- الإعلانات -

جناح ،نہرو، ماءونٹ بیٹن اور کشمیر پر متنازع تحریر

یوم ;200;زادی پاکستان کے پُروقار موقع پر تحریک پاکستان کے بانیان بل خصوص قائداعظم محمد علی جناح کی غیرمعمولی قومی خدمات کو ریاستی اور عوامی سطح پر مقامی اور بین الاقوامی دانشوروں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک قومی ذمہ داری بھی ہے تاکہ عوام الناس بل خصوص نئی نسل اپنے قائدین کی جدوجہدِ ;200;زادی سے ;200;شنا ہو کر قومی ویژن کو ;200;گے بڑھانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کر سکے ۔ قومی ;200;زادی کے موقع پر اگر چند دانشور بیرونی ڈِس انفارمیشن سے متاثر ہوکر حقائق کو توڑ مڑور کر فکر قائد پر شعوری یا غیر شعوری طور پر کیچڑ اُچھالنے کی کوشش کرتے ہیں جسے بھارتی میڈیا اپنے مفاد میں سیاق و سباق سے ہٹ کر اینٹی پاکستان رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ریاستی اداروں کا کام ہے کہ وہ نئی نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے والی تحریروں کی بیخ کنی کےلئے اپنا کردار ادا کریں لیکن اگر ریاست ِ پاکستان خاموش رہتی ہے تو اِسے ایک قومی المیہ سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ یوم ;200;زادی کے موقع پر یہ اَمر ناقابل فہم ہے کہ ایک ممتاز ٹی وی اینکر اور کالم نگار ڈاکٹر معید پیرزادہ جو بین الاقوامی امور پر کولمبیا یونیورسٹی نیو یارک اور لندن ا سکول ;200;ف اکنامکس سے فارغ التحصیل ہیں اور گلوبل ویلیج نامی تھنک ٹینک کے روحِ رواں بھی ہیں نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وڈیو ٹاک میں ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کے حوالے سے بنیادی حقائق کی توضیح کے دوران ٹیلرنگ سے کام لیتے ہوئے دانستہ یا نادانستہ طور پر تقسیم ہند کی تاریخ میں بانیانِ پاکستان کے مثبت کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انگریزی زبان میں لکھے ہوئے مقالے اور وڈیو گفتگو کے عنوانات میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ;231;کی ذات گرامی کو بھی منفی انداز میں لپیٹنے کی کوشش کی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ اِس وڈیو ٹاک کے عنوان کو جلی حروف میں لکھا گیا کہ ;34; سابق وائسرائے ہند ماءونٹ بیٹن نے قائداعظم کو کس طرح بے وقوف بنایا;34; جبکہ اِس انگریزی مقالے کے عنوان کو انٹر نیٹ یوٹیوب پر عوام الناس کو بدگمان کرنے کےلئے اُردو زبان میں انتہائی بے حکمتی سے لکھا گیا ہے ;34;ماءونٹ بیٹن نہرو گٹھ جوڑ ، جناح بے خبر;34; ۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ڈاکٹر معید پیرزادہ نے غیر جانبدار مصنفین کی رائے سے اپنے مقالے کو مزین کرنے کے بجائے اپنے نفسِ مضمون کو ثابت کرنے کےلئے لارڈ ماءونٹ بیٹن اور لیڈی ماءونٹ بیٹن کےلئے نرم گوشہ رکھنے والے مصنفین ایلن کیمبل جانسن ، جنرل لارڈ اسمے ،لیری کولنز و لیپارے ڈومنیکو، جینیٹ مورگن کے علاوہ نہرو گاندہی، سردار پٹیل کے وفادار اور انتظامی امور میں ماءونٹ بیٹن کے معاون وی پی مینن کی نگارشات کو استعمال کرتے ہوئے حقائق جاننے کےلئے عقل و فہم سے کام نہیں لیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بانیانِ پاکستان کے حوالے سے اہم پاکستانی محقق اور تاریخ پاکستان پر گہری نظر رکھنے والے دانشور ڈاکٹر صفدر محمود بانیانِ پاکستان بل خصوص قائداعظم کی ہرزا سرائی اور تحریک پاکستان کے تاریخی حقائق کو درست پیرائے میں بیان نہ کرنے پر بہت سے مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ مملکت خداداد پاکستان کے دانشوروں کےلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں بانیانِ پاکستان کی حرمت کو محسوس کرتے ہوئے مناسب عزت و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھیں ۔ گو کہ معید پیرزادہ نے اپنے مقالے میں سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی کی کتاب ;34; ظہور پاکستان;34; کا حوالہ تو دیا ہے لیکن اِس کتاب کے اہم باب یعنی ریڈ کلف ایوارڈ میں دی گئی انتہائی معتبر معلومات سے قرار واقعی استفادہ حاصل نہیں کیا بلکہ قیام پاکستان اور قائداعظم کی مسلمانوں کےلئے علیحدہ مملکت کے مطالبے کو بدگمانیوں کا شکار کرنے کی شعوری یا غیر شعوری کوشش کی ہے ۔

