- الإعلانات -

افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے

دنیا بھر میں جہاں بھی مختلف جھگڑے چل رہے ہیں ،جنگیں چل رہی ہیں یاپھر کوئی دوسرے ممالک حملہ آور ہیں ، ان تمام مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے ، اسی وجہ سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے اور سیاسی مسائل ہمیشہ باہمی گفت وشنید سے حل کئے جاتے ہیں ، افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں پر جب بیرونی حملہ آور آئے تو انہیں شکست کا ہی سامنا کرنا پڑا روس یہاں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوکر نکلا اور اب امریکہ کی بھی حالت مختلف نہیں ہے ، آج وہ افغانستان سے جانا چاہتا ہے اور اس کیلئے نکلنے کا پر امن راستہ مذاکرات ہی ہے اس سلسلے میں طالبان قیادت سے مذاکرات چل رہے ہیں پاکستان بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کررہا ہے ، اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی کاوشیں بھی نمایاں ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان سے افغان ہائی کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ٹیلی فون پر گفتگو کی ۔ عمران خان نے اس موقع پر پاکستان کے افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کا طویل عرصہ سے یہ یقین ہے کہ افغانستان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کا واحد سیاسی حل بات چیت کے ذریعے ممکن ہے ۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ افغان قیادت افغانستان کی خوشحالی، سلامتی اور پائیدار امن کیلئے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے اور اس کے سیاسی حل کیلئے کردار ادا کرے ۔ ادھر مختلف شعبوں بشمول پولٹری، چاول، فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل کے بڑے برآمد کنندگان کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ملکی برآمدات بڑھانے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کےلئے پر عزم ہے اس سلسلے میں برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ جولائی میں سرپلس کرنٹ اکاونٹ اور برآمدات میں مسلسل نمو اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے معاشرے کے کمزور اور غربت کے شکار افراد کی ضروریات کو پورا کرنا ہماری ذمہ داری اور اولین ترجیح ہے ۔ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ سبسڈی کے نظام کو موثرشفاف اور اہداف کے مطابق بنایا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری خزانے سے خرچ کی جانے والی رقم کا بہترین استعمال ہو ۔ نیزوزیراعظم عمران خان نے پبلک سروسز کی نگرانی اور بہتری کیلئے ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے، معاون خصوصی عثمان ڈار نے مستقبل کی منصوبہ بندی پر مبنی جامع پلان پیش کر دیا وزیراعظم نے ٹائیگر فورس کے ذریعے ای گورننس سسٹم لانے کی منظوری دے دی ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ٹائیگر فورس ای گورننس پلان پر مشاورت کی گئی ہے ۔ ٹائیگر فورس کے نوجوان مقامی سطح پر گورننس کے معاملات کو رپورٹ کر سکیں گے ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور صحت کی سہولیات سے متعلق حکام کو آگاہ کیا جائے گا ۔ پناہ گاہوں مارکیٹوں تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر سروسز کی فراہمی رپورٹ ہوگی ۔ تھانے کچہری لینڈریکارڈبجلی چوری اور عوامی شکایات پر بھی نظر رکھ سکیں گے ۔ سروسز کی فراہمی سے انکار یا رشوت ستانی کی کوشش کو رپورٹ کیا جا سکے گا ۔

