- الإعلانات -

بھارت ،مادری زبانوں کی فہرست سے اْردو غائب

مودی سرکارکی اعلان کردہ نئی تعلیمی پالیسی پر عمل درآمد ہوتے ہی اس کی مخالفت کا آغاز ہوچکا ہے ۔ حکومت نے مشمولاتی عمل کے ذریعے ایک جامع، شریک اور ہمہ گیر نقطہ نظر کےلئے نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 بنائی ہے ۔ جس میں ماہرین تعلیم کی آراء، فلیڈ تجربات ، تجرباتی تحقیق اور اسٹیک ہولڈر کی آراء کے ساتھ ساتھ بہترین طریقوں سے سیکھے گئے اسباق کو بھی مد نظر رکھا جائے گا ۔ مادری زبان کی فہرست میں اْردو زبان کو جگہ نہ دیئے جانے پر ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس پالیسی پر سوال اْٹھارہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ تمام زبانوں کا تذکرہ تعلیمی پالیسی میں ہے لیکن ہماری مادری زبان اْردو کو اس میں کیوں نہیں شامل کیا گیا ۔ ;238; خاص طور پر مہاراشٹرا میں جہاں کی علاقائی زبان ’’مراٹھی‘‘ اگر ریاست میں یہ پالیسی کا باقائدہ طور پر نافذ ہوگئی تو یقیناً مستقبل میں یہاں ’’اْردو‘‘ زبان ختم ہوجائے گی کیوں کہ نئی تعلیمی پالیسی میں جو لسانی فارمولا پیش کیا گیا ہے اْس فارمولا میں اْردو زبان کا کوئی تذکرہ نہیں ہے بلکہ مادری زبان کی فہرست میں اْردو کو نظر انداز کر کے اْس میں مراٹھی کے ساتھ ساتھ ہندی اور سنسکرت زبان کے فروغ کی خوب گنجائش رکھی گئی ہے ۔ اْردو زبان کو سہ لسانی فارمولہ میں شامل کرنے کے ضمن میں سرکار کی توجہ مبذول کرانے کےلئے ممبئی میں ایک آن لائن اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اس زوم میٹنگ میں کئی ماہرین تعلیم ، دانشوران اور اساتذہ نے خطاب کیا اور تجاویز پیش کیں ۔ اس میٹنگ میں کئی ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور ہیڈماسٹرز بھی موجود تھے ۔ ممبئی شہر کے کئی سرکردہ ماہر تعلیم نے بھی اس مسئلہ پر اپنی رائے اور مشوروں سے نواز ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ خواتین ونگ کی صدر ڈاکٹر اسماطیبہ زہرہ نے کہا ہے کہ ہ میں سرکار کی اس پالیسی پر نگرانی رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس پالیسی میں اْردو زبان کو شامل نہ کیا جانا متضاد با ت ہے ۔ معروف عالم دین مولانا محمود دریا بادی نے بھی اس معاملے میں اپنا احتجاج درج کرایا اور کہا کہ اس کےلئے لاءحہ عمل طے کیا جائے کہ کس طرح سے ہماری مادری زبان کے ساتھ دیگر زبانوں کو بھی اس میں جگہ دی جائے ۔ مہاراشٹرا میں مادری زبان مراٹھی ہے تو کیا مستقبل میں ہم اپنے اْردو اسکولوں کو بند کردیں ۔ ;238;اسی طرح اْتر پردیش میں بھی اْردو زبان بولنے اور پڑھنے والے ہیں جبکہ یہاں اْردو میڈیم کے بجائے ہندی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا ہے ۔ ایک اور مندوب نے کہا کہ سہ لسانی فارمولے کو اس پالیسی میں شامل کیا گیا ہے لیکن اْردو زبان کا تذکرہ نہ کیا جانا سب کےلئے باعث اضطراب ہے ۔ مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی پر قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہمودی نے کہا کہ بچوں کے گھر کی بولی اور اسکول میں سیکھنے کی زبان ایک جیسی ہونی چاہئے تاکہ بچے آسانی سے سیکھ سکیں ۔ پانچویں کلاس تک جہاں تک ممکن ہو بچوں کو ان کی مادری زبان میں پڑھانے کا انتظام ہونا چاہئے ۔ اب تک تعلیمی پالیسی ’ وہاٹ ٹو تھنک‘ کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی ، اب ہم لوگوں کو ’ہاوَ ٹو تھنک‘ پر زور دیں گے ۔ بچوں کو کتابوں کا بوجھ کم کرنا پڑے گا ۔ اعلی تعلیم کواسٹریم سے آزاد کرنا ہوگا ۔ آج ہر نظریہ کے لوگ اس نئی تعلیمی پالیسی پر من غور و خوض کر رہے ہیں ۔ اس پالیسی کی کوئی مخالفت نہیں کررہا ہے کیونکہ اس میں یکطرفہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ تعلیم پالیسی میں ملک کے اہداف کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل کیلئے نسل کو تیار کیاسکے ۔ کئی دہائیوں سے تعلیمی پالیسی میں کوئی تبدیل نہیں ہوئی تھی جس سے سماج میں بھیڑ چال کی حوصلہ افزائی ہورہی تھی ۔ کبھی ڈاکٹر ، کبھی انجینئر اورکبھی وکیل بنانے کی مقابلہ آرائی ہورہی تھی ، لیکن نوجوان اب تخلیقی نظریات پر عمل پیرا ہوسکیں گے ۔ اب نہ صرف مطالعہ ہی نہیں بلکہ ورک کلچر کو فروغ دیا گیاہے ۔ نوجوانوں میں تنقیدی سوچ تیار کرنا ہوگی ۔ مسٹر مودی نے کہا ملک میں اونچ نیچ کا جذبہ ،مزدوروں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ کیوں پیدا ہوا ۔ اس کے پیچھے بڑی وجہ تعلیم کا سماج سے لگاوَ نہیں ہونا رہاہے ۔ اس نئی تعلیمی پالیسی میں اس پر بھی خاص زور دیا گیاہے ۔ اسٹوڈنٹس جب تک کسانوں کے کھیتوں میں کام کرتے نہیں دیکھیں گے تب تک طلبا محنت کی اہمیت کو کیسے سمجھیں گے ۔ مودی سرکار کی نئی تعلیمی پالیسی پر ہندوستان بھر میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ تمام اعتدال پسند دانشوروں کا اتفاق ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے آر ایس ایس کا ایجنڈہ بچوں کے ذہنوں میں تھوپنے کی سعی کی جا رہی ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی کہا ہے کہ مودی سرکار انسانیت اور آئینی اصولوں کو مسلسل تباہ کر رہی ہے اور اس نئی تعلیمی پالیسی کا مقصد آر ایس ایس کا ایجنڈہ لوگوں پر نافذ کرنا ہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی میں تمام مسلم حکمرانوں و لیڈران کے کرداروں کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے ۔ ٹیپو سلطان کے علاوہ مولانا ابوالکلام آزاد کو بھی ’’ولن‘‘ کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ بھارتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی بچوں کے مستقبل کو مخصوص انتہا پسندانہ سیاسی رخ نہ دے کیونکہ یہ بالآخر خود ہندوستان کی تباہی پر ہی منتج ہو گا ۔ اس تعلیمی پالیسی میں ’’ اکبر اعظم‘‘ جیسے ہندو نواز حکمران کو بھی ’’ بیرونی حملہ آور ‘‘ قرار دیا گیا ہے ۔ بھارت کی انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے نریندر مودی سے مدارس میں اردو اور عربی زبان پر پابندی عائد کرتے ہوئے انگریزی اور ہندی کو راءج کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