- الإعلانات -

تعلیمی ادارے کھولناوقت کی ضرورت ۔ ۔ ۔ مگراحتیاط لازمی

تعلیمی ادارے کھولناوقت کی انتہائی اہم ضرورت تھی کیونکہ اب مجموعی طورپردیکھاجائے تو تقریباً اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کوروناوائرس پرقابوپایاجاچکاہے ، اس سے مزید محفوظ رہنے کےلئے احتیاطی تدابیرانتہائی ضروری ہیں کیونکہ اگراحتیاط نہ کی گئی تو خدانخواستہ یہ دوبارہ حملہ آور ہوسکتاہے ۔ جہاں تک سکول، کالجز،یونیورسٹیزکی بات ہے تووہ احسن اقدام ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور عوام ایس او پیزپرکتناعمل کرتی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے یہ لازمی ہے کہ سکولوں میں بخارچیک کرنے کی مشینیں اوردیگرسہولیات فراہم کی جائیں تاہم حکومت نے کہاہے کہ بچے ماسک گھرسے لیکرآئیں گے ۔ ہم حکومت سے یہ کہتے ہیں کہ حکومتی اخراجات اور وی آئی پی کلچر میں کمی کرکے جو پیسہ بچے اس سے ملک بھرکے سکولوں میں بچوں کو ماسک فراہم کئے جائیں کیونکہ اس غربت اور مہنگائی کے دور میں ممکن نہیں ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر والدین بچوں کو ماسک فراہم کرسکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ سینیٹائزر اورسپرے وغیرہ کرانابھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے اگر یہ بنیادی ضرورتیں فراہم نہ کی گئیں تو خدانخوانستہ کوروناکاخطرناک حملہ ہوسکتاہے ۔ لہٰذا تعلیمی ادارے جومرحلہ وارکھولے جارہے ہیں وہاں پر چیک اینڈبیلنس بھی انتہائی ضروری ہے ۔ وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ سیکنڈری اسکولز، کالجز، یونیورسٹیاں 15 ستمبر، مڈل اسکولز 23 ستمبر اور پرائمری 30 ستمبر سے کھلیں گے، ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی کیا جائیگا، صوبہ پنجاب میں نصف بچے ایک دن، باقی نصف دوسرے دن بلائے جائینگے، ڈبل شفٹ نہیں ہوگی، اداروں میں داخل ہوتے وقت اسکریننگ ہوگی، بچوں کو اسکول اور وین میں بھی ماسک پہننا ہوگا، کھانسی اور بخار والے بچوں کو اسکول نہ بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت تادیبی کارروائی کر سکتی ہے، کھانسی اور بخار والے بچوں کو ہر گز اسکول نہ بھیجا جائے، اسکولوں اور یونیورسٹیز میں ہر دو ہفتے بعد کورونا کے ٹیسٹ کئے جائینگے تاکہ کورونا پر نظر رکھی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سینٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ اگر کسی اسکول یا علاقے میں کووڈ-19 کے کیسز میں اضافہ ہوا تو وہ اسکول یا متعلقہ علاقے کے تمام اسکولز بند کیے جاسکیں گے ۔ پریس کانفرنس سے قبل وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزارت تعلیم اور صوبوں نے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق تجاویز پیش کیں ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ 13مارچ کو اسکول بند کرنے کا مشکل فیصلہ کیا تھا، کورونا کے دوران بچوں کے امتحانات لینا ناممکن تھا، حالات کا جائزہ لے کر تمام فیصلے کئے گئے تھے ۔ ماہرین کی رائے، تھنک ٹینکس رپورٹ اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے، تعلیمی اداروں کو بتدریج کھولنے کا فیصلہ کیا ۔ نویں ، دسویں ، یونیورسٹیاں اور کالجز 15 ستمبر سے کھول دیئے جائیں گے، 15 ستمبر سے ہائر ایجوکیشن ادارے اور پروفیشنل ادارے کھول دیئے جائینگے ۔ 23 ستمبر کو دوبارہ جائزہ لینے کے بعد 6ویں ، 7ویں اور 8ویں جماعت کے طلباکو بھی اجازت ہو گی، 30 ستمبر کو حالات کا جائزہ لینے کے بعد پرائمری اسکول کھولے جائینگے ۔ وفاقی وزیر نے کورونا وائرس کے دوران این سی او سی کے کردار کو بھی سراہا ۔ بلاشبہ تعلیمی ادارے کھولناحکومت کا احسن اقدام ہے مگر ہ میں اس حقیقت کو ہر وقت ذہن میں رکھنا ہوگا کہ خطرہ ابھی تک موجود ہے ۔ جسے والدین ، اساتذہ اور سکول انتظامیہ حکومتی راہنما اصولوں پرموثر عمل کرکے ٹال سکتے ہیں تاکہ تعلیمی اداروں میں جلد از جلد ایسا محفوظ ماحول پیدا ہوجائے جہاں ہمارے بچے وائرس سے بلا خوف وخطر تعلیم جاری رکھ سکیں ۔ معاشرے کے تمام شعبے ، انفرادی سے لے کر اجتماعی اور حکومتی ادارے مل کر کوششیں کریں گے تو انشا اللہ بہت جلد کوروناوائرس ختم ہوجائے گا ۔

