- الإعلانات -

رزق حلال حصول جنت کا آسان راستہ

رزق کے لغوی معنی ’’عطا‘‘ کے ہیں خواہ دنیاوی عطا ہو یا اخروی، عربی زبان میں رزق اللہ تعالیٰ کی ہر عطا کردہ چیز کو کہا جاتا ہے ۔ مال، علم، طاقت، وقت، اناج سب نعمتیں رزق میں شامل ہیں ۔ غرض ہر وہ چیز جس سے انسان کو کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ پہنچتا ہو وہ رزق ہے ۔ رزق کے ایک معنی نصیب بھی ہیں ۔ جو غذا پیٹ میں جائے اس کو بھی رزق کہتے ہیں ۔ دینی اصطلاح میں جائز ذراءع سے روزی کمانا رزقِ حلال کہلاتا ہے ۔ ناجائز ذراءع سے حاصل کیا گیا مال دین کی نظر میں حرام ہے ۔ ہمارا پیارا دین ہ میں یہ تاکید فرماتا ہے کہ تمہارا کھانا پینا نہ صرف ظاہری طور پر پاک و صاف ہو بلکہ باطنی طور پر بھی طیب و حلال ہو ۔ جائز طریقے سے حلال روزی کمانا اور کھا نا اسی طرح فرض ہے جس طرح دوسرے ارکان دین پر عمل کرنا ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ تم میں سے جو شخص رسی لے کر جنگل میں جاتا اور وہاں سے لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر اٹھا کر بازار میں لا کراُسے بیچتا ہے اور اس طرح اپنا گزارہ کرکے اپنی آبرو اور خودداری پر حرف نہیں آنے دیتا ۔ وہ بہت ہی معزز ہے اور اس کا یہ طرز عمل لوگوں سے بھیک مانگنے سے ہزار درجہ بہتر ہے ۔ نہ معلوم وہ لوگ اس کے مانگنے پر اسے کچھ دیں یا نہ دیں حکم خداوندی ہےاے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو اور نیک اعمال بجالاءو ۔ حدیث قدسی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ میں نے اپنے بندوں کو جو مال دیا ہے ۔ وہ ان کےلئے حلال ہے ۔ میں نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ۔ بعد میں شیاطین ان کے پاس آئے اور ان کو ان کے دین سے متعلق گمراہ کرکے رکھ دیا اور جو چیزیں میں نے اپنے بندوں کےلئے حلال کر رکھی تھیں وہ ان پر حرام کر دیں ۔ ‘‘ کسب حلال اور رزق طیب کی بیشمار برکات ہیں ۔ جب لقمہ حلال انسان کے پیٹ میں جاتا ہے تو

اس سے خیر کے امور صادر ہوتے ہیں ۔ بھلائیاں پھیلتی ہیں ، وہ نیکیوں کی اشاعت کا باعث اور سبب بنتا ہے ۔ اس کے برعکس حرام غذا انسانی جسم کو معطل کر دیتی ہے ۔ نور ایمانی بجھ جاتا ہے دل کی دنیا ویران اور بنجر ہو جاتی ہے ۔ شیطان دل پر قابض ہوجاتا ہے پھر ایسا انسان معاشرے کےلئے نقصان دہ بن جاتا ہے اس سے نیکی اور بھلائی کے امور سرانجام نہیں پاسکتے ۔ حلال و حرام کا یہ کھلا کھلا فرق اس حد تک اثرانداز ہوتا ہے کہ طیب و پاکیزہ کمائی کھانے والا عنداللہ مقبول و مستجاب بن جاتا ہے جبکہ حرام کھانے والا اللہ کے ہاں مردود ٹھہرتا ہے ۔ دراصل سائنس کی رو سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جونہی انسان حرام کماتا ہے یا مال حرام کھاتا ہے اس کے اندر منفی جذبات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ کئی روحانی و جسمانی بیماریاں لگ جاتی ہیں ۔ اس کی واضح مثال شادی کرنے والا فرد ہر قسم کی فرحت و راحت محسوس کرتا ہے اور صحت مند ہوتا چلا جاتا ہے جبکہ حرام کار بالآخر خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے حالانکہ بظاہر دونوں کام ایک ہی کرتے ہیں لیکن حلال و حرام کے فرق سے نتاءج بھی بالکل ایک دوسرے کے برعکس نکلتے ہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص;230; نے عرض کی یارسول اللہ;248;! میرے لئے اللہ تعالیٰ سے مستجاب الدعوات بننے کی دعا فرما

