- الإعلانات -

کشمیرکی سیاسی جماعتیں خصوصی حیثیت کی بحالی چاہتی ہیں

گزشتہ سال پانچ اگست کو وزیر اعظم نریندرا مودی کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے فیصلے کی منظوری دی تھی جس کے بعد اس خطے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ۔ بھارتی حکومت کے فیصلے کے بعد کشمیر میں ہزاروں نوجوانوں سمیت کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم اور بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ خطے میں تب سے سخت پابندیاں نافذ ہیں اور مواصلاتی نظام بھی ایک سال سے بند ہے ۔ کشمیر میں تقریبا تمام بھارت نواز سیاست دانوں کو حالیہ مہینوں کے دوران رہا کیا جا چکا ہے جب کہ کچھ بندشوں میں بھی نرمی لائی جا چکی ہے جس کے بعد ایک بار پھر سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہو رہا ہے ۔ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوتے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے لئے متحد ہوکر لڑیں گی ۔ نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلز کانفرنس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کانگریس اور عوامی نیشنل کانفرنس نے مشترکہ بیان میں کہا 5اگست 2019 کے مرکزی حکومت کے فیصلے نے جموں و کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو تبدیل کردیا ۔ یہ جماعتیں گپکار اعلامیے پر کاربند رہتے ہوئے متحد ہو کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کےلئے لڑیں گی ۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی سرگرمیوں کا محور جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی ہوگا ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے یہ مشکل اور تکلیف دہ وقت ہے ۔ ہم انہیں ان حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ بھارت کے فیصلے نے کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر بدل دیا ہے ۔ یہ فیصلہ دور اندیشی کے فقدان پر مبنی اور غیر آئینی ہے ۔ ہم کشمیر کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی سرگرمیاں کشمیر کی چار اگست 2019 کی حیثیت کو بحال کرنے کے مقدس مقصد کے تحت ہوں گی ۔ نظر بند محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں حقوق کی جدوجہد کیلئے سیاسی اتحاد قائم ہونے اپنے پرانے حریف عمر عبد اللہ کی ستائش کی اور کہا عمر عبد اللہ کا کشمیر پر بھارت کے حملے پر اجتماعی ردعمل کے حوالے سے اقدام قابل تعریف ہے ۔ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مجبوری قرار دیتے ہوئے التجاء مفتی نے کہا ہے کہ مین اسٹریم جماعتوں کو متحد ہو کر خصوصی درجے کی بحالی، اپنے آئین اور اپنے جھنڈے کی واپسی کےلئے متحد ہو کر لڑنا چاہئیے ۔ ہم سے ریاستی درجہ اس لئے چھینا گیا تاکہ ہم خصوصی درجہ کو بھول جائیں ۔ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں ہی کہا تھا کہ جب حالات ٹھیک ہوں گے تو اس کو بحال کیا جائے گا اور ریاستی درجے کی بحالی بھاجپا کی کوئی مہربانی نہیں ہے لیکن ہم سے ایک بڑی چیز چھینی گئی ہے ۔ دفعہ 370 اور 35 اے کی تنسیخ کشمیریوں کے منہ پر بہت بڑا طمانچہ تھا ۔ ہماری بڑے پیمانے پر بے عزتی کی گئی ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی یہاں ہماری ثقافتی شناخت کو ختم کرنے کے در پے ہے ۔ ہم نے متحد ہوکر چلنا پڑے گا ۔ نئی دلی میں حکمراں بی جے پی نے اعلان کیا کہ کشمیریوں کو جذباتی نعروں سے استحصال کیا جاتا رہا ہے، اور اب کشمیر میں تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی سیاست ہو گی ۔ بی جے پی کے بغیر گزشتہ ایک سال سے کوئی بھی سیاسی جماعت سرگرم نہیں ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ سیاسی جماعتیں ’گونگی اور بہری‘ ہیں اور کشمیر کی روایتی سیاست گویا وینٹلیٹر پر ہے ۔ صرف 82 سال قبل کشمیر میں کوئی سیاسی تنظیم نہیں تھی ۔ جموں کے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ مطلق العنان حکمران تھے اور حکومتی جبر کیخلاف جب جب مزاحمت ہوتی تھی اْسے طاقت کے ذریعے دبا دیا جاتا تھا ۔ 1931 میں رجنوں مسلم قیدیوں کی شہادت کے بعد شیخ محمد عبداللہ علی گڑھ یونیورسٹی سے کشمیر لوٹے اور دیگر ہم خیال تعلیم یافتہ دوستوں کے ساتھ مل کر زخمیوں کی مدد کے لیے امدادی مہم چلائی ۔ اس واقعے سے کشمیریوں میں سیاسی حرکت پیدا ہو گئی اور اسی دوران پہلی سیاسی جماعت جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے نام سے وجود میں آ گئی ۔ جموں کے چودھری غلام عباس اور شیخ محمد عبداللہ کے درمیان نظریاتی اختلافات کی وجہ سے 1938 میں شیخ محمد عبداللہ نے تنظیم کا نام نیشنل کانفرنس رکھا اور یہ جماعت پورے کشمیر کی نمائندہ سیاسی جماعت بن گئی اور ڈوگرہ شاہی کیخلاف سو سال میں پہلی بار مزاحمت کرنے کےلئے شیخ محمد عبداللہ کو شیر کشمیر کے نام سے پکارا جانے لگا ۔ چند سال بعد ہی بھارت کےخلاف سازش کے الزام میں کشمیر کے پہلے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کیا گیا اور اْن کے قریبی ساتھی بخشی غلام محمد کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا ۔ اگلے دس سال کے دوران نیم خودمختاری کو بتدریج کمزور کیا گیا اور اب وزیراعظم کا عہدہ وزیر اعلیٰ کہلایا اور صدر ریاست کو گورنر کہا جانے لگا ۔ شیخ عبداللہ بائیس سال تک جیل میں رہے اور اس دوران کشمیر میں اْن کی ایما پر رائے شماری کی تحریک چلی ۔ وہ رہا ہوئے تو حکومت ہند کے ساتھ مفاہمت کے بعد اْنھوں نے وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ قبول کر لیا ۔ تب تک انڈیا کی اْس وقت کی حکمراں جماعت کانگریس نے کشمیر میں پیر پسار لیے تھے ۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 کے غیرقانونی اقدام کیخلاف قانونی لڑائی لڑیں گے ۔ بی جے پی مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریت کو ہندو اقلیت سے بدلنا چاہتی ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کیخلاف پٹیشن مضبوط قانوی بنیادوں پر ہے ۔ ڈومیسائل قانون کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی حد بندی پر یقین نہیں رکھتے ۔