- الإعلانات -

جناح ،نہرو، ماءونٹ بیٹن اور کشمیر پر متنازع تحریر

گزشتہ سے پیوستہ

چنانچہ اِسی تک و دو میں ماءونٹ بیٹن نے مہاراجہ کےساتھ ایک پورا دن ڈل جھیل پر فشنگ کے دوران بات چیت کرتے ہوئے بھی گزارا ۔ کتاب فریڈم ایٹ مڈ ناءٹ میں کہا گیا ہے کہ ماءونٹ بیٹن نے مہاراجہ کو کہا کہ اگر وہ بھارت کےساتھ الحاق کرتے ہیں تو وہ ریاست جموں و کشمیر کی سرحدوں کی حفاظت کےلئے ایک انفینٹری ڈویژن فوج بھیجنے کےلئے تیار ہیں ۔ ماءونٹ بیٹن کے بقول مہاراجہ ہری سنگھ نے واضح طور کہا کہ اُنہیں جناح کی جانب سے ہندو ہونے کے باوجود اعزازات اور اختیارات دینے کی ;200;فر کی گئی ہے لیکن وہ پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں بلکہ وہ ;200;زاد رہنا چاہتے ہیں ۔ ماءونٹ بیٹن نے بطور برطانوی وائسرائے ہند مہاراجہ پر دباءو ڈالتے ہوئے کہا کہ مہارجہ کے پاس ;200;زاد رہنے کا ;200;پشن موجود نہیں ہے، لہذا اُن کی فلاح بھارت سے الحاق کرنے میں ہی ہے ۔ مہاراجہ نے کہا کہ وہ مشاورت کے بعد اگلے دن مشترکہ پالیسی بیان دیں گے لیکن جب اگلے دن ماءونٹ بیٹن مہاراجہ کی ;200;مد کے منتظر تھے تو اُنہیں بتایا گیا کہ مہاراجہ کی طبعیت اچانک خراب ہوگئی ہے چنانچہ ماءونٹ بیٹن کو مقصد حاصل کئے بغیر دہلی واپس ;200;نا پڑا ۔