دیں ۔ آپ;248; نے فرمایا: اے سعد! اپنا کھانا پاکیزہ اور حلال رکھو تم مستجاب الدعوات بن جاءو گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں کی جاتی ۔ جس بندے کی نشوونما حرام اور سود کے مال سے ہوئی ہو ۔ جہنم کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کا تذکرہ فرمایا جو لمبے سفر میں پراگندہ حال اور غبار آلود ہوتا ہے اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہہ رہا ہو، اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ (حقیقت حال یہ ہو کہ) اس کا کھانا پینا اور اوڑھنا سب حرام ہے اور حرام کی غذا اسے مل رہی ہو سو اس حالت میں اس کی دعائیں کیسے قبول ہوسکتی ہیں ;238;آپ;248; نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں انسان اس بات کی طرف دھیان نہیں دے گا کہ وہ جو مال حاصل کررہا ہے ۔ حلال ہے یا حرام ۔ جب انسان حرام کھاتا ہے اور حلال کو نظر انداز کردیتا ہے تو صبر و قناعت زُہد و ایثار اور جفاکشی کی جگہ حرص و ہوس اور عیش کشی کو اپنا مطمع نظر بنالیتا ہے تو اللہ رب کریم کی طرف سے نازل ہونےوالی برکت ختم ہو جاتی ہے ۔ کثرت، قلت میں محسوس ہونے لگتی ہے ۔ قارون کا خزانہ بھی اسے کم لگتا ہے ۔ یہی وجہ ہے جب وہ اپنا ناپاک مال خدا کے رستے میں خرچ کرتا ہے وہ قبول نہیں کیا جاتا ۔ کھاتا ہے تو جسم بیشمار بیماریوں کا مجموعہ بن جاتا ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق;230; سے مروی ہے کہ نبی کریم;248; نے فرمایا وہ جسم جنت میں نہیں جائے گا جس کو حرام مال سے غذا پہنچائی گئی ہو ۔ افسوس آج کے اس مادی دور نے انسان میں حلال اور حرام کے فرق کو مٹا دیا ہے جو حلال روزی کماتا ہے اسکا دل نور سے معمور ہوتا ہے حکمت اور عقلمندی رزق حلال کو بڑھاتی ہے ۔ جیسا کہ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اے طاہر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی تجارت، صنعت، زراعت، مویشی پالنا، محنت مزدوری وغیرہ کرنا یہ سارے جائز اور حلال طریقے ہیں ۔ روزی روٹی کمانے کیلئے شرط ہے کہ اس میں اسلامی احکامات اپنائے جائیں ۔ جب کوئی شخص اپنے لئے کسی پیشے کا انتخاب کرتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے مال میں برکت عطا فرماتے ہیں اور اس کے گھر میں مال و دولت کے انبار لگا دیتا ہے اور انسان کو اللہ کی اس عنایت پر شکر بجا لانا چاہئے ۔ ہمارا دین ہ میں جائز طریقوں سے روزی روٹی کمانے کا حکم دیتا ہے ۔ حرام مال کے نقصانات اور اسکے مہلک اثرات سے بھی خبردار کرتا ہے تاکہ انسان مال و دولت کی لالچ میں حلال و حرام کی تمیز ہی نہ کھو بیٹھے لیکن افسوس آج کل دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ لوگ دولت کی حرص میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ ان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ دولت ناجائز طریقے سے حاصل ہورہی ہے ۔ کسب حلال شرافت کی علامت اور عزت اور وقار کی دلیل ہے ۔ جب تک انسان حلال زرق کی تلاش میں سرگرم رہتا ہے تو اس کو نہ سستی چھوتی ہے اور نہ ہی وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا بے شک دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا معیوب بات ہے اسلئے کہا جاتا ہے کہ انسان کوحصول رزق کےلئے استقلال سے کام لینا چاہئے ۔ جتنا رزق انسان کے مقدر میں اللہ نے رکھ دیا ہوتا ہے وہ اسے مل کر ہی رہتا ہے کوئی اس کے منہ سے نوالہ تک نہیں چھین لیتا ہے ۔ خواہ کوئی اسکی راہ میں کتنی ہی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کیوں نہ کرے ۔ اسکے حصے کا رزق کوئی نہیں چھین سکتا ۔ یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ اللہ کی رضا شامل نہ ہو تو کوئی پتا اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا ۔ اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں انسان اپنی روزی کمانے کیلئے جو اور جیسی بھی محنت کرتا ہے خواہ وہ محنت جسمانی ہو یا دماغی اور اپنا پیسہ بہا کر اپنی روزی روٹی حاصل کرتا ہے ۔ اس کوعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ پیشے کی حقارت مٹانے کیلئے محنت اور مزدوری کی عزت افزائی کیلئے حضرت محمد مصطفی نے خود بھی اس کا عملی نمونہ پیش کیا ۔ طلب معاش اور کسب حلال ایسا مشغلہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام اور عوام کو جمع فرمادیا ۔ اس لئے کسب حلال سنت رسول سمجھ کر کرنا چاہئے ۔ اس میں دنیا کی عزت بھی ہے ۔ اور آخرت کی سرخروئی بھی ہے حضور اکرم نے اس نوجوان کے ہاتھ چوم لئے تھے جن کے ہاتھوں میں مزدوری کرنے سے چھالے پڑ گئے تھے ۔ معاشرہ ملک و قوم جتنی ترقی کرتا ہے یہ مزدوروں اور محنت کشوں کی ہی مرہون منت ہوتا ہے ۔ بلند و بالا عمارت کی تعمیر کو جب ہم دیکھتے ہیں گلی محلوں کی طرف دیکھیں یا پھر کارخانوں اور فیکٹریوں میں بننے والی مصنو عات پر نظر ڈالیں کھیتوں اور باغوں کو بھی دیکھ لیں یہاں تک کہ کھانے کی اشیاءکی فراوانی کو دیکھیں تو ان تمام میں مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے ۔ یہ مزدور ہی تو ہوتے ہیں جو دن رات مسلسل محنت کرکے وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کر تے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں مزدو روں او رمحنت کشوں کو وہ مقام اور اہمیت حاصل نہیں ہے جن کا آج کاترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ معاشرہ متقاضی ہے لیکن افسوس ہمارے کارخانوں میں مزدورو ں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے جب تک ہم مزدوروں کو بنیادی سہولیا ت نہیں دینگے تب تک ہم ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں قدم نہیں رکھ سکتے ۔