بھارت کی پلوامہ رپورٹ

بھارتی الزام تراشیاں کسی بھی حالت میں تھمنے میں نہیں آرہی ، خطے کا امن و امان تباہ کرنے میں مودی سرکار پیش پیش ہے ، لیکن اب دنیا بھارت کی مکاریوں کو جان چکی ہے پھر پاکستان نے بھی دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر بھارتی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے ، آئے دن ایل اوی سی بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ پھر اسکے من گھڑت منصوبے جن کا وہ الزام پاکستان پر عائد کردیتا ہے یہ اس کی روزمرہ کی کارروائیاں ہیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس کو منہ توڑ جواب دیا اور دشمن کو منہ کی کھانا پڑی پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج بھارت بے نقاب ہوچکا ہے اسکے اندر ہی شکست ریخت شروع ہوچکی ہے ، پاکستان نے بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی نام نہادچارج شیٹ کویکسرمستردکردیا ہے جس میں بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرکے علاقے پلوامہ میں گزشتہ برس ہونےوالے حملے میں پاکستان کوملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کامقصد بی جے پی کے پاکستان مخالف بیانیے اوراس کے متعصبانہ سیاسی مفادات کومزیدہوادیناہے ۔ دفترخارجہ کے ترجمان زاہدحفیظ چودھری نے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان بھارت کے بے بنیاد الزامات کومسترد کرتاہے اوراس نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور وہ اس حملے کو پاکستان کے خلاف اپنے گمراہ کن پروپیگنڈے کےلئے استعمال کررہاہے ۔ بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات سے بالکل پہلے اس حملے کاہونا، حملے میں استعمال کئے گئے دھماکہ خیزموادکی مقبوضہ کشمیرسے برآمدگی اوربھارتی فورسز کے ہاتھوں اس حملے کے اہم ملزم کی ہلاکت جیسے حقائق متعددسوالات کوجنم دیتے ہیں ۔ دنیابخوبی آگاہ ہے کہ پلوامہ حملے سے انتخابات میں سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا اس لئے بھارت اپنے پروپیگنڈے سے عالمی برادری کوگمراہ نہیں کرسکتا ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کامقصد بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹاناہے ۔ پاکستان عالمی برادری کوبھارت کی طرف سے من گھڑت الزامات پر مبنی کارروائی اورغلط فہمی پرمبنی مہم جوئی سے پیشگی خبردارکرتارہاہے ۔ بھارت میں ریاستی انتخابات قریب آنے کے موقع پرآرایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے الزام تراشی کے اس گھناءونے منصوبے کامقصدایک مرتبہ پھرانتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھاناہے ۔

حکومت کو زمینی حقائق جاننے ہونگے

حکومت جب تک زمینی حقائق سے نا بلد رہے گی تو اسے مسائل کا ہی سامنا کرنا پڑتا رہے گا نیز جمہویت کا یہ حسن ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلا جاتا ہے ،اسی حوالے سے پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے ا یڈیٹر اورروزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روزنیوز ٹی وی کے مقبول پروگرام’’سچی بات‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہے کہ ایوان مچھلی منڈی بنا رہتا ہے ، کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی ، حکومت اپوزیشن کو ساتھ لیکر نہیں چلنا چاہتی ، کرونا کے خاتمے حوالے سے عمران خان کو کریڈٹ دینا ہوگا ، معیشت بہتر ہو رہی ہے ، اپوزیشن ان مثبت اقدام کو کیسے نظر انداز کرے گی ۔ کچھ تلخ حقائق ہیں ان کا سامنا کرنا پڑے گا، اگر زمینی حقائق کاعلم نہیں ہو گا تو مسائل حل نہیں ہونگے ۔ ، فوج کی حکومت کو مکمل حمایت حاصل ہے ۔ پروگرام میں شریک مسلم لیگ نون کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ اگر حکومت نواز شریف کو بجلی ، کراچی میں امن ، پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا کریڈٹ دے دے تو ہم عمران خان کو بھی کریڈٹ دے دیں گے ، جیسا آپ نے کہا کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے آج لاکھوں مزدور بے روزگار ہوئے ، پاکستانی معیشت دو سالوں میں اربوں نیچے گر گئی ، تمام رپورٹس کے باوجود چینی مہنگی ہو رہی ہے ۔ محسن شیخانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معیشت بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے ، جب معیشت تباہ ہو تو ملک کی تمام چیزیں تباہ ہو جاتی ہیں ، اس سے ملک کی ترقی وابستہ ہے چالیس ، بیالیس سالوں میں ہم نے دیکھا کہ اب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو کہیں نہ کہیں سہولت ملے ، کنسٹریکشن سے 72صنعتیں ایکٹو ہونگی، 50لاکھ فلیٹ ایک سوچ ہے ، ہم نے ایک لاکھ گھروں کا فائنل کر لیاہے ، تعمیراتی پیکج کے حوالے سے میٹنگز جا ری ہیں ، وزیر اعظم نے ملکی تاریخ میں تعمیراتی پیکج دیا ۔