- الإعلانات -

کشمیر یوں پر مظالم ، بھارتی دانشوروں کی تنقید

بھارت نے خاص طور پر گزشتہ سال اگست کے بعد سے 80 لاکھ کشمیریوں کو اپنا غلام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ہر روز کشمیریوں کے خلاف لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ، پکڑ دھکڑ، پیلٹ گن کا استعمال ، دکانوں اور مکانوں کا انہدام، خواتین سے بدتمیزی اور نہتے کشمیریوں کی شہادتیں ۔ پوری دنیا بھارتی اقدامات کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے مگر بھارتی سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ بھارت کے مظالم کیخلاف کشمیریوں اور انکے حامیوں کی آوازیں ہمیشہ اٹھتی رہی ہیں مگر بھارتی مظالم میں شدت آنے پر بھارت کے اندر سے بھی زوردار آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں اور ان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے ۔ بھارتی فوج بھی مودی سرکار کو طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی حل پر زور دے رہی ہے ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارت کی اعلیٰ شخصیات جن میں سابق وزیر خارجہ یشونت سہنا، سینئر صحافی بھارت بھوشن اور ایئر فورس کے سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک پر مشتمل ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے وادی کا دورہ کیا اور مودی حکومت کے حالات معمول پر ہونے کے دعوے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ۔ یشونت سہنا کا کہنا تھا کہ حالات نارمل نہیں ۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی دیکھا کہ ساری دکانیں بند ہیں ۔ کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ فون اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے ۔ کپل کاک نے موجودہ صورتحال کو یخ بستہ قید قرار دیتے ہوئے کہا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو یخ جیل میں رکھنے کے باوجود صورتحال کو معمول قرار دیا جا رہا ہے ۔ مودی حکومت اعلانات کی بجائے کشمیریوں کے درد کو محسوس کرے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما یشونت سنہا نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں وکشمیر کی 5اگست2019سے پہلے والی حیثیت اوربھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35;65;کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں گزشتہ سال بھارتی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی 5اگست 2019سے قبل کی حیثیت کی بحالی کے جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کے عزم کا خیرمقدم کیا ۔ جموں و کشمیر کی چھ بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے مقبوضہ کشمیر کی 5اگست2019سے قبل کی حیثیت کی بحالی کیلئے ایک اتحاد قائم کیا ہے ۔ یشونت سہنا نے ’’طاقت پر مبنی کشمیر پالیسی کو بے سود‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات ناگزیر ہیں ۔ مودی سرکار نے کشمیر کے حوالے سے جو طاقت پرمبنی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اسے بے مغز کہا جا سکتاہے کیونکہ اس پالیسی سے نہ تو کشمیر میں امن بحال ہو پائے گا اور نہ کشمیر مسئلے کے حل کی کوئی راہ نکل سکتی ہے ۔ مرکزی حکومت کشمیر میں طاقت کے بے دریغ استعمال کررہی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ پالیسی ناکام ہے ۔ مضبوط بیٹھوں سے کچھ حاصل نہیں ہو پائے گا کیونکہ طاقت آزمائی والے دماغ سے کام نہیں لیتے ۔ دنیا جان چکی ہے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے بھارتی فوجی کشمیریوں کا قتل عام کر رہے ہیں ۔ مودی سرکار کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہر کشمیری بغاوت ہر اْتر چکا ۔ ارون دھتی راءو اور جسٹس ریٹائرڈ کاٹجو کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد کی عرصہ سے حمایت کررہے ہیں ۔ اب مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر خود بھارتی اخبارات بھی بولنا شروع ہوگئے ہیں ۔ بھارت کے انگریزی اخبار ’’دی ٹیلیگراف‘‘ نے اس موضوع کو اپنی شہ سرخی بنایا ۔ ریاست کیرالہ میں ہندو انتہا پسندوں کے ہنگامے کی ایک تصویر شاءع کی اور لکھا کہ کشمیر میں ہم انہیں مارتے ہیں ، کیرالہ میں ہم انہیں عقیدتمند کہتے ہیں ۔ نریندر مودی کی انتہاپسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حالیہ دور اقتدار میں بھارت میں انتہا پسند ہندووَں کی سرگرمیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوج کے مظالم میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ بھارت میں بڑھتی انتہا پسندی پر وہاں کی نامور شخصیات جیسا کہ سابق بھارتی چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو اور اداکار نصیر الدین شاہ بھی مودی حکومت کی جانب سے انتہاپسند ہندووَں کو کھلی چھوٹ دیئے جانے پر تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں ۔ مودی حکومت اگر اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی اختیار کرتی اور ان کے فارمولا پر عمل کرتی تو مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا ۔ مودی ڈاکٹرائن کے مطابق کشمیر میں بھارت کے سات لاکھ سے زائدفوجی طاقت کے بیجا استعمال کے ذریعے امن لانے کی ناکام پالیسی پر عمل پیرا ہے ، حکومت کو گمان ہے کہ طاقت کے استعمال سے ہی کشمیر کی وادی پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن حالات اسقدر ابتر ہو چکے ہیں کہ وادی کو لہولہان کرنے کے باوجود امن کی تمام تر کوششیں بیکار جا رہی ہیں ۔ پروفیسر اجے کمار شرما کے مطابق بدقسمتی سے مودی حکومت نے کشمیر کے حالات سے نمٹنے کے لیے تمام تر وسائل طاقت کے استعمال پر جھونک دئیے جس سے کشمیریوں میں نفرت بڑھتی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ کا کہنا ہے کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ظالم مودی حکومت کو تارے دکھائے ۔ کشمیر اب ہندوستان کا کبھی حصہ نہیں رہے گا ۔ پروفیسر حامد خان نے کہا کہ پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں لوگوں کی بینائی ختم کر دی گئی نوجوانوں کو اسی طرح چْن چْن کر ہلاک کیا جارہا ہے جیسے فلسطین میں اسرائیلی فوجی کاروائیاں کر رہے ہیں ۔ عمران خان حکومت نے جس جرات مندانہ طریقے سے کشمیر کے مسلے کو اْجاگر کیا، اب خلیجی ممالک بھی پاکستان کے ہمنوا ہونا شروع ہو گئے ۔