اندریں حالات ،ڈاکٹر معید پیرزادہ نے جن انگریز مصنفین کی کتابوں سے اپنے مقالے میں مدد حاصل کی ہے اُن میں ماءونٹ بیٹن کے پریس اتاشی ایلن کیمبل جانسن کی کتاب ;34;مشن ود ماءونٹ بیٹن;34; ، ماءونٹ بیٹن کے چیف ;200;ف سٹاف جنرل لارڈ اسمے کی کتاب ;34;لارڈ اسمے کی یاداشتیں ;34; ، لیری کولنز اور لیپائرے ڈومینیکو کی ریسرچ پر مبنی کتاب ;34;فریڈم ایٹ مڈ ناءٹ;34; ،ماءونٹ بیٹن کی اہلیہ ایڈوینا ماءونٹ بیٹن پر جینیٹ مورگن کی کتاب ;34; ایڈوینا ماءونٹ بیٹن کی ;200;بیتی;34; کے علاوہ ماءونٹ بیٹن ، سردار پٹیل اور جواہر لال نہرو کےلئے کام کرنے والے ریاستی انتظامی امور پر معمور ہندو شخصیت وی پی مینن کی کتاب ;34; انڈین ریاستوں کے انضمام کی کہانی ;34; وغیرہ شامل ہیں ۔ جبکہ حق تو یہی تھا کہ جموں و کشمیر میں نہرو ماءونٹ بیٹن کی بدترین دھوکہ بازی پر معید پیرزادہ کو کھل کر گفتگو کرنی چاہیے تھی لیکن اُنہوں نے نہرو اور ماءونٹ بیٹن کی فکر سے منسلک مصنفوں کی کتابوں کے پسندیدہ مندرجات تک اپنے ;200;پ کو محدود کرتے ہوئے بظاہر اِس موضوع پر غیر جانبدارانہ حقائق بیان کرنے والے مصنفین کے مقالے پڑھنے کی زحمت گوار نہیں کی ہے ۔ اندریں حالا ات ، راقم کو سینئر تجزیہ نگار ڈاکٹر صفدر محموو کی اِس رائے سے سو فیصد اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا پر قیام پاکستان اور قائداعظم کے ضمن میں معلومات کچھ پروفیسروں ، دانشوروں اور لکھاریوں کے پروپیگنڈے کے زیر اثر بدگمانیوں کا شکار ہیں ۔ ;34; مطالعہ کی عادت نوجوانوں میں تنزل پذیر ہے جبکہ مخصوص ایجنڈے کے تحت وڈیوز ، مضامین اور مخالف مواد کی مدد سے جہاں لوگوں کو پاکستان کی اساس اور قیام کے بارے میں بدظن اور گمراہ کرنا ہوتا ہے وہاں قائداعظم کے نظریات ، موقف اور مقدمے کو بھی مسخ کرنا ہوتا ہے;34; ۔ چنانچہ یہی کچھ سوشل میڈیا پردیکھنے میں ;200; رہا ہے جہاں حق کی ;200;واز کو منظم طریقے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اگر معید پیرزادہ دوہری شہریت کے مالک بھی ہیں تب بھی اُنہیں بیرونی مفادات سے بالاتر ہوکر بانیاں پاکستان کے حوالے سے اپنی ریسرچ میں غیر جانبدار ی سے حقائق بیان کرنے والے مصنفین کی کتابوں سے بھی استفادہ کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے ۔

درج بالا تناظر میں سوشل میڈیا پر اپنے تحقیقی مقالے میں ڈاکٹر معید پیرزادہ نے اپنا زور قلم جموں و کشمیر کے حوالے سے تقسیم ہند کے حقائق غیر جانبداری سے بیان کرنے کے بجائے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے مقالے کے نفس مضمون میں دو مفرضوں کو مہمیز دینے پر ہی لگا دیا ہے جسے بھارتی میڈیا کی اینٹی جناح لابی نے سوشل میڈیا پر کافی ;200;گے بڑھایا ہے ۔ اِن مفروضوں میں پہلے نمبر پر اُن کی تحقیق کہتی ہے کہ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ ریاست جموں و کشمیر کو ;200;زاد ریاست بنانے کےلئے کام نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ بھارت سے الحاق کرنا چاہتے تھے ۔ جبکہ حقیقت اِس کے برعکس ہے ۔ اپنے مفروضے میں زور پیدا کرنے کےلئے معید پیرزادہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہ لارڈ ماءونٹ بیٹن نے جون;47; جولائی 1947 میں وائسرائے ہند کے طور پر ریاست جموں و کشمیر کے دورے میں مہاراجہ ہری سنگھ کو کہا تھا کہ وہ کسی بھی ;200;زاد ہونے والی مملکت پاکستان یا ہندوستان کےساتھ الحاق کرنے میں ;200;زاد ہیں اور بقول معید پیرزادہ اُن کے پاس ماءونٹ بیٹن کی فکر پر یقین کرنے کے سوا کوئی اور ;200;پشن نہیں ہے ۔ البتہ حقائق کافی مختلف ہیں جبکہ کتاب;34; فریڈم ایٹ مڈناءٹ ;34; میں ہی وائسرائے ہند لارڈ ماءونٹ بیٹن کے سرینگر کے چند روزہ دورے میں مہاراجہ کشمیر سے تفصیلی ملاقات کا ذکر کیا گیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حقیقتاً وائسرائے کے طور پر ماءونٹ بیٹن کے اِس دورے کا مقصد جواہر لال نہرو سے طے شدہ خفیہ معاہدے کے تحت مہاراجہ کو بھارت کےساتھ الحاق پر راضی کرنا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(جاری ہے)