- الإعلانات -

جناح ،نہرو، ماءونٹ بیٹن اور کشمیر پر متنازع تحریر

گزشتہ سے پیوستہ

بعد انڈیا ونز فریڈم کے دوسرے ایڈیشن میں اشاعت سے بھی ہوتی ہے ۔ سیروائی کی بیان کردہ تاریخ کی مہیب سزا سے ہٹ کر یہ اَمر بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ لارڈ ماءوونٹ بیٹن جن کا تعلق برطانیہ کے شاہی خاندان میں ملکہ وکٹوریہ سے جا ملتا ہے جسمانی لحاظ سے بھی اِس فانی دنیا میں اگست 1979 میں المناک موت سے دوچار ہوئے جب ;200;یئر ش دہشت گردوں نے اُن کی فشنگ بوٹ کو برطانوی ساحل کے نزدیک دھماکہ خیز مادے سے اُڑا کر اُن کی لاش کے بیشتر ٹکڑے سمندر کی نذر کر دئیے ۔ اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ برطانوی حکومت ہند کے ;200;خری وائسرائے لارڈ ماءونٹ بیٹن نے حکومت ہند کی وائسرائے کونسل کے وزیراعظم جواہر لال نہروکےساتھ ذاتی مفادات کےلئے گٹھ جوڑ کرکے ;200;زاد ہونے والی ہندو مملکت بھارت کا گورنر جنرل بننے کے عوض تقسیم ہند کے ایجنڈے کو پامال کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کی راہ ہموار کی چنانچہ ریڈکلف ایوارڈ کے حوالے سے اِس کی تفصیل سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی نے اپنی کتاب ;84;he ;69;mergence of ;80;akistan میں بخوبی کر دی ہے ۔ درحقیقت

جواہر لال نہرو اور ماءونٹ بیٹن ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی اقتدار اعلیٰ میں شامل کرکے اور بھارتی سرحدیں چین کے صوبہ سنکیانک اور روس کے سرحدی علاقے واخان کوریڈور تک پھیلانے کے خفیہ عزم پر گامزن تھے ۔ اِس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلئے لارڈ ماوَنٹ بیٹن نے جواہر لال نہرو سے گٹھ جوڑ کرکے سیاسی حکمت عملی کے طور پر ;200;زاد ہونے والی دونوں نئی مملکتوں کا گورنر جنرل بننے کی خواہش ظاہر کی لیکن قائداعظم نے اپنی جوابی تجویز میں ماوَنٹ بیٹن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وائسرائے ہند کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد ان کا دو;200;زاد ملکوں کا بیک وقت گورنر جنرل بننا کسی بھی بین الاقوامی قانون اورضابطہَ اخلاق کے خلاف ہے لہذا، ماوَنٹ بیٹن کیلئے یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ بھارت کی نئی مملکت کا گورنر جنرل بننے کے بجائے اپنی غیر جانبدارانہ پوزیشن کو قائم رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین وسائل کی منصفانہ تقسیم کےلئے کمیشن کے چیئرمین کے طورپر اپنے فراءض سرا نجام دیں جسے ماوَنٹ بیٹن ور جواہر لال نہرو نے خفیہ مقاصد کے حصول کےلئے تسلیم نہیں کیا اور ماءونٹ بیٹن نے بھارت کو کشمیر میں راستہ دینے کےلئے تقسیم ہند کے ایک دن بعد 16 اگست 1947 کی شام کو حیران کن طور پر مسلم اکثریتی ضلع گرداسپور کی تحصیلیں بھارت کے حوالے کرکے ریڈکلف ایوارڈ کا اعلان کیا ۔ کیا ڈاکٹر معید پیرزادہ ذاتی طور پر قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت سے متنفر ہیں کیونکہ اُنہوں نے اپنی گفتگو میں تقسیم ہند کے حوالے سے لارڈ ماءونٹ بیٹن کی فکر سے منسلک برطانوی مصنفین کی کتابوں اور حوالہ جات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہوئے ماءونٹ بیٹن ، گاندہی جی اور جواہر لال نہروکی فکر کو تقسیم ہند کے پس منظر و پیش منظر میں زیادہ اُجاگر کیا ہے اور قائداعظم کی فکر کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ معید پیرزادہ نے یکطرفہ طور پر بھارتی وزیراعظم ;200;نجہانی جواہر لال نہرو کی ستائش تو ممتاز امریکی دانشور

پروفیسر اسٹینلے والپرٹ کی نہرو پر کتاب کے حوالے سے بخوبی کی ہے لیکن جن تاریخی کلمات کا تذکرہ اسٹینلے والپرٹ نے قائداعظم کے بارے میں اپنی کتاب میں کیا ہے اُس کا ذکر معید پیرزادہ کی وڈیو گفتگو اور انٹرنیٹ پر شاءع شدہ مقالے میں کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔ اسٹینلے والپرٹ نے قائداعظم کی شخصیت کو دنیا کی صف اوّل کی شخصیت قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ;3470;ew individuals significantly alter the course of history;46; ;70;ewer still modify the map of the world;46; ;72;ardly anyone can be credited with creating a nation state;46; ;77;uhammad ;65;li ;74;innah did all three;3446; یہ درست ہے کہ ریاست جموں وکشمیر جغرافیائی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے پاکستان کیلئے بے حد اہم ہے چنانچہ قائداعظم نے اِسی حوالے سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سے تعبیر کیا تھا ۔ تقسیم ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر میں زیادہ مسلمان ;200;بادی والا علاقہ وادیَ کشمیر اور گلگت و بلتستان کی ;200;بادی پر مثتمل تھا جہاں ریاست کے 95% مسلمان رہائش پذیر تھے ۔ لداخ تھوڑی ;200;بادی والا علاقہ تھا جہاں تقریبا 51%فی صد بدھ مت کے پیروکار ;200;باد تھے، 46%فی صد مسلمان اور ہندو محض 3%فی صد تھے جبکہ جموں کے علاقے میں مسلم اکثریتی علاقوں ڈوڈ اور راجوڑی کو چھوڑ کر ہندو اور سکھ اکثریت میں تھے ۔ تقسیم ہند کے موقع پر اعداد و شمار کےمطابق مجموعی طورپر مسلمان ریاست جموں و کشمیر کی کل ;200;بادی کا 78%فی صد تھے ۔ جبکہ تقسیم ہند کی 3 جون 1947 کی برطانوی پالیسی اور برطانوی حکومت ہند کے وائسرائے کی اعلان کردہ ہدایات کے تحت کشمیر کو جغرافیائی ، مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے قدرتی طور پر نئی قائم ہونے والی مسلم مملکت پاکستان کے ساتھ منسلک ہونا تھا کیونکہ کشمیر کے تمام روایتی زمینی راستے بھی پنجاب کے مسلم اکثریتی خطوں سے گزر کر جاتے تھے جنہیں اِس برطانوی پالیسی کے تحت اِن خطوں نے نئی مسلم مملکت پاکستان میں شامل ہونا تھا ۔ چنانچہ تقسیم ہند کی پالیسی کے مطابق جب کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت ;200;زاد جموں کشمیر مسلم کانفرنس نے اپنے اجلاس منعقدہ سرینگر میں 19جولائی 1947 میں الحاق پاکستان کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی تو جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو نہرو ماءونٹ بیٹن گٹھ جوڑ کے باعث ایک گہری سازش کے تحت پاکستان میں شامل ہونے سے روک دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری ہے )