- الإعلانات -

بھارتی مسلمان معاشرتی تنہائی کا شکار

بھارت میں جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں تب سے وہاں کی اقلیتیں ان کے خلاف احتجاج تو کرتی رہیں تاہم گزشتہ برس کے وسط میں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور دسمبر 2019 میں متنازع شہریت قانون بنانے پر اسے سخت تنقید کا سامنا ہے ۔ شہریت کے نئے قانون کے تحت ہندووَں کے لیے موقع ہے کہ وہ افغانستان، بنگلہ دیش یا پاکستان سے ترک وطن ثابت کر کے بھارتی شہریت حاصل کر سکتے ہیں ۔ دوسری جانب مسلمان دستاویزی طور پر بھارتی شہریت ثابت کرنے میں ناکامی پر غیرملکی قرار دیے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے شہریوں کے قومی رجسٹریشن کا دائرہ آسام سے پورے ملک میں پھیلانے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ بھارتی شہریوں کا قومی رجسٹریشن بی جے پی کے انتخابی منشور کا حصہ تھا ۔ گزشتہ برس دوبارہ انتخاب کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اپنے سوشل ایجنڈے کے نکات طے کر چکے ہیں جن میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خودمختاری کا خاتمہ بھی شامل تھا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس قسم کے تمام اقدامات کا مقصد بھارت کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنا اور ملک کے تقریباً 20 کروڑ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے ۔ مسلمانوں سے نفرت کا مذہبی قانون پاس کرکے مودی سرکار نے خود کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیاہے ۔ شہریت کا ترمیمی بل دراصل مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر خارج کرناہے جو مودی اور اس کی تنظیم آرایس ایس کی سب سے بڑی خواہش تھی ۔ اس بل کے نافذ ہونے کے بعد لاکھوں مسلمان شہریت سے محروم ہو جائیں گے جو انسانی حقوق کے تمام قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے ۔ اس متنازع پر نریندر مودی حکومت کے خلاف خود وہاں کے ہندو بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور تاحال وہاں احتجاج جاری ہیں جو کورونا کی وجہ سے بظاہر رکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل ہو چکی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفنی دوجارک کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کو تشدد اور طاقت کے مبینہ استعمال پر تشویش ہے ۔ امریکہ کی وزارت خارجہ نے بھارت پراقلیتوں کے حقوق کی آئین اور جمہوری روایات کے مطابق خیال رکھنے کے لیے دباوَ ڈالا ہے ۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں میں اس کے اقدامات مقبول ہیں ۔ اس صورتحال میں مودی کا یہ کہنا کہ ان کی حکومت مسلمانوں سے امتیازی سلوک نہیں کر رہی، ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ۔ ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’نیا قانون بھارت کے کسی شہری جس کا کوئی بھی مذہب ہو متاثر نہیں کرتا ہے ۔ گو کہ بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے مرکزی رہنماؤں نے تردید کی ہے کہ شہریت کے قانون میں مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا مگر حقیقتاً ایسا ہی ہے ۔

اس کے ثبوت کے طورپر بی جے پی کے ہی رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ بی جے پی کے صدر امت شاہ کئی بار مسلمان تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاوَن کی بات کر چکے ہیں ۔ انہوں نے اپریل میں بنگلہ دیش سے ترک وطن کرنے والے مسلما نوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت دراندازوں کو ایک ایک کرکے اٹھائے گی اور انہیں خلیج بنگال میں پھینک دے گی ۔ ریاست جھاڑکھنڈ میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ 2020 میں عام انتخابات سے پہلے میں انہیں نکال باہر کروں گا ۔ ان حالات میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو معاشرتی تنہا ئی کا شکار کرنا تشویشناک ہے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف عدم برداشت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف جابرانہ کارروائیوں پر بھارت سے جواب طلب کرنا دنیا کی ذمہ داری ہے ۔ اسلاموفوبیا کو امریکا پر ہونے والے نائن الیون حملے کے بعد تخلیق کیا اور اس وقت بھارت میں تقریبا ہر ہندوستانی، مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے یا ان سے ڈرتا ہے ۔ بھارتی میڈیا بھی اسلاموفوبیا بڑھانے میں کردار ادا کر رہا ہے اور میڈیا دن رات نریندر مودی کی حکومت کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے ۔ بھارت میں ادارہ جاتی یعنی سرکاری سطح پر بھی تعصب پایا جاتا ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے یہ تعصب کھل کر سامنے آیا ہے اور اب لوگ جان چکے ہیں کہ مسلمانوں سے نفرت دراصل بی جے پی کا مقصد اور حیات ہے ۔ ’فاشسٹ‘ (فسطائیت) ایک نظریہ ہے اور اس کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی فسطائیت کا شکار ہیں ۔ کسی بھی فاشسٹ شخص کے سر پر سینگ نہیں ہوتے وہ اپنی عادتوں سے پہنچانا جاتا ہے جو اپنے اور اپنے ہم ذہن افراد کے علاوہ سب سے نفرت کرتا ہے ۔