- الإعلانات -

کشمیرکی حیثیت تبدیل کرنے کے جھوٹے بھارتی دعوے

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جموں و کشمیر کو خودساختہ اٹوٹ انگ قرار دینا مضحکہ خیز ہے ۔ بھارتی بیان سلامتی کونسل کی قراردادوں اور تاریخی و قانونی حقائق کے برخلاف ہے ۔ بھارتی دعوں کی کوئی بنیاد نہیں ۔ بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کےلئے مایوس کن حد تک کوششیں کر رہا ہے ۔ بھارت کا اس معاملے پر کوئی تاریخی، قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے ۔ بھارت کے جھوٹے دعوے حقائق نہیں جھٹلا سکتے بھارت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینا ہوگا ۔ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا کشمیریوں سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ پاکستان نے پاک چین وزرائے خارجہ ڈائیلاگ کے مشترکہ اعلامیے پر بھارت کا بیان سختی سے مسترد کرتے ہو ئے کہا کہ بھارتی بیا ن سلامتی کو نسل کی قراردادوں اورحقائق کے بر خلاف ہے اس کے دعووَں کی کو ئی بنیاد نہیں ۔ بھارتی وزارت خارجہ کا جموں و کشمیر کو خود ساختہ اٹوٹ انگ قرار دینا مضحکہ خیز ہے ۔ بھارتی بیان سلامتی کونسل کی قراردادوں اور حقائق کے بر خلاف ہے ۔ بھارتی دعووَں کی کوئی بنیاد نہیں ۔ بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے مایوس کن حد تک کوششیں کر رہا ہے ۔ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ کشمیریوں سے آزادانہ و غیر جانب دارانہ استصواب رائے کا وعدہ کیا گیا تھا لہذا کشمیر کے عوام کو عالمی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے ۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کو بھارت پر دباوَڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے ۔ بھارت کبھی کشمیریوں اور ان کے مسائل کو تسلیم نہیں کرے گا ۔ ہماری نوجوان نسل جانتی ہے کہ بھارت کشمیر میں کیا کر رہا ہے ۔ بھارتی صحافی اور مصنفہ ارون دھتی رائے نے کہا ہے کہ نہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی فوجی طاقت مسئلہ کشمیرکا حل ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو وہاں کی عوام پر چھوڑ دیا جائے ۔ مودی کی پالیسیوں کے باعث بھارت انتہا پسندی کا شکار ہوگیا اور بھارتی میڈیا سے لے کر عوام تک جنگی جنون میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے پاکستان کی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی حق خودارادیت کیلئے غیرمشروط اور غیرمتزلزل حمایت کرنے پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو مستقل طور پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے تعاون کر رہا ہے ۔ کشمیریوں نے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچایا ہے کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں تھا ۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن صرف مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ہی ممکن ہے اسلئے ضروری ہے کہ یہ تنازعہ جلد از جلد حل ہو ۔ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری دیرینہ تنازعہ کشمیر حل کرنے کیلئے کردار ادا کرے ۔ بھارتی قیادت کا یہ طرزعمل نیا نہیں ۔ ماضی میں جب بھی پاکستان نے مذاکرات میں کوئی تجویز پیش کی تو بھارت نے اسے قبول نہیں ۔ جب بھارتی لیڈر اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر کشمیر سمیت تمام مسائل پر جامع مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم ہندوستان من موہن سنگھ سے جب جموں وکشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’ آپ کو یاد رکھنا ہوگا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ ۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ہی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا اور جب اس عالمی ادارے نے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیریوں کو دے دیا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا لیکن کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کی کاروائی بھی جاری رکھی ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی برقرار ہیں ۔ بھارت نے ابتداء میں تو ان قراردادوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا ۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ آج بھی پاکستان اور بھارت اپنے وسائل کا زیادہ تر حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں ۔ اگربھارتی حکمرانوں نے کشمیر کے بارے میں اٹوٹ انگ کا راگ الاپنے کی رٹ بند نہ کی تو دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوں گے اور دونوں ایٹمی ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ بڑھتا جائے گا ۔ جو نہ صرف دونوں ملکوں کےلئے تباہ کن ہوگی بلکہ عالمی امن بھی تباہ کر سکتی ہے ۔ کشمیر کے پائیدار حل کےلئے کوششوں کو اولین اہمیت دینی چاہیے اور اسے مزید الجھانے کی بجائے سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے ، بصورت دیگر جنوبی ایشیاء میں ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا ۔ بھارت جب تک خلوص نیت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر لچک کا مظاہرہ نہیں کرتا اس کے بغیر آگے قدم بڑھانا مشکل ہے ۔ بھارت نے اگر ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی رٹ نہ چھوڑی اور پاکستان بھی اپنے روایتی مؤقف پر ڈٹا رہا تو پھر مسئلہ کشمیر کا تصفیہ مؤخر ہو جائے گا ۔ بھارت کا کشمیر ایشو پر کوئی تاریخی، قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ۔ بھارت کے جھوٹے دعوے حقائق نہیں جھٹلا سکتے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو جھٹلایا جا سکتا ہے ۔ بھارت کشمیری عوام کے بنیادی حقوق غصب کیے ہوئے ہے ۔