- الإعلانات -

ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش

ہمارے دشمنوں نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلا کر دہشت گردی کو فروغ دیا ۔ کسی ایک فرقے کو اتنا بھڑکایا کہ وہ دوسرے فرقے پر چڑھ دوڑا ۔ بات جب بڑھ جاتی ہے تو مساجد اورمدارس محفوظ نہیں رہتے ۔ ان میں بے گناہ اور معصوم طلباء و نمازیوں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ کاروباری لوگوں کی دکانوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا، مسجد کو بھی آگ لگا دی گئی ۔ ایسے حالات و واقعات کو دیکھ اور سن کر یوں محسوس ہوتا کہ کہ شاید ہم پر دوبارہ جاہلیت کا دور مسلط کر دیا گیا ہے ۔ محرم الحرام تمام مسلمانوں کےلئے حرمت اور عزت کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں سب مسلمانوں کو مل کر عبادت کے ذریعے اپنی عبادات میں شہدائے کربلا کے درجات کو بلند کرنے کےلئے دْعائیں مانگنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے دشمن فرقہ وارانہ آگ بڑھکانے سے باز نہیں آتے ۔ اسی آگ میں دشمن مزید تیل ڈالتے رہتے ہیں ۔ وہ یوں کہ کسی بھی مسلک یا فرقہ کی مسجد یا جلسے جلوس میں کوئی دہشت گردی کر دی اور نام دوسرے فرقہ کا لگا دیا ۔ پھر یہ آگ اتنی بھڑک جاتی ہے کہ قانون نافذ کرنےو الے ادارے اور دیگر فورسز بھی ناکام ہونے لگتے ہیں ۔ فرقہ واریت میں زیادہ قصور ہمارے لوگوں کا بھی ہے کہ خوامخواہ دوسرے فرقے کو برا بھلا کہنا اور ان سے لڑنا جھگڑنا ۔ جبکہ معلوم بھی ہے کہ یہ بھارتی سازش ہے اور اس کا مقصد ہی وطن عزیز میں بدامنی پیدا کرنا ہے ۔ وطن عزیز میں امن وامان کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پہلے ملک کو اندرونی سازشوں سے پاک کیا جائے اور بیرونی سازشوں کےلئے ملک میں موجود آلہ کاروں کے خلاف سخت سے سخت آپریشن کیا جائے ۔ ملک میں چھپے ہوئے دشمنوں کے آلہ کار، سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے ۔ اس میں کسی مصلحت سے کام نہ لیا جائے ۔ چاہے وہ کوئی عالم ہے یا کوئی سیاسی شخصیت، سب کے ساتھ ایک جیسا ہی سلوک کرنا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ تمام فرقوں کے مذہبی تنظیموں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ اس وقت منبر و محراب سے اچھی باتیں اچھے القاب نکالنے کی سخت ضرورت ہے ۔ اب تک پاکستان ساری دنیا میں مذہب کے نام پر بہت بدنام ہو چکا ہے ۔ اس میں خود غرض، مفاد پرست اور پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار بننے والے لوگوں کا بہت حصہ ہے ۔ ہ میں اشتعال انگیز منافرت پھیلانے والوں کو اپنی صفوں سے نکالنا ہو گا ۔ تمام علمائے کرام کی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ دشمن کا آلہ کار بننے والے جوشیلے ورکروں کو اشتعال میں آنے سے باز رکھیں ۔ پاکستان بہت عظیم اور سخت جان ملک ہے کہ اس کو کھانے و الے بہت زیادہ، جبکہ اس کا خیال ر کھنے والے بہت کم، اس کو اجاڑنے والے بے شمار، لیکن سنبھالنے والے گنتی کے لوگ، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی دھرتی پر موجود اولیائے کرام ،بزرگان دین، نیک بندوں اور بہادر سپوتوں کی وجہ سے ابھی تک قائم و دائم ہے ۔ پاکستان کو قائم رکھنے میں لاکھوں شہیدوں کی قربانی کا بڑا حصہ ہے ۔ اگر سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا تو تاریخ سیاست دانوں کو معاف نہیں کرے گی ۔ اگر علمائے کرام اپنے محراب و منبر سے آواز بلند کر کے ملک سے مذہبی منافرت اور دہشت گردی کا خاتمہ نہ کر سکے، تو پاکستان میں بسنے والے تمام مسالک کے مسلمانوں کے درمیان محبت و یگانگت کا رشتہ قائم کرنے میں اگر خدانخواستہ ناکام ہو جاتے ہیں ، تو پھر اگر ملک کو کوئی نقصان ہو گا، تو پھر تاریخ ملک میں رہنے والے علماء اور مذہبی لوگوں کو معاف نہیں کریگی ۔ ہماری سکیورٹی فورسز کی کارکردگی نے ملک دشمن عناصر اور بھارت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کا مزید کھیل نہیں کھیل سکتے ۔ پاکستانی عوام یہاں دہشت گردی قتل و غارت گری کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ وطن کی سلامتی و بقاء کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ آئیے عہد کریں گہ وطن دشمنوں کیلئے ارض پاک کو تنگ کر دینگے ۔ ہم پاکستان کے استحکام اور سلامتی کےلئے ہر طرح کی قربانی کےلئے تیار ہیں ۔ علما اور مشاءخ نے اتحاد امت کےلئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے ۔ وحدت امت ہمارا نصب العین ہے ۔ ملک دشمن عناصرکے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے ۔ تحریک پاکستان کی طرح استحکام ودفاع وطن کیلئے علما کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش ہی کی ہے ۔ کبھی دہشت گردی، کبھی سرحدوں پر فائرنگ ، کبھی فرقہ وارانہ منافرت ۔ مختلف مسالک کے لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا کر انتشار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پیدا کرنے کی سازشیں کر رہی ہے ۔ مسلمانوں نے اگر اپنے اندر صبر و تحمل، برد باری اور برداشت کی قوت پیدا کی ہوتی تو دشمن ہ میں لڑانے میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتا ۔ اس سے بھی انکار نہیں کہ مختلف فرقوں کے علمائے کرام نے تقاریر اور تحاریر کے ذریعے نہ صرف اپنے فرقہ کو سب سے بہتر اور قرآن اور حدیث شریف کے بالکل مطابق فرقہ گردانابلکہ دوسرے فرقے میں ہزاروں عیب اور نقص نکال دیئے ۔ یہاں تک دوسرے فرقوں کو خارج الاسلام تک کہہ دیا ۔ اپنے اپنے فرقے کے لوگوں کے جذبات کو ہوا دی ۔ یوں ملک میں امن و امان کا مسئلہ بنا ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کا المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں مختلف سازشیں پروان چڑھتی رہیں ہیں ۔ اسلام دشمن قوتوں اور مفاد پرستوں نے ہمیشہ امت کی وحدت و اتحاد میں تفرقہ ڈالنے کےلئے مختلف حربوں سے کام لیا ۔ ان حربوں میں سب سے زیادہ مسلکی یا فرقی منافرت کا حربہ زیادہ کامیاب رہا ۔ شعیہ سنی، بریلوی، دیوبندی اختلافات مسلمانوں کو اتحاد اور اخوت سے دور لے جاتے ہیں ۔