- الإعلانات -

وفاقی کابینہ ،نوازشریف کی واپسی سمیت اہم فیصلے

وفاقی کابینہ نے نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے کہاہے کہ اُن کواپس لایاجائے ، وزیراعظم نے کہاکہ نوازشریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے ،سوال یہ پیداتاہے کہ جب نوازشریف علاج کے لئے بیرون ملک گئے تھے اسی وقت اس حوالے سے تحفظات کا اظہار ہونا شروع ہوگیاتھا، کمال حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ نوازشریف کادور حکومت طویل عرصے تک رہا لیکن اس دوران انہوں نے کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں پر’’بادشاہ سلامت‘‘کاعلاج ہوسکے، ہوناتویہ چاہیے تھا کہ انہیں جانے ہی نہ دیاجاتا لیکن اب جب وہ چلے گئے ہیں تو حکومت کی اس حوالے سے بے چینی دیدنی ہے ۔ نوازشریف کوواپس لانا اتنا آسان بھی نہیں ایک نوازشریف ہی نہیں بلکہ متعددایسے سیاسی رہنماہیں جو بیرون ملک سکون کی زندگی گزاررہے ہیں ، ان پرلوٹ مار اورکرپشن کے الزامات بھی ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سے قابل ذکراقدامات نظرنہیں آرہے اب جبکہ وزیراعظم نے کہہ دیاہے کہ تو دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے ۔ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس کے دوران ملکی تازہ سیاسی صورت حال پر طویل مشاورت ہوئی ۔ اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی وطن واپسی اور مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا معاملہ زیر بحث آیا ۔ وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے مریم نواز کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے نیب کے باہر جو کیا اس پر انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے تھا ۔ کچھ بھی ہو جائے مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے ۔ اجلاس کے دوران وزراء نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ بھی اٹھایا ۔ اجلاس کے دوران کابینہ اراکین نے کہا کہ قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم کی جانب سے افسوسناک زبان استعمال کی گئی ۔ وفاقی وزیر آبی وسائل نے کہا کہ عوام سے ووٹ گالیاں سننے کیلئے نہیں لئے تھے ۔ آئندہ ہ میں گالی دی گئی تو منہ توڑ جواب دیں گے ۔ وزرا نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کی عزت و تکریم کا بھی احساس نہیں کیا گیا ۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ سپیکر کو بدزبانی کے مرتکب ارکان کی رکنیت معطل کرنا چاہئے ۔ کابینہ اجلاس کے دوران نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے قانونی طریقہ کار پر بھی مشاورت ہوئی ۔ کابینہ ارکان نے کہا کہ بیماری کا سرٹیفکیٹ دکھا کر ملک سے بھاگنے والوں کو اب کوئی بیماری نہیں ۔ وفاقی کابینہ نے ملک سے بھاگے ہوئے مجرم کی وطن واپسی کےلئے ہر ممکنہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ میں پشاور تا طورخم سیکشن شامل کیا جائے ۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے ایم ایل ون میں پشاور سے طورخم کا سیکشن بھی شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے مفصل رپورٹ طلب کر لی ۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی پشاور تا طورخم سیکشن کو ایم ایل ون میں شامل کرنے کی حمایت کر دی ۔ وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے خلاف سیاسی محاذ تیز کرنے پر مشاورت بھی ہوئی ۔ اجلاس کے دوران نوازشریف کو وطن واپس لانے پر مشاورت مکمل کر لی گئی ۔ کابینہ نے گیارہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری بھی دی ۔ کابینہ اجلاس میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں کراچی سمیت صوبہ سندھ کی عوام کو مشکلات کے حوالے سے اظہار تشویش کیا گیا ۔ اجلاس کو کوٹہ کے نظام خصوصا سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور ان علاقوں کی عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے حوالے سے کوٹہ سسٹم کی افادیت پر بریف کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کوٹہ سسٹم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں اور طبقات کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ کوٹا سسٹم پہلے کی طرح جاری ہے جس کا مقصد پسماندہ لوگوں کو دیگر حصوں کے لوگوں کے برابر لانا ہے ۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوٹہ سسٹم میں انصاف کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعظم نے گندم اور چینی کے معاملات پر بھی بریفنگ لی ۔

