- الإعلانات -

اسلام کاعسکری نظامِ تربےت

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اُبھرنے والی واحد عالمی طاقت‘ اُمت مسلمہ کو عسکری‘ معاشی‘ سےاسی‘ تہذےبی اور ثقافتی طور پر غےر مءوثر اور مغلوب کرکے اپنی بالا دستی قبول کرنے پر مجبور کرے گی ۔ چونکہ عا لمےت کے نام پر قوت کے موجودہ استعمال اور اسلامی ممالک کی بے حسی نے ملت اسلامےہ کے مستقبل کو تارےک بنا دےا ہے ۔ لہٰذا وقت آ گےا ہے کہ عظمت رفتہ اور شوکت اسلام کی بحالی کےلئے ملت اسلامےہ کے ہر فرد کو قرآن و سنت اور افکار صحابہ;230; کی روشنی مےں تربےت دی جائے تاکہ اےک طرف دنےا امن و آتشی کا گہوارہ بن جائے اور دوسری طرف انسانےت کا تقدس بھی پامال نہ ہو ۔ ’’ان الدےن عند اللہ الا سلام!‘‘ ’’اللہ کے نزدےک پسندےدہ دےن صرف اسلام ہی ہے‘‘ ۔ تمام انبےاء اپنے اپنے زمانے مےں ےہی دےن لے کر آئے اور ہر زمانے مےں اس کا نام اسلام ہی رہا ۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور فطرت انساہنی کو سلامت رکھنا چاہتا ہے ۔ جب کبھی انسان اپنی فطرت سے بغاوت کرتا ہے تو تمدن مےں بگاڑ پےدا ہو جاتا ہے ۔ انسان اپنی عقل سے اس بگاڑ کا علاج کرنا چاہتا ہے ۔ جبکہ اس کی عقل ناقص و ناپائےدار ہے ۔ حقےقت ےہ ہے کہ فطرت انسانی کا ےہ بگاڑ اسے خونخوار بھےڑیے سے بھی زےادہ ظالم بنادےتا ہے ۔ چنانچہ وہ اللہ کی زمےن پر اپنے ہم جنسوں کو ظلم کا نشانہ بنا کر فتنہ و فساد بپا کرتا ہے اور ظلم کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے‘‘ ۔ ڈاکٹر گل نواز کی کتاب مےں شامل ےہ سطور آج ہر انسان کےلئے دعوت فکر ہے ۔ کرنل (ر) ڈاکٹر محمد گل نواز 1950 ء مےں سانٹھ سرولہ تحصےل کوٹلی ضلع راولپنڈی مےں پےد ا ہوئے ۔ تقرےباً 31 سال پاکستان آرمی کے شعبہ تعلےم و تربےت سے منسلک رہے ۔ علوم اسلامےہ مےں پی اےچ ڈی کے علاوہ انگرےزی مےں اےم اے‘ وفاق المدارس سے شہادۃ العالمےہ کے سندےافتہ اور عربی زبان کے ترجمان ہونے کے علاوہ بےن الاقوامی اسلامی ےونےورسٹی سے قرات و تجوےد مےں بھی تخصص رکھتے ہےں ۔ کالج آف آرمی اےجوکےشن‘ سٹاف کالج کوءٹہ‘ پاکستان ملٹری اکےڈمی کاکول اور ملٹری کالج جہلم مےں بطور انسٹرکٹر کام کےا اور دو مرتبہ بےرون ملک پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہےں ۔ قومی اور بےن الاقوامی سطح پر رےسرچ پےپر پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ عسکرےت ان کا پسندےدہ موضوع ہے ۔ ان کی کتاب ’’اسلام مےں عسکری جذبہ محرکہ کا تصور ‘‘ ملک کی بڑی بڑی لائبرےرےوں کی زےنت بن چکی ہے ۔ ان کی اےک اور کتاب ’’احےاء السنن‘سےرت خےرالانام کی روشنی مےں ‘‘زےر تکمےل ہے ۔ ڈاکٹر گل نواز عسکرےت سے ہٹ کر دےگر موضوعات پر بھی کبھی کبھی قلم اُٹھاتے رہتے ہےں ۔ کچھ عرصہ قبل نام نہاد روشن خےالی اور فحاشی و بے حےائی کے خلاف بھی اُنہوں نے چند جاندار مضامےن قلمبند کیے ۔ حال ہی مےں اُن کی کتاب ’’اسلام کا عسکری نظام تربےت اور جدےد اسلامی افواج‘‘ شاءع ہوئی ہے ۔ سب سے پہلے گورنر مصر کے نام حضرت علی;230; کے خط سے اقتباس کتاب مےں شامل ہے ملاحظہ فرمائےں ۔ فوجی اللہ کے سپاہی اور ملک و ملت کے نگہبان ہوتے ہےں جو دےن کی حفاظت کےلئے قوت مہےا کرتے ہےں ۔ در حقےقت وہی امن و امان کے اصل محافظ ہوتے ہےں ۔ اور ان کے ذرےعے اندرونی انتظام اور انصرام درست رکھا جا سکتا ہے ۔ امرائے لشکر کے انتخاب کے بعد ان پر اےسے نظر رکھو جےسے والدےن اپنے بچوں پر نظر رکھتے ہےں ۔ تاکہ ان کے کردار مےں کوئی خرابی پےدا نہ ہو ۔ اس کتاب کے پےش لفظ مےں ڈاکٹر گل نواز فرماتے ہےں کہ دور حاضر مےں مسلم امہ اےک اےسے گرداب مےں پھنسی ہوئی ہے اور ہر طرف سے اس کے سر پر خطرات منڈلارہے ہےں ۔ قرآن و سنت سے دوری کے باعث مسلم غےروں کا سب سے اہم اور آسان ہدف بن گئے ہےں ۔ اےسے مےں ےہ ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اسلام کے عسکری نظام تربےت کے متعلق بھی مکمل معلومات اےک کتاب کی صورت مےں مرتب کی جائےں ۔ اس موضوع پر ابھی تک کوئی تحقےقی کام نہےں ہوا تھا ۔ چنانچہ تفاسےر و احادےث کی کتب کے علاوہ پونے دو سو بنےادی اور ثانوی مآخذ کتب کی مدد سے اس موضوع پر اپنی نوعےت کی ےہ پہلی کتاب ہے ۔ عنقرےب اس کے عربی اور انگرےزی تراجم بھی پےش کیے جائےں گے ۔ آج کے اس عہد مےں جہاں لوگوں کے پاس وقت ہی نہےں ‘ ہر کوئی دن رات اےک کئے دولت کے پےچھے بھاگ رہا ہے‘ اےسے حالات مےں اتنی موٹی اور جامع الکمالات کتاب ترتےب دےنا بہت بڑی بات ہے ۔ عسکرےت کے موضوع پر لےفٹےننٹ کرنل (ر) ڈاکٹر گل نواز کی تحرےری اور تعلےمی خدمات لائق داد و تحسےن ہےں ۔ اُنہوں نے وہ کام کےا جس پر دےگر اہل قلم نے کم ہی توجہ دی ۔ ان کی خدمات کو دےکھتے ہوئے انھےں اعلیٰ سرکاری بلکہ صدارتی اےوارڈ سے نواز ا جائے اور ان کی کتب اس قابل ہےں کہ اندرون و بےرون ملک ےونےورسٹےوں کے نصاب مےں شامل کی جائےں ۔ ’’اسلام کا عسکری نظام تربےت اور جدےد اسلامی افواج‘‘اےک بہت ہی معےاری کتاب ہے ۔ اس مےں مصنف نے جو بھی بات کی اس کی دلےل اور حوالہ کتاب مےں موجود ہے ۔ فورسزمےں آنےوالے آفےسرز‘ جوانوں بالخصوص طلبہ کےلئے اس کتاب کا مطالعہ نہاےت ہی ضروری ہے ۔ 556 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قےمت بہت مناسب 300 روپے ہے ۔ ڈاکٹر گل نواز اےک شرےف ‘مذہبی اور پرہےز گار انسان ہےں ان کا دل اسلام اور پاکستان کےلئے دھڑکتا ہے ۔ بلا شبہ وہ ملک و قوم کا قےمتی سرماےہ ہےں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اےسے عظےم لوگوں کی پہچان اور قدر کرےں اور ان کی تعلےمات سے استفادہ فرمائےں ۔ آئےں اےک بار 1965 ء جےسے جذبات کے ساتھ ملکہ ترنم نور جہاں کو ےاد کر لےتے ہےں اور اُنکی خوبصورت آواز کا تصور بھی ذہن مےں لاتے ہےں : ۔

اے وطن کے سجےلے جوانو

مےرے نغمے تمہارےلیے ہےں