- الإعلانات -

مور تور ٹلے رانا

مور تور ٹلے رانا یہ سندھی علاقائی گیت ہے ۔ اس گیت کو سننے والا اگر سندھی نہیں بھی جانتا یاسمجھتا پھر بھی وہ اس گیت کو سن کر جھوم اٹھتا ہے ۔ راقم پربھی اس گیت کو سننے پریہی کیفیت طاری رہ چکی ہے ۔ آج ایک پوسٹ میرے این ڈی یو کے ساتھی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اشرف سلیم نے یہ پوسٹ شیئر کی ۔ جسے پڑھ کر جنر ل صاحب کا اس خوبصورت معلوماتی پوسٹ کوشیئر کرنے کا شکریہ ادا کیا ۔ راقم نے بتایاکہ یہ گیت میرے کالج کے زمانے میں بہت مشہور تھا لیکن اس گیت کی وجہ شہرت سے ناواقف تھا ۔ آپ کی پوسٹ پڑھنے کے بعدیہ گیت راجپوتوں کا ترانہ لگا ۔ اب میں اسے اپنے کالم میں شیئر کرونگا ۔ اس گیت کی کہانی کچھ یوں ہے ۔ یہ گیت سندھی زبان میں لکھا اور گایا گیاہے ۔ سن 1850 سندھ کے صحرا تھرپارکر کے ایک گاءوں عمر کورٹ کے حکمران راجپوت رانا رتن سنگھ سودھا نے راج برطا نیہ کی جانب سے غریب عوام پر لگائے گئے نا جائز لگان کے خلاف آواز بلند کی اور ایک بے مثل جدو جہد کی ۔ پھر رانا رتن کی آواز راج برطانیہ کی نظر میں بغاوت ٹھہری ۔ وہ تھر کے صحرا ءوں میں راج برطا نیہ کے خلاف اپنی آواز اور کاروائیاں کرتا رہا ۔ مگر آخر کار اس کی آواز کو دبانے کےلئے اسکو پکڑ کر قید کر لیا گیا ۔ اگرچہ ملکہ وکٹوریہ نے علاقے کے با اثر لوگوں کی سفارشات پر اس کو معاف کر کے آزاد کر دیا گیا تھامگر رانا رتن سنگھ اپنے موقف پر ڈٹا رہا کہ غریب لوگوں سے اس غیر منصفانہ ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے ورنہ وہ انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہو گا ۔ اس پر انگریزوں نے بھی رانا رتن سنگھ کے تیور اور اس کے دور رس اثرات کو سمجھتے ہوئے غریبوں کے عظیم باغی لیڈر رانا رتن سنگھ کے انجام کو سندھ کے تمام لوگوں کےلئے ایک عبرت کی مثال بنانے کا تہیہ کر لیا ۔ آج پتہ چلا کہ دنیا میں آواز دبانے کےلئے حکمرانوں نے انگریزوں سے سیکھا ہے ۔ دنیا میں یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے ۔ انگریزوں نے عمر کورٹ کے بیچوں بیچ رانا رتن سنگھ کو پھانسی گھاٹ کی تیاری شروع کر دی تاکہ تمام لوگ اس کے انجام کو دیکھ کر چپ چاپ ٹیکس دینے کےلئے تیار ہو جائیں ۔ جب پھانسی گھاٹ تیار ہوا تو تمام آس پاس کے گاءوں میں اس بات کا اعلان کیا گیا اور رانا رتن سنگھ کو ان کے سامنے آہستہ آہستہ پھانسی گھاٹ کی اونچی سیڑھیاں چڑھا کر پھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا کیا گیا اور آخری خواہش دریافت کی گئی ۔ جس پر رانا نے اپنے بندھے ہاتھوں کو کھولے جانے کا کہا ۔ جس پر ایسا ہی کیا گیا ۔ ہاتھوں کے آزاد ہوتے ہی رانا نے انتہائی با اعتمادی سے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی مونچھو ں کو تاءو دے کر ان کی نوکوں کو اوپر کی جانب کیا ۔ یاد رہے مونچھو ں کو تاءوں اور بل دینا برصغیر کے لوگوں کا ایک ایسا انداز ہے جس سے اظہار کیا جاتا ہے کہ انسان کس قدر دلیر اور بے خوف ہے ۔ یہ موچھیں ان کو زیب دیتی ہیں جھنیں موت کا ڈر خوف نہیں ہوتا ۔ اب توحالات بدل گئے ہیں ۔ اب بعض مونچھ رکھ کر ڈر کے مارے بوٹ پالش کرنے لگ پڑتے ہیں اور بغیر مونچھوں والے تختہ دار پر چڑ جاتے ہیں ۔ پھانسی گھاٹ پر رانا رتن سنگھ کا ایسا موچھوں کے ساتھ تاءو دینا ایک انتہائی درجہ کی خود اعتمادی اور بہادری کو شو کرتا تھا ۔ راجپوت رانا رتن سنگھ سودھا نے اس دلیرانہ انداز سے پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالتے دیکھ کر آزادی کا جذبہ غیر مرئی فتح کے احساس کے ساتھ ابھر کر سندھ د ھرتی کی ہواءوں اور عوام میں پھیل گیا ۔ پھانسی کے وقت یوں لگا جیسے رانا کہہ رہا ہو ۔ میرے دوست تو دیکھ میں ہارا تو نہیں ، میرا سر بھی تو رکھا ہے میری دستار کے ساتھ ۔ رانا کے اس انداز نے اس کی روحوں کو غلامی سے نجات دلا دی اور تاریخ میں زندہ رکھا ہوا ہے ۔ اس واقع پر سندھ کا یہ مشہور لوگ گیت مور تو ٹلے رانا تخلیق ہوا ۔ یہ خوشی کا گیت ہے ۔ اس گیت کے اہم بول میں ہزاروں رانا رتن جیسے دلیر اور بہادر بچے سندھ دھرتی پر پیدا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ کہ رانا تمہاری ہی حکومت ہو گی اور تمہارے جیسے ہزاروں ہونگے یہ گیت تھر کے صحرائی ماحول کی خوشیوں کا حسین اور لازوال حصہ بن گیا ہے اور رانا رتن سنگھ سودھا کی بہادری و قربانی کی یاد دلاتا ہے ۔ غریبوں کے لئے کسی زمانے میں ایک ایسے عوامی لیڈر جس کی رانا رتن سنگھ جیسی موجھیں تو نہ تھی مگر گرج دار آواز تھی ۔ جب گیس اور بجلی کی قیمتوں کے ریٹ بڑھائے گئے تو سرعام اپنے ہاتھ میں یہ بل اور لاءٹر جلا کر لیڈر نے اس بل کوآگ لگا دی تھی اور کہا تھا عوام غریب ہیں ۔ یہ بل ادا نہیں کر سکتے ۔ لہٰذا میں اپنا بل جلا کر حکمرانوں کو بتا نا چاءتا ہوں آج کے بعد عوام کوئی بل ادا نہیں کریں گے ۔ اس کے بعد سے سکون ہے ۔ لگتا ہے اب حکمران عوام سب سمجھدار ہو چکے ہیں ۔ اب کوئی رانا رتن سنکھ کے راستے پر چلنے کو تیار نہیں ۔ خواہ کوئی حکمران ہو،لیڈر ہو عوام ہو ، ادیب ہو یا کوئی شاعررانا کے راستے پر نہیں چلا رہا ۔ سمجھا نہیں کہ اس وقت جیت رانا کی ہوئی تھی یا انگریز کی ۔ میں سمجھتا ہوں رانا اس وقت ہارا تھا ۔ اس لئے کہ آج رانا کئی نہ کئی دکھائی دیتا ۔ ہمارے ہاں تو اب کوئی شاعر بھی نہیں رہا جو غریب کی مشکلات کا اظہار کر سکے ۔ پڑوسی ملک کے ایک شاعر کے دوست قانون دان عامر ملک سے چند شعر ادھار یہ کہہ کر لئے ہیں جب ہمارے کسی شاعر نے ایسے شعرلکھے تو واپس آپ کو لوٹا دونگا ۔

سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا

وعدہ لپیٹ لو جو لنگو ٹی نہیں تو کیا

۔ عالم بڑے بڑے ہیں لیڈر گلی گلی

بارش ہے افسروں کی تو آفس گلی گلی

شاعر ادیب اور سخن ور

سقراط در بدر ہے اور سکندر گلی گلی

سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں توکیا

حاکم ایسے کہ دیس کا قانون توڑ دیں

رشوت ملے تو قتل کے مجرم بھی چھوڑ دیں

نگران ( پولیس والے) جو ملزمان کی آنکھیں بھی پھوڑ دیں

سرجن ایسے کہ پیٹ میں آزار چھوڑ دیں

سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا

ہر قسم کی جدید عمارت ہمارے پاس

ہر ایک پردہ دار تجارت ہمارے پاس

، اپنوں کو لوٹنے کی جسارت ہمارے پاس

کھیلوں میں ہارنے کی امارت ہمارے پاس

سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا

وعدہ لپیٹ لو جو لنگو ٹی نہیں تو کیا ۔

بس ہم گاتے رہیں مور تور ٹلے رانا ۔ شائد کوئی رانا یا رانا کی شکل میں غریبوں کی آواز جیسا پیدا ہو جائے ۔