- الإعلانات -

جمہوریت ، مارشل لاء اورہمارے سیاستدان

ابھی حال ہیں میں ہم نے 73واں یوم آزادی منایا گوکہ کرونا وباء کے پیش نظر تقاریب محدود ہوئیں مگر اس یوم آزادی نے یہ سوچنے پرمجبور کردیا کہ ہمارے جمہوری نظام کو اب تک وہ استحکام کیوں حاصل نہیں ہوا جو ہونا چاہتے تھا ۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح ;231;اور ان کے بعد پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان جن کو 16اکتوبر 1951ء میں سید اکبرنامی شخص نے راولپنڈی کے کمپنی باغ میں گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا کے بعد ملک سیاسی طور استحکام حاصل نہ کر سکتا ۔ کہنے کو تو کئی بار عام انتخابات ہوئے مگر ان میں ہر ہارنے والے نے ہر فاتح پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے ۔ یہ بھی غورطلب بات ہے کہ ہارے والے نے شکست اور الزامات کے باوجود اسمبلی کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ اس کے اجلاسوں میں شریک اوراپنا مشاہرہ اوردیگر مراعات سے بھی مستفید ہوتا رہا اورپھر یہ ایک رجحان سا بن گیا جو اب تک جاری ہے ۔ کیا اسے ہمارے سیاستدانوں میں جمہوری روایات سے لاعملی، کم مائیگی یا تجاہل عارفانہ سمجھیں ۔ بحرحال کیفیت جو بھی ہو نہ تو یہ جمہوری اقداراور نہ ہی ملک وقوم کے لئے سود مند ہے بلکہ ایک لمحہ فکریہ کی حیثیت حاصل کر گیا ہے ۔ وطن عزیز میں اب تک 22وزرائے اعظم سریر آرائے حکومت ہوچکے ہیں مگر جہاں تک جمہوری رویوں کا تعلق ہے تو ہی ڈھاک کے تین پات ۔ ان میں تاحال کوئی واضح اور نمایاں تبدیلی نہیں آئی ۔ اگست 1947ء میں آزادی کے بعد ملک میں برطانوی طرز حکومت جسے پارلیمانی نظام کہا جاتا ہے اپنایا گیا اورسربراہ حکومت کے لیے وزیر اعظم کا عہدہ تخلیق کیاگیا جس کا آغاز بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ;231;نے کیا جو اس وقت خود گورنر جنرل تھے ۔ انہوں نے باہمی صلاح مشوروں کے بعد شہید ملت لیاقت علی خان کی پہلے وزیر اعظم کے طور پر تقرری کی اور وہ 15اگست 1947ء کو سربراہ حکومت بنے ۔ انکی شہادت کے بعد اب تک موجودہ وزیر اعظم عمران خان کو چھوڑ کر کسی بھی وزیر اعظم نے اپنے عہدہ کی مدت پوری نہیں کی اور مختصر عرصہ کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والے ہمارے 20وزرائے اعظم اپنے عہدہ کی مدت سے بہت پہلے یا تو عدم اعتماد کی نظر ہوئے یا مارشل لاء کی زد میں آئے یا پھر عدالتوں نے انہیں نا اہل قراردے دیا یہاں تک کے ملک کے چھٹے وزیر اعظم ابراہیم اسماعیل چندریگر جو 17اکتوبر 1957ء کو وزیر اعظم بنے اور17دسمبر1957 میں صرف 55دن میں انکو اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹا دیا گیا ۔ یہ ملک کے سب سے کم دنوں تک رہنے والے وزیر اعظم رہے جو ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے ۔ علاوہ ان کے جتنے بھی وزرائے اعظم رہے ان کی مدت سال ، ڈیڑھ سال، یا دوسال یا اس سے زیادہ ۔ مگر کوئی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکا جبکہ جتنے بھی فوجی حکمران آئے وہ ایک طویل عرصے تک حکومت کرتے رہے ۔ ملک میں پہلا مارشل لاء اس وقت نافذ ہوا جب سرفیروز خان نون جو16دسمبر 1957ء کو برسر اقتدار آئے اورمارشل لاء کی زد میں آنے والے پہلے جمہوری وزیر اعظم تھے جو 7اکتوبر 1958ء تک صرف سات ماہ اوراکیس دن تک حکومت کرسکے ۔ اورانکی اپنی پارٹی کے صدر سکندر مرزا نے مارشل لاء نافذ کر دیا جو ملک کا پہلا مارشل لاء تھا ۔ سکندر مرزا نے اس وقت فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کو پہلا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا اور حکومت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسمبلی بھی توڑ دی لیکن ٹھیک 13دن بعد ایوب خان نے سکندر مرزا کو زبردستی سبکدوش کرکے خود عہدہ صدارت سنبھال لیا اور سکندرمرزاکو جلا وطن کر دیا اور وہ اس جلا وطنی کے دوران ہی 13نومبر 1969ء کو لندن میں 70برس کی عمر میں انتقال کر گئے اور اس وقت کے صدر پاکستان جنرل یحییٰ خان نے ان کی مشرقی پاکستان میں تجہیزو تدفین کی اجازت نہ دی تو شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے اپنا ذاتی طیارہ بھیج کر لندن سے ان کی باڈی منگوائی اور تہران میں پورے اعزاز کے ساتھ ان کو دفنا دیا گیا ۔ اگر جمہوری ادوارحکومت اور مارشل لاء کے دورکا اجمالی اورتقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات قرین از قیاس معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بڑی طاقت خصوصاً امریکہ پاکستان جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنا تابع رکھنا چاہتا ہے ۔ کبھی آئی ایم ایف کے ذریعے کبھی ورلڈ بینک ، کبھی مالی اور فوجی تعاون کے ذریعے اور کبھی بھارت کا ہوا کھڑا کرکے کیونکہ جمہوری حکومت کے ذریعے اسے اپنی من مانی کرنا دشوار ہوگاجبکہ مارشل لاء کے ذریعے اسے سہل دکھائی دیتا ہے کہ اس میں صرف ایک آدمی سے با آسانی کام لیا جا سکتا ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مارش لاء کے دوران ملک میں ترقیاتی کام بھی ہوئے صدر ایوب کے گیارہ سال سے زیادہ دور اقتدار میں متعدد ڈیم تعمیر ہوئے ۔ عوامی استعمال کی اشیاء عوام کو ارزاں نرخوں پر دستیاب رہیں ۔ خارجہ تعلقات کوبھی فروغ حاصل ہوا، ملکی استحکام بھی حاصل رہا مگر جمہوری ادوار میں یہ سب کچھ عنقا رہا تو کیا اس کی وجہ ہمارے سیاستدان ہیں جن میں جمہوری شعور اوربالیدگی ناپید ہے ۔ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں مخالفین کو برداشت کرنے کی قوت کا فقدان ہے ۔ وہ اپنی ذاتی سیاست اور مفادات کے لئے ایک دوسرے کے خلاف شدت کے ساتھ مخالفت کو ترجیح دیتے ہیں توپھر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ روش درست نہیں اور نہ ہی یہ ملک وقوم کے لئے سو د مند ہے ۔ پاکستان دنیائے اسلام کا واحد ملک ہے جو ایٹمی قوت کا حامل ہے جس کے پاس جنگجو اور وطن عزیزکے لئے کٹ مرنےوالی دنیا کی بہترین فوج موجود ہے ۔ فوج کی طرح ملکی عوام بھی محب وطن ہیں اور وہ ملک کے تحفظ اور بقا کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں جس کا وہ 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں مظاہرہ کر چکے ہیں تو پھر سوچ کے دھارے اس طرف رخ اختیار کرتے ہیں کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے پیش نظر یا تو ہمارے سیاستدانوں کو استعمال کررہی ہیں یا پھر ان کے پاس ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوئی پروگرام نہیں ۔ اگر ایسا ہے تو یہ ایک تشویشناک امر ہے ۔ ملک میں 1999, 1977, 1971,1958 میں مارشل لاء کی حکمرانی رہی ہے ۔ جو جمہوری حکومتوں سے بہتر تھی، جو ہمارے سیاستدانوں کےلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ دکھ یہ ہے کہ نہ تو ایسی سیاسی روایات ہیں جس پر وہ عمل کر سکیں کہ ملک میں جتنے بھی وزرائے اعظم آئے وہ اپنے عہدہ کی مدت پوری نہ کرسکے یا نہیں کسی سازش کے تحت ایسا کرنے نہیں دیا گیا ۔ ہمارے جملہ ملکی سیاستدان بشمول حکومت اوراپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اس دشمن کی تلاش میں متحد ہوکراورسرجوڑ کربیٹھیں جو ہماری قومی اورملکی ترقی کے لئے سد راہ ہے ۔ اپنی سیاسی مخالفتوں کو پس پشت ڈال کر اپنے ذاتی مفادات کو تج کرملکی کی سلامتی، خوشحالی، بقا، استحکام اور تعمیر وترقی پر توجہ مرکوز کریں اورملک کے اندرونی اوربیرونی دشمنوں کو پہچانے اورجس قدرجلدممکن ہوان سے چھٹکارا حاصل کریں ۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ ہمارے اب تک جتنے بھی وزرائے اعظم آئے یقیناً سب پاکستانی تھے ۔ انکی نسلیں اب بھی پاکستان میں موجود ہیں اوریقیناً وہ اس امر سے بخوبی بہرہ ورتھے اور یہ بعید از قیاس ہے کہ وہ ملک کے خیر خواہ نہ ہوں تو پھر ان قوتوں کی تلاش ہم سب پر ایک بھاری ذمہ داری ہے جو پاکستان مضبوط اورخوشحال نہیں دیکھنا چاہتیں ۔ اسکے سوا کے ہم ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہیں ۔ یہ وقت کا اہم ترین تقاضاہے کہ ان ناپسندیدہ عناصر کو تلاش کیا جائے جو اپنے مفادات کے لئے ہ میں اپنا دست نگر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ہمارے سیاستدانوں بشمول حکمرانوں کے بجائے ایک دوسرے پرالزامات لگانے کے بجائے اپنے اپنے حصے کامثبت کردار ادا کریں بقول احمد فراز

شکوائے ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

کہ اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے