- الإعلانات -

میں وکیل ہوں میرے سر پر دوپٹہ دو

انگریزسے آزادی حاصل کئے ہوئے ہ میں سات دہائیوں سے اوپر ہو چکا اور بظا ہر ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں لیکن دیکھا جائے تو ابھی تک ہم میں غلامی کے اثرات باقی ہیں پے در پے ہم پر حکمرانی کر نے والے جمہو ریوں اور آمروں کے کئی نظام اور کئی قانون بھی ہم پر آزمائے جا چکے ہیں اور ہم صدارتی اور پارلیمانی نظاموں سے لیکر شوریٰ تک کئی تجربوں سے بھی گزر چکے ہیں اور اب شاید ایک مر تبہ پھر صدارتی نظام کی طرف جا رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجو د ہم تا حا ل ایک عجیب سی غلا می کیفیت میں چل رہے ہیں طاقتور طبقے کمزوروں کو یر غمال بنانے اور پاکستان کے اندر کئی مِنی پاکستان بنانے اور ان مِنی پاکستا نوں میں اپنی اپنی مرضی اور اپنی اپنی خواہشوں کے کام دیکھانے میں لگے رہتے ہیں اور وصورتحال تو یہ بھی ہے کہ طاقتور کیلئے قانون کا انداز اور کمزور کیلئے کچھ اور ہے او ر جوں جوں ہم پر حکمرانی کے نئے نئے تجربے ہو تے ہیں توں توں کمزوروں کی محرومیوں میں اضا فہ ہوتا ہے سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں دو اڑھائی کروڑ کی آبادی والے صوبے سندھ سے کہ جہاں حالیہ بارشوں نے وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ سن کر رونا آتا ہے اور رد عمل کے طو ر پر وہ

جو اس ظلم اور تبا ہی کے ذمہ دار ہیں انکی تقریروں اور بیانات سے کہ وہ مسکراتے ہوئے چہروں سے انتہائی ڈھٹائی کے اس تباہی کی ذمہ داری قبول کر نے کی بجائے سا را ملبہ ودوسروں پر ڈال کر پھر بھی مطمئن نظر آتے ہیں ۔ کراچی ڈوب گیا سکھر،حیدرآباد ، نوابشاہ ، ٹھٹہ ، لاڑکانہ سمیت تما م چھوٹے بڑے شہر اور ان سے ملحق اور دور دراز کے گوٹھ او ر گاءوں ڈوب گئے اور وہ کروڑوں لو گ جو پہلے ہی عسرت اور غربت کی زندگیاں گزار رہے تھے اپنا سب کچھ بارشی پانی کی نظر کر کے پھر سے لُٹے پُٹے بے آسرا ہو گئے ڈوب مرنے کا مقام تو اُن ذمہ داروں کا تھا جو ان وسائل کو لُوٹ کر کھا گئے مگر وہ مسکراتے ہوئے مطمن ہیں یہ ہے عوامی نظام یہ ہے صوبائی حکومتےں اور یہ ہے بلدیاتی اور مقامی حکو متیں اور انکے ذمہ داران تھری پیس سوٹوں لمبی لمبی گاڑیوں بڑے بڑے بنگلوں اور اربوں کے

بنک بیلنس کے ساتھ خوش و خرم ہیں لیکن بھلا ہو سپہ سالار کا اور پاک فوج کا کہ جو حسب روایت ان مظلوموں محکوموں مجبوروں مزدروں کی مدد کیلئے امدادی سر گرمیوں کیلئے پہنچ رہے ہیں یہ ندی نالے صاف کریں گے اُجڑی پُجڑی بستیوں کو آباد کر کے زندگی کی رونقیں بحال کرےں گے اور پھر کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے اور ایم کیو ایم زندہ باد کے نعرے لگانے والے دہائیوں سے اس خوبصورت صوبے پر حکومتیں کر نے والے لوگوں کو ورغلاکر ووٹ لے جائےں گے ہونا تو یہ چاہئے کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے الیکٹرک کی طرح کے سخت احکامات والا سلسلہ مقامی اور صوبا ئی حکومتوں کے ساتھ بھی کرتے ہو ئے ایک حکم جاری کریں کہ جس جس کا بارشی پانی سے جانی ومالی نقصان ہوا ہے وہ وزیر اعلیٰ وزیر بلدیات مئیر کراچی اور دیگر متعلقہ مگر مچھوں کو فریق بنا کر حر جانے کے دعوے دائر کریں اور عدالتیں دنوں میں ان دعووں کو ڈگری کر کے ان مگر مچھوں کے اثا ثوں سے انہیں رقم دلائےں مگر شاید ہم ابھی انصاف کی اس منزل تک نہیں پہنچے کہ جہاں فرد

اور معاشرے کی خفاظت کیلئے عدا لتیں اور ادارے آخری حد تک جا کر عام آدمی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں کر ا چی پر چند لائنیں لکھنے سے اس انسانی المیہ کا ازالہ نہیں ہو سکتا اس کیلئے کئی کالم کئی نوحے در کار ہیں مگر آج مجھے بات کر نی تھی دیپالپور کی اس مظلوم خاتون وکیل ارشاد نسرین کی جسے 14اگست یوم آزادی کے روز اس کے دفتر سے با اثر غنڈوں نے دن دہاڑے اسلحہ کے زور پر اُٹھا یا اور آٹھ روز تک اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کی وہ داستا نیں رقم کر تے رہے کہ جنہیں سننے کے بعد ہر باضمیر انسان کا سر شرم سے جھک جا تا ہے دیپالپور تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہے وہاں سیشن جج سے لیکر سول جج صاحبا ن تک کی عدالتیں تھانے اور دوسرے سر کاری دفاتر بھی دیپالپور کی با ر ایسوسی ایشن ہے اسکے ممبران او ر عہدہداران ہیں ارشاد نسرین کے ووٹوں سے مقامی بار کے عہدیدارن بھی منتخب ہو تے رہے ہیں اور ہائیکورٹ بار کے عہدیداران اور پنجاب بار کونسل کے ممبران بھی ارشاد نسرین نے وکلاء تحریک میں بھی حصہ لیا ہو گا اور تحریک بحالی انصا ف میں بھی آگے آگے ہوں گی مگر جب ارشاد نسرین پر آفت پڑی تو یہ سب خاموش ہو گئے انہیں سانپ سونگھ گیا آخر کیوں اس آخر کیوں میرے پاس نہیں ارشاد نسرین کے اغواہ اور پھر کئی روز تک اس پر ہو نے والی ظلم زیادتی کے ایک ایک منٹ ایک ایک سیکنڈ کا حساب ہونا ہے اور ہونا چا ہئے اس لئے کہ یہ وکلا ء برادری کا مسئلہ ہے اور وکلاء برادری کا مسئلہ اس لئے کہ جب ہاتھ پاءوں بندھی ارشاد نسرین برآمد ہوئی تو کسی نے اس سے پو چھا تھا کہ تم کس برادری سے ہوتوخوف میں ڈوبی حواس سے ارشاد نے کہا تھا کہ میں وکیل برادری سے ہوں اور ارشادنسرین کا یہ کہنا کہ میں وکیل ہو ں میرے سر پر دوپٹہ دوصرف دیپالپور ہی نہیں اوکاڑہ سے لیکر لاہور ہائیکورٹ بار تک اور سپریم کورٹ بار سے لیکر تمام صوبائی بار کو نسلوں اور پاکستا ن بار کونسل تک سبھی کیلئے لمحہ فکریہ ہے میرے دوست اور چیمبر فیلو دولفقار بھٹہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام اس سلسلہ میں ایک عرضداشت تو ارسال کی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم ستر سالوں سے اوپر آزادی کی سانس لینے کے باوجو د تا حال غلامی میں ماحو ل میں ہیں ارشاد نسرین ایڈوو کیٹ کا المیہ طاقتوروں جاگیرداروں سرمایہ داروں با اختیاروں کے سائیوں میں راستے میں ہی دم توڑ جائے گا اور یہی پاکستا ن کا المیہ ہے اور یہی غریب مجبور محکوم مظلوم مقہو ر پاکستا نیوں کی شاید قسمت ہے ۔