- الإعلانات -

بپن راوت کی چین و پاکستان کو دھمکیاں

بھارت کے چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت نے بڑھک مارتے ہوئے کہا کہ بھارت چین اور پاکستان سے دو محاذوں پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ بھارت چین پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے ۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب حال ہی میں چین اور بھارت کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں اوربھارتی آرمی چیف جنرل منوج موکنڈ نروانے لداخ کے محاذ کا جائزہ لینے لیہہ پہنچے ۔ لداخ کے مقام پر چین اور بھارت نے اپنے 1 لاکھ فوجیوں اور بڑی تعداد میں ہتھیاروں کی تنصیب کی ہے ۔ دوسری طرف بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے نے پاکستان کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سرحد پار دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیشگی سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پوری دنیا کے لیے مسئلہ ہے اور بھارت دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے حق میں ہے ۔ اب دہشت گردی سے بہت سے ممالک متاثر ہو رہے ہیں ، ایسے میں پوری دنیا دہشت گردی کے خطرات کو سمجھنے لگی ہے ۔ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی پالیسی بنائی ہے ۔ پاکستان نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین یا پھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی بھی بھارتی جارحیت کا زور دار جواب دینے کےلئے پاکستانی ہمت اور عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے ۔ کسی کو بھی بالاکوٹ میں بھارتی در اندازی کا بھر پور پاکستانی ردعمل بھولنا نہیں چاہیے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تناوَ برقرار ہے ۔ اس تناوَ میں شدت بھارت کی جانب سے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں مبینہ سرجیکل اسٹرائیک سے ہوا تھا ۔ دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات معمول ہیں ۔ گزشتہ برس بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تھا ۔ جہاں تک دہشت گردی بارے بھارتی آرمی چیف کے بیان کا تعلق ہے تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ بھارت دہشت گردی پیدا کرنے والا ملک ہے ۔ جنوبی ایشیا کا کوئی ملک بھارتی دہشت گردی سے بچا ہوا نہیں ۔ سری لنکا نے تامل ناڈو کی شکل میں بھارتی دہشت گردی کو سالوں سال بھگتا ۔ نیپال ، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو بھی بھارتی دہشت گردی بارے شکایا ت ہیں ۔ اور رہ گیا پاکستان تو گزشتہ دو دہائیوں سے ہم براہ راست بھارتی دہشت گردی کے شکار رہے ہیں ۔ بھارت نے ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان کو دہشت گردی کےلئے استعمال کیا اور ہمارے ہزاروں پاکستانی عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کی شہادت میں بھارتی ہاتھ کارفرما رہا ہے ۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت کلبھوشن کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے ۔ بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کے بیان کرنے کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا اور ممکنہ طور پر کوئی جھوٹ پر مبنی فوجی آپریشن کرنا ہے ۔ بھارت کو خود اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ خود بھارت کو اپنے ملک میں ;39;ہندو شدت پسندی اور دہشت گردی‘ کو روکنے کی ضرورت ہے ۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ اپنے شاندار ماضی کی طرح آج بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ اگر ہم پر جنگ تھونپی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے ۔ 6ستمبر کا دن ہ میں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی تھی ۔ آج بھی ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں ۔ ہمارے ہمسایہ ملک نے ہمیشہ کی طرح غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے ۔ پاک افواج کی قربانیوں کی پوری دنیا معترف ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی ۔ آزمائش کی تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے ۔ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے جسے امن اور خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے ۔ عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریے کی علمبردار ہے ۔ اسی بنیاد پر ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے ۔ ہمارے دشمن اس شناخت کو مٹانے کےلئے لگاتار سازشوں کا جال بْنتے آئے ہیں لیکن الحمدللہ افواجِ پاکستان اور قوم نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر ان کی ہر چال کو ناکام بنایا ۔ تبت اور لداخ کا 3500 کلومیٹر کا علاقہ چین کا متنازع سرحدی علاقہ ہے اور اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے ہضم کر لے گا تو شاید یہ چین کے لیے قابلِ قبول نہ ہو ۔ گزشتہ چار ماہ سے چین اور بھارت کے مابین کشمکش بڑھتی دکھائی دے رہی تھی چین نے حتیٰ الوسع کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے گفتگو کے ذریعے حل ہو تاہم بھارت نے چین کی بات کو درخورِ اعتناء نہ سمجھتے ہوئے متنازع علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے 9 مئی کو ایک چپقلش ہوئی مگر اب یہ خونی تصادم میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق 20 سے زیادہ بھارتی فوجیوں اور افسران کی اموات ہو چکی ہیں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ یہ سب بھارتی سرکار کی ہندوتوا سوچ کا کیا دھرا ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد خونی تصادم کی یہ صورت دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ بھارت اپنی ہندتوا سوچ اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے گا تو حالات خراب ہوں گے ۔ گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے جو یکطرفہ اقدام کیا اسے نہ صرف پاکستان مسترد کر چکا ہے بلکہ چین بھی اس پر معترض ہے ۔ بھارت معقولیت کی بجائے جنونیت کی سوچ پر گامزن ہے جو رویہ انہوں نے اپنے ملک میں اپنی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