- الإعلانات -

دشمن کے عزائم کوناکام بنانے کے لئے چوکس رہناہوگا

بلاشبہ ہمارامکاردشمن ملک میں امن کوسبوتاژ کرناچاہتاہے ، ہ میں ملک کے اندر بدترین دہشت گردی سے پالا پڑا جس میں ہماری سکیورٹی فورسز کے دس ہزار جوانوں اور افسران سمیت ملک کے 70 ہزار سے زائد شہریوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ افواج پاکستان کو اس تناظر میں سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ لڑنا پڑی جو کئی مراحل سے گزرتے ہوئے اب دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی پر منتج ہورہی ہے جبکہ ہزیمتیں اٹھاتے دہشت گرد اس وقت بھی خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کی شکل میں پاکستان کی سلامتی چیلنج کرتے نظر ;200;تے ہیں ۔ ان دہشت گردوں کو بھی یقینی طور پر ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ہی سرپرستی اور معاونت حاصل ہے جو ہر محاذ پر پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے ۔ اسی تناظر میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دشمن کی طرف سے انتشار پیدا کرنے اور آپریشن ردالفساد کے ثمرات ضائع کے عزائم ناکام بنانے کیلئے ہ میں ثابت قدم اور چوکنا رہنا ہوگا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے داواتوئے سیکٹر کا دورہ کیا جہاں سرحدی نگرانی اور امن اقدامات کو مستحکم بنانے کا کام جاری ہے ۔ بعدازاں وہ میرانشاہ بھی گئے ۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد کے ان علاقوں میں استحکام کے اقدامات کی بدولت ان ناقابل رسائی علاقوں میں بھی غلبہ حاصل کر لیا گیا جنہیں دہشت گرد اپنی کمین گاہوں میں بدل کر وہاں سے مقامی آبادی اور سکیورٹی فورسز کی عقبی پوزیشنوں کے خلاف کارروائیاں کرتے تھے ۔ ان علاقوں میں کارروائیوں کے دوران نوے سے زائد ;200;ئی ای ڈیز برآمد کر لی گئیں ۔ سرحد کے اس دشوار گزار علاقہ میں باڑ کی تنصیب جلد شروع ہو جائے گی ۔ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں بین الاقوامی سرحد کے باقی ماندہ علاقہ کا بھی موثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ اس کنٹرول کی بدولت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آبادی کو مزید تحفظ حاصل ہو گا اور سرحد سے غیر قانونی نقل و حرکت کا مزید سدباب ہو گا ۔ آرمی چیف کو پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب سمیت امن کو مستحکم کرنے کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ فوجی دستوں کے ساتھ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے ان کی قابل تعریف آپریشنل کارکردگی اور عمدہ مورال کو سراہا ۔ ان کارروائیوں کیلئے قبائلی عوام کی غیرمتزلزل حمایت کو سراہتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ان علاقوں میں کافی حد تک امن بحال ہو گیا ہے ۔ تاہم مشکل سے حاصل کی گئی اس کامیابی کو برقرار رکھنے کیلئے مقامی عوام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول انتظامیہ کے اشتراک کار کی ضرورت ہے ۔ ہم نے امن اور استحکام کا عزم کر رکھا ہے ۔ اسی لئے پاکستان سرحد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف سی کی استعداد کو ٹھوس بناکر اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ ہ میں دشمن کی طرف سے آپریشن ردالفساد کے دوران حاصل کردہ کامیابیوں کو ضائع کرنے اور انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے ہ میں چوکس اور ثابت قدم رہنا ہو گا ۔ بلاشبہ پاک فوج ملک کے اندر اور باہر پاکستان کے تحفظ کی پاسبان ہے ۔ پاک فوج کی اولین ذمہ داری وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے ۔ اس ذمہ داری سے فوج کبھی غافل نہیں رہی ۔ دشمن کی جارحیت کی صورت میں اسے ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا گیا جس کی مثالیں ایل او سی پر بھارت کی شرانگیزیوں کا جواب ہے ۔ پاک فوج کو ملک کے اندر دہشت گردوں کے ساتھ نبرد;200;زما ہونے کا بھی چیلنج درپیش رہا ۔ اس میں بھی فوج سرخرو ہوئی ۔ دراصل ہ میں خطے میں جس مکار دشمن سے پالا پڑا ہے اسکی بنیاد پر ہ میں دفاع وطن کے تمام تقاضوں کو بہرصورت ملحوظ خاطر رکھنا ہے جس کی عساکر پاکستان مکمل اہل بھی ہیں اور اپنے پیشہ ورانہ فراءض کی انجام دہی میں ہمہ وقت چوکس بھی ۔ عساکر پاکستان کو سرحدوں پر صرف بھارت نہیں افغانستان کی جانب سے بھی ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں دفاع وطن کے تقاضے نبھانے ہیں جس کیلئے وہ ہمہ وقت چوکس اور سرحدوں پر دشمن کی پھیلائی سازشیں ناکام بنانے کیلئے مکمل تیار ہیں اور جانفشانی کے ساتھ دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دے بھی رہی ہیں ۔ اسکے ساتھ عساکر پاکستان ملک کے اندر دشمن کے پھیلائے دہشت گردوں سے بھی نبرد;200;زما ہیں اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کے تقاضے نبھا رہی ہیں اور خدا کے فضل سے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر عساکر پاکستان نے اندرونی و بیرونی ہر محاذ پر دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اسکی گھناءونی سازشیں ناکام بنائی ہیں ۔ ;200;ج ملک کے تحفظ و دفاع کیلئے قومی قیادتوں کے ماتحت پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے ۔ پاکستان بہرصورت اپنی سلامتی کے تحفظ و دفاع کیلئے کوئی بھی قدم اٹھانے کا حق مکمل رکھتا ہے ۔ پاک فوج جہاں جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کر رہی ہے وہیں کئی معاملات میں خارجہ امور پر نظر رکھے ہوئے اور اندرونی معاملات میں بھی عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے ۔ کرونا کے حوالے بھی پاک فوج کو ذمہ داری دی گئی ۔ وہ اس نے پوری کی ۔ ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے فوج کوشاں رہی اور اب محرم الحرام کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کیلئے کور کمانڈرز کو ہدایت کر دی گئی ہے ۔