سیاسی پوائنٹ سکورنگ مسائل کا حل نہیں

صوبائی وفاقی حکومت کراچی والوں پر رحم کرے اور معصوم شہریوں کی زندگیوں سے نہ کھیلے ۔ ابھی بھی کراچی کے مسئلے پرپوائنٹ اسکورنگ کی جارہی ہے اگر صرف جولائی، اگست اور ستمبر میں ہونےوالے واقعات کی تفصیل اور ویڈیوز دیکھ لی جائیں تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ کراچی لاوارث ہے، اگر یہاں فلاحی تنظی میں اور سوشل ورکرز خدمات انجام نہ دیں تو شہر جنگل کا منظر پیش کرتا نظر ;200;تا ہے ۔ ریاست کی رٹ، سہولیات کی فراہمی اور معصوم پریشان شہریوں کی داد رسی کہیں دکھائی نہیں دیتی، خدارا اس شہر اور اس شہر میں بسنے والے انسانوں پر رحم کریں اور فی الفور اس شہر کے مسائل پرقابوپائیں ۔ مون سون کی حالیہ بارشوں سے سندھ بالخصوص کراچی کا جو حشر ہوا جس میں املاک کی تباہی کے ساتھ ساتھ قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں وہ نکاسی ;200;ب کے منصوبوں میں سابقہ اور موجودہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ناکامیوں اور بے تدبیریوں کا منہ بولتا ثبوت تھا مگر اس پر بھی وفاق اور سندھ میں پوائنٹ سکورنگ اور بلیم گیم کی سیاست کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کھلے دل کا مظاہرہ کرکے کراچی کی بحالی و ترقی کےلئے گیارہ سوارب روپے کا پیکج کا اعلان کیا مگردو تین دن گزرنے کے بعدہی وفاق اورصوبے میں فنڈز کے معاملے پرسیاسی چپقلش شروع ہوگئی ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت کا 3سال میں 11سو ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے ۔ کوشش کرینگے کہ ملکر ساتھ چلیں ۔ دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ کراچی پیکیج کی سرپرستی وفاق ہی کرے گا ۔ کراچی پیکیج کے فنڈز سندھ حکومت کو نہیں دے سکتے، پیسوں کیلئے سندھ حکومت پر اعتبار نہیں ، فنڈز کے معاملے میں سندھ حکومت کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے ۔ اگردیکھاجائے توسندھ کی حکمران جماعت شہر کراچی پر حکمرانی کا خواب تو دیکھتی ہے مگر جب کراچی کے مسائل پر بات کی جائے،تو انکے حل میں کردار ادا کرنے کی بجائے وہ تمام تر ذمہ داری دوسروں پرڈال دیتی ہے ۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی سرکوبی

پاک فوج نے انسانی تاریخ کی سب سے مشکل جنگ لڑتے ہوئے بہت جوانمردی اور بہادری سے دہشت گردوں کا نہ صرف مقابلہ کیا ہے بلکہ انہیں شکست بھی دی ہے ۔ قبائلی علاقوں میں کامیاب آپریشنز کے بعد دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے مگرابھی بھی بچے کھچے دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں جو بیرونی ایجنڈے پرعمل پیراہیں اور مذموم کارروائیاں کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ شمالی وزیر ستان کے علاقہ میر علی میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بنیادوں پر کئے گئے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد وسیم زکریا اپنے 5 دہشت گرد ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا ہے جبکہ 10اہم دہشت گرد گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کمانڈر وسیم کا تعلق میر علی کے علاقہ حیدر خیل سے تھا اور مطلوب دہشت گرد وسیم 2019 سے اب تک 30 مختلف دہشت گرد کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا ۔ دہشت گرد وسیم زکریا علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، حکومتی اداروں بشمول سی ایس ایس آفیسر زبید اللہ داوڑ کی شہادت اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں براہ راست ملوث تھا اور حسو خیل کے پاس آرمی کانوائے پر حملہ کرنے میں بھی ملوث تھا ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کو کسی صورت منظم نہ ہونے دیا جائے ۔ دہشت گردوں ہی کی طرح انکے سہولت کار بھی خطرناک ہیں کیونکہ سہولت کاروں کی مدد کے بغیر دہشت گردی نہیں ہو سکتی دونوں کے قلع قمع کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے نیشنل ایکشن پلان موجود ہے‘ اس میں کسی تبدیلی و ترمیم کی ضرورت ہے تو ضرور کرلی جائے ۔ سب کو خبردار ہونا ہوگا کہ وہ اپنے گرد وپیش پر نظر رکھیں کہ کوئی مشکوک شخص تو موجود نہیں ، مشکوک قسم کی سرگرمیاں تو نہیں ہورہیں ۔ پوری قوم دہشت گردوں کو شکست دینے کیلئے تیار ہے ۔ عوام نے دہشت گردوں کو پہلے بھی شکست دی ،ان شاء اللہ آئندہ بھی قوم فوج کے شانہ بشانہ دہشت گردی کا خاتمہ کرے گی ۔