دوسرے اہم نکتے میں معید پیرزادہ نے انتہائی بے ربطی و بے ;200;ہنگی یعنی self contradiction کےساتھ اپنے مقالے کے اختتامی پیراگراف میں قائداعظم کے حوالے سے ایک انتہائی متنازع سوال قائم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ماءونٹ بیٹن نے کشمیر کیوں نہرو کے حوالے کیا;238; معید پیرزادہ نے اِس سول کا خود ہی جواب دیتے ہوئے اِسے لیڈی ماءونٹ بیٹن اور وائسرائے لارڈ ماءونٹ بیٹن کی جناح سے ذاتی نفرت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ : ;3468;enying ;75;ashmir (to ;74;innah) was also ;77;ountbatten;39;s way of takig revenge from the old barrister, he and ;69;dwina had come to hate;3446; در حقیقت قائداعظم ، نہرو اور ماءونٹ بیٹن کی منظم سازش سے بخوبی باخبر تھے اور اُنہوں نے ماءونٹ بیٹن کی بہترین کوششوں کے باوجود ہندو اکثریتی متحدہ ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کی تجویز کو ماننے انکار کردیا تھا اور برصغیر ہندوستان کے مسلم اکثریتی خطوں میں مسلمانوں کےلئے ایک علیحدہ خودمختار مملکت کے مطالبے کو تسلسل سے جاری رکھا ۔ قائداعظم انگریزی زبان اور لندن کے سیاسی کلچر سے اچھی طرح ;200;گاہ تھے چنانچہ ماءونٹ بیٹن کےساتھ انگریزی میں گفت و شنید ، سوال و جواب اور محاوروں کے تبادلہ کے دوران بات چیت میں گرما گرمی تو پیدا ہو سکتی تھی لیکن ایسی کسی تلخی کو ذاتی نفرت سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی ۔ تقسیم ہند کے حوالے سے لکھی گئی بیشتر مصنفین کی کتابوں میں یہ بات متفقہ طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ ماءونٹ بیٹن سے بّرصغیر ہندوستا ان کے مستقبل کے حوالے سے اپریل 1947 میں چھ ملاقاتوں کے دوران قائداعظم تسلسل کےساتھ مطالبہَ پاکستان پر ڈتے رہے ۔ اِس اَمر کی تصدیق فریڈم ایٹ مڈ ناءٹ میں ماءونٹ بیٹن کے بیان کے حوالے سے واضح طور پر کی گئی ہے : ماءونٹ بیٹن نے کہا کہ ;34; جناح کو تقسیم کے نظریہ سے دستبرداری پر ;200;مادہ کرنے کےلئے میں نے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کر ڈالیں لیکن میرے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں تھی کہ میں جناح کو متحدہ ہندوستان کے فلسفے پر قائل کر سکتا;34; ۔ لہٰذا معید پیرزادہ کی جموں و کشمیر میں نہرو ماءونٹ بیٹن گٹھ جوڑ کے حوالے سے گمراہ کن وڈیو گفتگو میں کشمیر میں نہرو ماءونٹ بیٹن گٹھ جوڑ کے حوالے سے جناح کو بے وقوف بنانے کے عمل یا جناح کوبے خبر قرار دینے سے اعتراز کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ ایسا کہنے سے بانی پاکستان کی ہرزا سرائی واضح طور پر جھلکتی نظر ;200;تی ہے ۔ ڈاکٹر معید پیرزادہ کی تحقیق اِس اَمر سے بھی نابلد نظر ;200;تی ہے کہ تقسیم ہند اور جموں و کشمیر کی تاریخ میں وقت گزرنے کےساتھ ایک مثبت تبدیلی یہ ;200;ئی تھی کہ 1967 میں سابق برطانوی وزیراعظم ہیرلڈ ولسن نے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں ٹرانسفر ;200;ف پاور کے حوالے سے اہم خفیہ دستاویزات شاءع کر دےگی، جس کے نتیجے میں اب تک بارہ سے زیادہ خفیہ معلوماتی والیم سامنے ;200; چکے ہیں جن میں بہت سی اہم اور مفید خفیہ دستاویزات کو پبلک کیا گیا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ اِن دستاویزات سے تقسیم ہند اور جموں و کشمیر کے حوالے سے ڈاکٹر عائشہ جلال کے علاوہ بیشتر بھارتی اور پاکستانی دانشوروں نے تحقیقی مقالے لکھنے میں استفادہ کیا ہے ۔ ;200;ئین سازی و تقسیم ہند پر بہت سی مفید کتابوں کے بھارتی مصنف ایچ ایم سیروائی جو ایک طویل مدت تک بھارت میں ایڈوکیٹ جنرل کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں نے بل خصوص اپنی کتاب (;80;artition of ;73;ndia;58; ;76;egend ;65;nd ;82;eality) میں انصاف پسندی اور غیرجانبداری سے کام لیتے ہوئے پنجاب اور کشمیر میں ماءونٹ بیٹن کی عظیم دھوکہ بازی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ;3484;he publication of ;86;ols;46; ;88; to ;887373; of the transfer of power and ;90;eglar;39;s book ;3977;ountbatten;39; has had the opposite effect of lowering ;77;ountbatten;39;s charater, conduct and stature as a ;86;iceroy;46; ;72;is great betrayal of ;80;unjab when at a secret meeting on 9 ;65;ugust 1947 he decided deliberately to withhold publication of ;3982;edcliffe ;65;ward on ;80;unjab;39;till after partition;46; ;70;urther ;73; have shown that the only description which can be given of the last five days of his viceroyalty is that they will be ;39;infamy;3946; ;83;ince the events as they actually happened are now known, ;73; have added that the contemporary verdict on ;77;ountbatten will be reversed, and ;72;istory will pass on him the dread sentence;3446;

حیران کن بات ہے کہ بقول ایچ ایم سیروائی، بّرصغیر کی تاریخ نے لارڈ ماءونٹ بیٹن پر تو ایک مہیب سزاکا تعین کر ہی دیا ہے کیونکہ لارڈ ماءونٹ بیٹن کی پنجاب باءونڈری کمیشن میں اِس تاریخی دھوکہ بازی کے باعث پاکستان اور بھارت کی ;200;زادی کے موقع پر خوشیاں منانے کے بجائے لاکھوں عوام کے قتل عام کی ذمہ داری بھی برطانوی حکومت کے ;200;خری وائسرائے لارڈ ماءونٹ بیٹن پر ہی عائد ہوتی ہے جس کا تذکرہ مولانا ابولکلام ;200;زاد کی کتاب کے پہلے ایڈیشن میں سنسر شدہ 30 صفحات کی تیس برس ۔ ۔ ۔ (جاری ہے)