نوازشریف کی واپسی اورقانونی ذراءع ۔ ۔ ۔ !

اس وقت نوازشریف کی واپسی کا سلسلہ چل رہاہے اور وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے تمام قانونی ذراءع استعمال کرنے کاکہاہے ، نوازشریف کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ دیگرایسے افراد جوکہ حکومت کو مطلوب ہیں ان کی واپسی کابھی بندوبست کرے ۔ چونکہ ماضی بعید سے لیکر حال تک یہ مسئلہ درپیش رہاہے کہ پاکستان میں کرپشن اور دیگرغیرقانونی دھندے کرنے والے بیرون ملک چلے جاتے ہیں اوربعدازاں ان کی واپسی ایک مسئلہ بن جاتی ہے ۔ وہ کیسے اورکیونکرباہرگئے یہ ایک علیحدہ بحث ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جانے ہی کیوں دیاجاتاہے ۔ جب واپسی کے تانے بانے بُننے کاوفن آناہے تویہ شکست وریخت کاشکار ہوتے نظرآتے ہیں ۔ ماوراس کے کہ کیاجرم اس نے کیاہے اس کوہرصورت ملک میں ہی رہناچاہیے کیا ہمارے ملک میں ان حکمرانوں نے جودہائیوں تک اقتدار سے چمٹے رہے انہوں نے کوئی معیاری ہسپتال تک نہیں بنائے لہذا ان کاحل ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ملک میں رہ کرعلاج کرائیں اسی وجہ سے آج وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ میاں نواز شریف کو واپس لانے کیلئے قانونی ذراءع استعمال کے جائیں ۔ وزیراعظم کے زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں حکومتی اور پارٹی ترجمان شریک ہوئے ۔ دوران اجلاس پارلیمنٹ میں قانون سازی سے متعلق ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی ۔ اس کے علاوہ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال میں اپوزیشن کے بیانیہ سے متعلق حکمت عملی اور نواز شریف کو وطن واپس لانے سے متعلق اقدامات پر بھی مشاورت کی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو مطلوب افراد کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے قانونی ذراءع استعمال کئے جائیں ۔ مسلم لیگ(ن) نے نواز شریف کی صحت پر سیاست کی ۔ ہم اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے ۔ اپوزیشن کا فوکس ملکی مفاد نہیں بلکہ شریفوں کے مقدمات سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے ۔ دوران اجلاس قومی اسمبلی میں فیٹف قوانین کی منظوری کے حوالے سے بھی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم نے ترجمانوں کو ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کو موثر طور پر اجاگر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ معیشت سے متعلق فیصلوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ اب پوری توجہ بہتر معاشی اعشاریوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے پر ہے ۔ مزید براں وزیراعظم عمران خان سے 10چینی کمپنیوں کے وفد نے ملاقات کی ۔ چینی کمپنیاں توانائی مواصلات زراعت سائنس ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں ۔ چینی کمپنیاں مالیاتی شعبے اور صنعت سمیت اہم شعبوں میں کام کر رہی ہیں ۔ اعلامیہ کے مطابق چینی سرمایہ کاروں نے سہولت دینے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا ۔ شرکا نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ چینی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ حکومتی پالیسیوں سے چینی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔ وزیراعظم نے معروف چینی کمپنی کے نمائندوں کا خیر مقدم کیا ۔ پاکستان چین کے ساتھ مستحکم تعلقات کو ترجیح دیتا ہے ۔