کراچی میں بارشیں ،89سالہ ریکارڈٹوٹ گیا

مون سون کے چھٹے سپیل کے دوران بارش نے کراچی حیدرآباد سمیت سندھ بھرکو سیلابی صورتحال سے دوچار کر دیا ۔ حادثات میں 2بچوں سمیت 4افراد جاں بحق ہو گئے ۔ ملیر ندی کا پل بہہ گیا ،لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پہاڑی تودہ گرنے سے درجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئیں ۔ جھونپڑیوں ، متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ،400فیڈرز ٹرپ کر نے سے آدھا شہر بجلی سے محروم ہو گیا جبکہ کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹاءون کے 80فیصد مکین گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔ سڑکیں تالاب بن گئیں ، پانی گھروں کے بعد دفاتر ہسپتالوں بجلی تنصیبات میں داخل ہو گیا ۔ جبکہ زیریں سندھ کے بیشتر علاقوں میں بھی موسلادھار بارش کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔ دریں اثنا گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ۔ گورنر سندھ نے بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ 1931 سے ریکارڈ جمع کرنے والے محکمہ موسمیات کی 89 سالہ تاریخ میں کراچی میں اگست کے دوران ایسی بارشیں نہیں ہوئیں ۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر نے بارش کے بعد کراچی کی صورتحال پر کہا کہ حالیہ بارشوں سے کراچی کے متعدد علاقے شدید متاثر ہوئے ۔ بارش کے باعث لٹھ اور تھڈو ڈیم اوور فلو ہو گئے ۔ متاثرہ علاقوں میں آرمی کی ٹی میں سول انتظامیہ کے ساتھ مصروف عمل ہیں ۔ لٹھ اور تھڈو ڈیم اوورفلو ہونے سے ناردرن بائی پاس اور ملیر ندی میں سیلابی صورتحال ہے ۔ پاک آرمی اور رینجرز کی 70 ٹی میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہیں ۔ آرمی ٹی میں قائد آباد کے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں ۔ چیف ;200;ف ;200;رمی سٹاف نے کراچی کور کو اندرون سندھ اور کراچی میں حالیہ بارشوں سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے فلڈ ریلیف ;200;پریشن کو تیز کرنیکی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں کو ہر صورت متاثرہ ;200;بادی تک پہنچنا چاہئے اور انہیں تمام ضروری امداد فراہمی کرنی چاہئے ۔

ایس کے نیازی نے جوخبردی، ہمیشہ سچ ثابت ہوئی

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹراورروز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کایہ خاصارہاہے کہ انہوں نے ہمیشہ سے اپنے ناظرین اورقارئین کو نہ صرف آنے والے وقت میں پیش ہونےوالی خبروں سے آگاہ رکھابلکہ ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں اور اپوزیشن کوبھی آگاہ کیاکہ کیاہونے جارہاہے ۔ روزنیوزکے پروگرام سچی بات میں انہوں نے کہاکہ اے پی سی کچھ نہیں ، یہ صرف عمران خان کو دباءو میں لانے کیلئے بلائی جاتی ہے ، تینوں پارٹیوں نے ملک کو لوٹا ، تاہم عمران خان نیک اور محنتی ہیں ، میں نے پیٹریاٹ میں رپورٹ چھاپی ، عمران خان نے نوٹس لیا، پیمرا نے ایکشن لیا، تین دن کام ہوا پھر ٹھپ ہوگیا ، پیمرا نے عمل کرایا کہ بھارتی فل میں کیبل پر نہ چلیں ، زمینی حقائق کے بارے میں کسی کو علم نہیں ، میں نے یہ باتیں آرمی چیف اور شبلی فراز سے بھی کی ہیں ، وزیر اعظم چاہتا ہے کہ سب کچھ ہو جائے ، لیکن وہ احساس کمتری میں شامل ہے کہ یہ ہوتا رہتا ہے، جس کو موقع ملتا ہے وہ ہی ملک کو لوٹ رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا سے بچاءو ، افواج پاکستان اور عمران خان کی محنت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ، افواج پاکستان جو بھی کام کرتی ہے وہ ملک کے مفاد میں کرتی ہے ، فوج نیوٹرل ہے ، عمران خان کو یہ کریڈٹ ضرور دیں کہ افواج پاکستان سے دوست کام لے رہے ہیں ،جولائی کے مہینے میں ایس کے نیازی نے کہا تھا کہ نظام صدارتی سسٹم کی طرف جا رہا ہے ، گزشتہ برس جون میں بھی ایس کے نیازی نے بتا دیا تھا کہ اے پی سی سے کچھ نہیں ہو گا، ایس کے نیازی نے کہا کہ اپوزیشن میں اتفاق رائے نہیں ہو سکتا ، میں آٹھ سالوں میں جو بات کی وہ اللہ تعالیٰ نے صحیح ثابت کرائی ۔ پارلیمانی الیکشن میں ن لیگ اور صدارتی الیکشن میں عمران خان جیت جائیں گے ، عمران خان کی پارٹی کی کوئی ووٹ نہیں دے گا، نظام کو صدارتی نظام کی طرف لے جائیں ، عمران خان کو اس میں کوئی شکست نہیں دے سکتا ، میں بھی صدارتی نظام کا حامی ہوں ۔