- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر بارے بھارتی عوام کی رائے

امریکی ماہرین کا کہنا ہے مودی ڈاکٹرائن کے مطابق بھارت کے سات لاکھ سے زائدفوجی طاقت کے بیجا استعمال کے ذریعے کشمیر میں امن لانے کی ناکام پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ نہ جانے کیوں بھارتی حکومت کو گمان ہے کہ طاقت کے استعمال سے ہی کشمیر کی وادی پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن حالات اسقدر ابتر ہو چکے ہیں کہ وادی کو لہولہان کرنے کے باوجود نام نہاد امن کی تمام تر کوششیں بیکار جا رہی ہیں ۔ بھارت کے مظالم کیخلاف کشمیریوں اور انکے حامیوں کی آوازیں ہمیشہ اٹھتی رہی ہیں مگر بھارتی مظالم میں شدت آنے پر بھارت کے اندر سے بھی زوردار آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور ان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے ۔ بین الاقوامی ہی نہیں بلکہ اب تو بھارتی دانشور اور پڑھے لکھے باشعور اور سلجھے ہوئے افراد بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے ۔ طاقت کے زور پر کسی کی آزادی نہیں چھینی جا سکتی ۔ بھارتی پروفیسر اجے کمار شرما کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے مودی حکومت نے کشمیر کے حالات سے نمٹنے کے لیے تمام تر وسائل طاقت کے استعمال پر جھونک دئیے جس سے کشمیریوں میں نفرت بڑھتی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ کا کہنا ہے کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ظالم مودی حکومت کو تارے دکھائے ۔ کشمیر اب ہندوستان کا کبھی حصہ نہیں رہے گا ۔ پروفیسر حامد خان نے کہا کہ پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں لوگوں کی بینائی ختم کر دی گئی نوجوانوں کو اسی طرح چن چن کر ہلاک کیا جارہا ہے جیسے فلسطین میں اسرائیلی فوجی کاروائیاں کر رہے ہیں ۔ بھارت کے سیاستدان بھی اب کشمیر کے مسئلے سے تنگ آگئے ہیں اور اس کے حل کی کوششیں کرنے اور پاکستان و کشمیریوں سے مذاکرات کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ بھارت کے سابق مرکزی وزیر یشونت سہنا نے طاقت پر مبنی کشمیر پالیسی کو بے سود قرار دیتے ہوئے مودی سرکار کو باور کرایا کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات ناگزیر ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما یشونت سنہا نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں وکشمیر کی 5 اگست 2019 سے پہلے والی حیثیت اوربھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35;65;کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں گزشتہ سال بھارتی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ہیں اورجموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ضرور بحال ہو گی اوردفعہ 370 اور 35;65; کو دوبارہ بھارتی آئین کا حصہ بنایا جائے گا ۔ بھارت کی چند اعلیٰ شخصیات جن میں سابق وزیر خارجہ یشونت سہنا، سینئر صحافی بھارت بھوشن اور ایئر فورس کے سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک پر مشتمل ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے وادی کا دورہ کیا اور مودی حکومت کے حالات معمول پر ہونے کے دعوے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ۔ یشونت سہنا کا کہنا تھا کہ حالات نارمل نہیں ۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی دیکھا کہ ساری دکانیں بند ہیں ۔ کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ فون اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے ۔ کپل کاک نے موجودہ صورتحال کو یخ بستہ قید قرار دیتے ہوئے کہا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو یخ جیل میں رکھنے کے باوجود صورتحال کو معمول قرار دیا جا رہا ہے ۔ مودی حکومت اعلانات کی بجائے کشمیریوں کے درد کو محسوس کرے ۔ ساری دنیا ایک بات تو واضح طور پر جان چکی ہے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اسی ناکامی کو چھپانے کےلئے بھارتی فوجی کشمیریوں کا قتل عام کر رہے ہیں ۔ مودی سرکار کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہر کشمیری بغاوت پر اتر چکا ہے ۔ بھارتی فوج بھی مودی سرکار کو طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی حل پر زور دے رہی ہے ۔ ارون دھتی راءو اور جسٹس ریٹائرڈ کاٹجو کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد کی عرصہ سے حمایت کررہے ہیں ۔ اب مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر خود بھارتی اخبارات بھی بولنا شروع ہوگئے ہیں ۔ بھارت کے انگریزی اخبار ’’دی ٹیلیگراف‘‘ نے اس موضوع کو اپنی شہ سرخی بنایا ۔ اخبار نے ریاست کیرالہ میں ہندو انتہا پسندوں کے ہنگامے کی ایک تصویر شاءع کی اور لکھا کہ کشمیر میں ہم انہیں مارتے ہیں ، کیرالہ میں ہم انہیں عقیدتمند کہتے ہیں ۔ نریندر مودی کی انتہاپسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حالیہ دور اقتدار میں بھارت میں انتہا پسند ہندووَں کی سرگرمیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوج کے مظالم میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ بھارت میں بڑھتی انتہا پسندی پر وہاں کی نامور شخصیات جیسا کہ سابق بھارتی چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو اور اداکار نصیر الدین شاہ بھی مودی حکومت کی جانب سے انتہاپسند ہندووَں کو کھلی چھوٹ دیئے جانے پر تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں ۔ بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم بھی واضح کرچکے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو عوام کی اکثریت کے مطالبے کے مطابق حل ہونا چاہئے ۔ ہ میں ایک ایسا حل نکالنا چاہئے جو باعزت باوقار اور جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت کیلئے قابل قبول ہو ۔ ان کو بھی کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکلتا محسوس ہورہا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے جس کا مودی سرکار کو بھی ادراک ہے مگر وہ انسانیت کے بجائے ظلم و بربریت پر یقین رکھتی ہے ۔ بھارت کے کٹھ پتلی رہنے والے حکمران بھی مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی بات کرتے ہیں ۔ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے بھارت کو متعدد بار مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور دیا ہے ۔ اور تو اور گزشتہ دنوں بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل اے کے بھٹ نے مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور پر حل کرنے کیلئے کشمیریوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کا ایک محدود کردار ہے ۔ کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کو اچھے نظم و نسق اورسیاسی مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے جس طرح اٹل بہاری واجپائی کے دور میں شروع کیا گیا تھا ۔ فوج صرف معمول کے حالات بحال کرنے کیلئے مدد کر سکتی ہے ،امن برقرار رکھنا فوج کا کام ہے لیکن مسئلے کا طویل مدتی حل حکومت کو خود ڈھونڈنا ہوگا ۔