- الإعلانات -

ملکی استحکام اورقیام امن کے لئے مسلح افواج ہردم تیار

بھارتی توسیع پسندانہ عزائم اب اقوام عالم میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے ۔ بھارت کے سارے عزائم درحقیقت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے ہیں اور اسی تناظر میں عساکر پاکستان کے عزم و ہمت کے ساتھ پاکستان نے اپنا دفاعی حصار مضبوط بنایا ہے چنانچہ گزشتہ روز بری فوج کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ نے دوٹوک انداز میں دشمن کو باور کرایا ہے کہ ہم ہر خطرے کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں ۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم شہدا کے موقع پر جی ایچ کیو میں ایوارڈتقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں کیا، ہ میں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پہ کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے، افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں اور انشا اللہ دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کےلئے تیار ہیں ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں ہم پر ففتھ جنریشن یا ہائبرڈوار کی صورت میں ایک چیلنج مسلط کیاگیاہے اس کا مقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بد نام کر کے انتشار پھیلانا ہے ۔ ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں چیلنجزکا مقابلہ کریں گے قوم کے تعاون سے اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشا اللہ ضرور کامیاب رہیں گے اور ہرسازش ناکام بنائیں گے امن کو خوشحالی اورترقی میں تبدیل کرناہے مملکت ِ پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریے کی علمبردار ہے ۔ اسی بنیاد پر ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے ۔ پوری دنیا اوربا الخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے کشمیر پر یکطرفہ فیصلہ قبول نہیں ۔ 6 ستمبر 1965کا دِن ہماری تاریخ کا ایک لازوال باب ہے ۔ جو قو میں اپنے ہیرو کو بھول جاتی ہیں وہ قو میں مِٹ جایا کرتی ہیں ۔ وطن کی آزادی اور سلامتی ہمارا نصب العین ہے ۔ پاک فوج جیسی دلیر اور بہادر سپاہ کی کمان کرنا بہت بڑا اعزاز ہے ۔ پاکستانی قوم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ کوئی دشمن ہماری اس محبت کو شکست نہیں دے سکتا ۔ اسی طرح پاکستانی قوم کی پاکستان افواج سے محبت لازوال ہے ۔ ان کا اعتماد غیرمتزلزل ہے ۔ گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں ۔ آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے ۔ جس کی بدولت اللہ نے ہ میں فتح دی ۔ الحمدللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اور اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا ۔ اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے ۔ وقت ہ میں کئی بار آزما چکا ۔ ہم ہر بار سرخرو ہوئے ہیں ۔ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے ۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دے گا ۔ پوری قوم بھرپور اعتماد کے ساتھ مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کی شکست دینے والی دنیا کی واحد فورس ہیں ۔ مسلح افواج نے موثر انداز میں دہشت گردی کے عفریت کو شکست دی ہے ۔ ہمارے مکار دشمن نے ہم پر تین جنگیں مسلط کیں ،کشمیر کے غالب حصے پر تسلط جمایا اس وطن عزیز کو سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا اور کشمیر سے پاکستان ;200;نیوالے پانی پر تسلط جما کر اسے پاکستان کوبھوکا پیاسا مارنے اور سیلاب میں ڈبونے کیلئے استعمال کیا مگر وہ جری و بہادر قوم کے دفاع وطن کے جذبے کو مات نہیں دے سکا جبکہ عساکر پاکستان نے کنٹرول لائن پر ہر بھارتی زمینی اور فضائی جارحیت کا بروقت اور منہ توڑ جواب دیا ہے اور 27 فروری 2019 کو دشمن کے دو جنگی جہاز گرا کر ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کرنا اور اسی طرح پاکستان میں بھیجا گیا دشمن کا ہر جاسوس ڈرون مار گرانا اس کا بڑا ثبوت ہے جس کی پوری دنیا شاہد ہے ۔

