرتا تھا ۔ طلبا یونین کے مابین اکثر لڑائی جھگڑا رہتا ۔ اسلحے کا استعمال رہتا ۔ ایک بار تو طلبا یونین کا ٹھکراءو اتنا شدید ہوا کہ گولیاں چل گئیں ۔ ایک گولی بزنجو صاحب کو لگی بھی اور مگر جان بچ گئی ۔ آپ زمانہ طالب علمی میں ڈیموکرٹک سٹوڈنت فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے ایوب خان کی آمریت کے خلاف سیاست کا آغاز کیا ۔ پھرپی ایس او میں شامل ہوئے ۔ یونیورسٹی سے فارغ ہوئے تو نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ اس پارٹی کے سیکرٹری بنے اور اب اسی جماعت کے آپ صدر تھے اور سینٹر تھے ۔ جب آپ نے کراچی یونیورصٹی میں قدم رکھا تو آپ کے والد محترم امیر غوث بخش بزنجو حیدرآباد جیل میں سیاسی بنیادوں پر ملک کے باقی سیاستدانوں کے ہمراہ قید میں تھے ۔ آپ نے سیاست اپنے گھر سے اپنے والد میر غوث بخش بزنجو سے سیکھی ۔ راولپنڈی کی مشہور سیاسی شخصیت تنویر پاشا نے بتایا این آر ڈی کی مومنٹ میں غوث بخش بزنجو صاحب کے میں بہت قریب تھا ۔ آپ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ۔ ایک نڈر بے باک سیاسی لیڈر تھے ۔ حاصل خان بزنجو کو بھی اپنے باپ غوث بزنجو جیسا ہی کنسر تھا ۔ باپ بیٹا جب تک زندہ رہے شان سے زندہ رہے ۔ کہا سیاسی میدان میں آپ کے خاندان کی گراں قدر خدمات رہی ہیں پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا آپ نے ملکی سیاست میں بھرپور خدمات سرانجام دیں ۔ آپ امیر غوث بخش بزنجو مرحوم کے چھوٹے فرزند تھے ۔ امیر حاصل خان بزنجو مرحوم کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ۔ ا نیس سو نوے میں اپنے علاقے سے ایم این اے بنے ۔ وزیر اعظم شاہد خا قان عباسی کے دور حکومت میں دوہزار سترہ سے دو ہزار اٹھارہ تک وزیر رہے ۔ بلوچستان کے عوام کی بھرپور خدمت کرتے رہے ۔ کہا جاتا ہے آپ اٹھارہ سال تک جیل میں آتے جاتے رہے ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ جیل کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے ۔ جب انہیں دھمکیاں د ی جا رہی تھیں کہ ہم تمہیں پنجاب کی جیل میں ڈالیں گے ۔ آپ نے کہا میں اپنی زندگی میں سوائے پنجاب کے تمام صوبوں کی جیلوں کو دیکھ چکا ہوں رہ چکا ہوں ۔ اچھا ہے مجھے پنجاب کی جیل کا تجربہ بھی ہو جائے گا ۔ اس وقت آپ کو کنسر کا پتہ چل چکا تھا کہا اب پانچ سال ہی تو کنسر مجھے زندہ ر ہنے کو دے رکھے ہیں چلو یہ پانچ سال جیل میں گزار دونگا مگر اپنا راستہ اپنی سوچ کو نہیں بدلوں گا ۔ جیل جانے کےلئے آپ ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ آپ کو اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑامگر ہار نہیں مانے بلکہ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے ملکر چیئرمین سینٹ کا جب ٹکٹ دیا ۔ الیکشن سے پہلے سب نے کھڑے ہو کر ثابت کر دیا تھا کہ امیر حا صل خان بزنجو چیئر مین سینٹ کا الیکشن جیت چکے ہیں لیکن جب سیکرٹ دوٹنگ سینٹ کی ہوئی تو چند ووٹوں سے آپ ہار گئے ۔ ایوان میں اس موقع پر جو تقریر کی وہ یاد گار تقریر تھی اور رہے گی ۔ یہ سچ ہے کہ امیر حاصل بزنجو اپنے باپ کی طرح آمر حکمرانوں کے خلاف ساری عمر لڑتے رہے ۔ جب تک زندہ رہے ایک اصول پسند اور ترقی پسند سیاستدان کے پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ۔ پاکستان میں آئین کی حکمرانی ، جمہوریت ، عوامی حقوق کی باز یابی کےلئے مثالی کردار ادا کرتے رہے ۔ بلوچستان سے تعلق کے باعث وہ ہمیشہ مظلوم قومیتوں کے جمہوری حقوق کےلئے متحرک رہے ۔ امیر حا صل خان بزنجو امن پسند سیاسی لیڈر تھے ۔ کسانوں اور مزدوروں کی جہدو جہد میں ہمیشہ شریک رہے ۔ بلوچستان کی عوام سے ہونےوالی نا انصافیوں کے خلاف توانا آواز تھے ۔ طویل و شاندار جدو جہد کے باعث سیاسی کارکنان کی دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گے ۔ اس کا ثبوت یہ کہ جب آپ کے جسد خاکی کو کراچی سے بلوچستان اپنے علاقے میں داخل ہوئے تو جگہ جگہ پر استقبال آر سی ڈی شائرہ کے دونوں جانب لوگوں کا ایک جم غفیر تھا ۔ لوگ میت کی گاڑی پر پھول نچاور کر تے رہے تھے ۔ بچہ بوڑھا جوان روتا ہوا دکھائی دیا ۔ امیر حا صل بزنجو کہا کرتے تھے کہ مجھے پانچ سال پہلے کنسر کا علم ہوچکا تھا ۔ علاج کراتا رہا لیکن مجھے پتہ تھا کہ میں کنسر سے جنگ جیت نہیں پاءوں گا ۔ اس کے باوجود کیا مجال کہ آپ کے حوصلے میں کوئی رتی برابر فرق آیا ہو ۔ آپ نہایت نفیس انقلابی انسان تھے ۔ طالب علمی کے زمانے سے ترقی پسند سیاست میں متحرک رہے ۔ آپ کی خدمات کا اعتراف مزدور کسان عوام اور تمام ملک کی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے کیا ۔ صدر پاکستان عارف علوی ، وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خاص طور پر اپنے تعزیتی پیغام میں آپ نے عزیز و اقارب کے ساتھ دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ا ;203; آپ کی مغفرت کرتے ہوئے جنت و فردوس میں جگہ دے ۔ چیف آف آرمی کے اس تعزیتی پیغام کو سب نے سراہا ہے ۔ یہ پیغام بلوچستان کے عوام کےلئے وقت کی ضرورت بھی تھی ۔ امیر حاصل خان بزنجو مرحوم کی رحلت سے پاکستان کی سیاست میں بہت بڑا خلا پیدا ہوا ۔ جسے فل کرنا ممکن نہیں دکھائی دیتا ۔ آپ نے دستور ، پار لیمان اور جمہوریت کےلئے آپ کی خدمات ہمیشہ نا قابل