- الإعلانات -

مقدس عشرہ اور مسلکی ہم آہنگی

سانحہ کربلا تاریخِ انسانی کے المناک واقعات میں سے ایک ایسا واقعہ ہے جسے رہتی دنیا تک کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا ۔ چودہ سو برس قبل پیش ;200;نےوالے سانحہ نے نہ صرف تاریخ کے دھارے کو بدل ڈالا بلکہ حریت اور انسانیت کی سر بلندی کے ایسے نقوش بھی چھوڑے جس سے ہر مذہب کے انسان ضیا ء پاتے رہیں گے ۔ نیلسن مینڈیلا نے جس طرح اپنی قوم کو صعوبتیں برداشت کر کے غلامی کی دلدل سے نکالا تھا اسے عصر حاضر میں ایک بڑا نجات دہندہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے،انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھاکہ میں نے بیس سال جیل میں گزارے ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ تمام شرائط پر دستخط کر کے رہائی پا لینی چاہئے لیکن مجھے امام حسین;230; اور واقعہ کربلا یاد آ گیا ۔ شاید اسی لئے مسز سروجنی نائیڈو کو کہنا پڑا کہ حسین دنیا کے تمام مذاہب کے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ہر کمیونٹی کےلئے باعث فخر ہیں ۔ ایک لبنانی غیر مسلم مصنف انتھونی بارا نے اپنی کتاب حسین ان کرسچیئن آئیڈیالوجی میں لکھا ہے کہ جدید و قدیم دنیا کی تاریخ میں کوئی جنگ ایسی نہیں جس نے ہمدردی اور پذیرائی حاصل کی ہو، صرف معرکہ کربلا ہی ہے جس سے بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں ۔

صبر و استقامت اور اپنے نظریے پہ ڈٹ جانے کا نام حسین اور عین درس کربلا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں بیت گئیں امام عالی مقام ;230;اور ان کے 72جانثاروں ساتھیوں کے جذبہ ایثار کو دنیا خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مثالیں پیش کرتی ہے جبکہ یزید کا نام ;200;ج بھی سامراج کا نمائندہ اور ملامت کا استعارہ ہے ۔ امام عالی مقام;230; کی قربانی اور اس سے ضیاء پانے والا درس حریت ہم مسلمانوں کےلئے اس لئے بھی اہم ہے کہ وقت کے یزید اور کئی سامراجی نمائندے آج بھی امت کا شیرازہ بکھیرنے کے در پے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ امام حسین ;230;کے ماننے والے فرقہ واریت اور مسلکی تعصب کا شکار ہو کر باہم دست و گریباں ہو جائیں ۔ اس گھناونی سازش کے لئے محرم الحرام ہی وہ حساس مہینہ ہے جس میں وہ تاک میں رہتے ہیں ۔ ماضی قریب میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح محرم کے اجتماعات ، مساجد اور امام بارگاہوں پر المناک حملے اور نامور مذہبی اسکالرز کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی ۔ ٹی ٹی پی ، القاعدہ ،داعش اور پاکستان دشمن بین الاقوامی ایجنسیوں کے کئی ;200;لہ کار دہشت گردوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کےلئے استعمال کیا گیا، نتیجتاً پاکستان مخالف میڈیا نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والی سکیورٹی فورسز کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ;200;ج حالات یکسر مختلف اور امن و امان کی صورتحال کافی حد تک تسلی بخش ہے تاہم دشمن عناصر کی گھناونی چال سے غافل نہیں رہا جا سکتا ۔ ہ میں ہر وقت چوکس اور بیدار رہنا ہو گا، کیونکہ دشمن کو پاکستان کے استحکام کی جانب یہ بڑھتے قدم ایک ;200;نکھ نہیں بھا رہے ۔ حالیہ دنوں میں افغانستان میں ’’را‘‘ اور ’’این ڈی ایس‘‘ کی چھتری تلے کالعدم دہشت گرد جماعتوں کے ایک نئے گٹھ جوڑ کی جو اطلاعات سامنے ;200;ئی ہیں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دشمن قوتیں خدانخواستہ ان حساس دنوں میں کوئی گھناوَنا کھیل کھیل سکتی ہیں ۔ معاشرے کے مختلف طبقات کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام اتحاد ، مساوات اور پرامن بقائے باہمی کی حمایت کرتا ہے ۔ پاکستانی معاشرے خصوصاً علمائے کرام ، مدارس کی انتظامیہ ، دانشوروں اور سول سوساءٹی کو انتہا پسندی اور دشمن عناصر کے خلاف متحد رہنا ہو گا جو ملک میں بدامنی پھیلانے کےلئے فرقہ وارانہ مذہبی تشدد کو بڑھاوا دینے کا باعث بنتے ہیں ۔ محرم الحرام کا یہ مقدس ماہ اور خصوصاً یہ عشرہ متقاضی ہے کہ محراب و منبر سے اتحاد و یگانگت اور بھائی چارہ کے فلسفہ کو فروغ دیا جائے اور تمام مکاتب فکر امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کےلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ بحیثیت ایک ذمہ دار شہری ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ محرم الحرام کے دوران صبر و تحمل، برداشت ، رواداری اور اخوت وبھائی چارے کا مظاہرہ کریں ۔ شر پسند عناصر خصوصا ًسوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھیں اور ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے جو بیرونی اشاروں پر فرقہ واریت کی ;200;گ بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس وقت ہمارے دشمن ہمارے وجود کو مٹانے کے درپے ہیں جن کو ناکام بنانے کےلئے ضروری ہے کہ ہم جید علما کرام اور حکومت کی گائیڈ لائنز کی پیروی کرتے ہوئے اتحاد بین المسالک کو فروغ دیں ۔ اس امر کی بھی اشد ضرورت ہے کہ قومی میڈیا کے ذریعے اس ساری صورتحال سے عوام الناس کو موثر طریقے سے آگاہ رکھا جائے کہ محرم الحرام کے دوران ہمارے باہمی نفاق سے دہشت گرد اپنی مذموم کاروائیوں کیلئے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اس لئے مسلکی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف ایک مسلمان اور امام عالی مقام;230; کے پیرو کار کی حیثیت سے ایسے عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں ۔ فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا کرنےوالے عوامل میں ;200;ج سب سے اہم سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے، جس کے ذریعے انتہا پسند عناصر خود یا بعض کم فہم نوجوانوں کے ذریعے نفرت انگیز پوسٹ پھیلاتے اور فرقہ واریت کو ہوا دے کر ملکی امن وامان کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس صورتحال کا پاکستان کے عوام کو مکمل ادراک ہونا چاہئے اور تمام فرقوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دشمن کی چالوں کو سمجھنا چاہئے ۔ یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ سب مسالک کے سینکڑوں مذہبی اسکالرز اور علمائے کرام نے متفقہ فتوی’’ پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے پاکستان میں نفرت انگیز تقاریر ، فرقہ وارانہ تشدد ، دہشت گردی اور خود کش حملوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے ۔ تمام مسالک کے علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مقدس ایام میں امن برقرار رکھنے کےلئے قر;200;ن و سنت کی پرُ امن تعلیمات و احکامات کو اجاگر کریں ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ وہ فرقہ واریت،مذہبی اور مسلکی تعصب کی نفی کرے ۔ حرمت والے اس مہینے میں دہشت گرد مختلف فرقوں کے مابین اختلافات کو بروئے کار لانے اور فرقہ وارانہ ہم ;200;ہنگی کو نقصان پہنچانے کےلئے کسی بھی طرح کی مذموم کارروائیوں کا ;200;غاز کر سکتے ہیں ۔