قانون سازی کے لئے خصوصی ہدایات

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قانون سازی کے حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں ۔ یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہے کیونکہ جب تک ایوان بالا اورزیریں میں قانون سازی نہیں ہوگی اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے ۔ اسی وجہ سے وزیراعظم نے کہاہے کہ ایف اے ٹی ایف سمیت جن معاملات کے حوالے سے بھی قانون سازی ہے اس کوایوان میں لایاجائے اس سلسلے میں دونوں ایوانوں کے اجلاس بھی بلائے گئے ہیں جو مختلف تاریخوں میں انعقاد پذیرہوں گے ایک بات یہاں انتہائی اہم ہے کہ فیٹف کے بعدانتہائی اہم ترین مسئلہ اٹھارہویں ترمیم ہے ۔ اٹھارہویں ترمیم کو قطعی طورپرختم نہیں کرناچاہیے لیکن حالات اوروقت کے تقاضے کے مطابق جو شقیں موجودہ مسائل سے متصادم ہیں ان میں ترمیم انتہائی ضروری ہے ۔ اب جہاں تک پارلیمانی یاصدارتی نظام کاتعلق ہے تو قوم دیکھ چکی ہے کہ پارلیمانی نظام سے اس کو کیامل رہاہے گوکہ ماضی میں بھی صدارتی نظام تواتنے بارآورثابت نہیں ہوئے لیکن اب حالات مختلف ہیں ۔ قانون سازی ملک کی ضرورت ہوتی ہے جہا ں بھی ملکی مفاد ہو قانون سازی ہونی چاہیے ۔ ماضی میں پاکستان میں بہت لوٹ مار کی گئی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ سب کا احتساب کیاجائے اورلوٹی گئی دولت برآمد کی جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سے میں آنے سے قبل عوام سے یہ وعدہ کیاتھا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو سب کا احتساب کریں گے ۔ اب موجودہ حکومت کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ سابقہ ادوار میں کی گئی لوٹ مار کابلاخوف احتساب کریں ۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان سے رابطہ کیا جس میں ایف اے ٹی ایف قوانین کی منظوری سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی وزیر اعظم نے بابر اعوان کو ہدایت کی کہ فیٹف سمیت ضروری قانون سازی کو جلد پارلیمنٹ لے جائیں فیٹف قانون سازی قومی ضرورت ہے، اسے پورا کریں ۔ سیلاب کی صورتحال اور ممبران پارلیمنٹ کی مصروفیات پر بھی گفتگو کی گئی ۔ دوران گفتگو کہاگیا کہ متعددارکان سیلاب زدگان کیلئے ریلیف اقدامات میں مصروف ہیں ۔ قومی اسمبلی اورسینیٹ کا اجلاس ایک ہفتے کیلئے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،قومی اسمبلی کا اجلاس اب 14ستمبرشام ساڑھے چاربجے ہوگا،سینیٹ کا اجلاس 15ستمبر صبح ساڑھے دس بجے بلایا جائیگا ۔

بھارت کی اشتعال انگیزی خطے میں امن کے لئے خطرہ

بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سینئر بھارتی سفارتکار کو گزشتہ روزدفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا ۔ ترجمان ،دفتر خارجہ نے کہا کہ ایل او سی پر کشیدگی بڑھانے کی بھارتی کوششیں خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہیں ،5 ستمبر کو بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایل اوسی کے رکھ چکری سیکٹر میں انیس سالہ محمد طارق ولد غلام حسین سکنہ گاءوں کرنی شدید زخمی ہوگئے ۔ بھارتی فوج ایل او سی اور ورکنگ باءونڈری پر عام شہری آبادی کو آرٹلری اور بھاری وخودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہے ۔ رواں برس بھارت نے 2158 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 17 بے گناہ شہری شہید ، 168شدید زخمی ہوئے، بے گناہ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت پر زوردیا گیا کہ بے حسی پر مبنی یہ اقدامات 2003 کے جنگ بندی معاہدے، انسانی عظمت ووقار، بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین اور پیشہ وارنہ فوجی طرز عمل کے برعکس اور اس کی صریحا ًخلاف ورزی ہے ۔ انسانیت دشمن اقدامات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کی خلاف ورزی جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرتا رہتا ہے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے جارحانہ عزائم روکنے کے لئے اپنا کرداراداکرے ۔