- الإعلانات -

حادثہ بے سبب نہیں ہوتا

امسال مون سون میں ملک بھر میں بارشوں سے جو تباہ کاریاں ہوئیں بالخصوص پورا کراچی جس طرح دریاءوں کا منظر پیش کررہا ہے ‘ اس سے کراچی سمیت سندھ کے عوام کیلئے حکومتی اور انتظامیہ کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان بن کر رہی گئی ہے ۔ پنجاب میں بھی بارشوں کے باعث چھتیں گرنے‘ ڈوبنے سے 19 جاں بحق ہوگئے جبکہ سوات میں 3 پل بہہ گئے ۔ جہلم‘ چناب میں طغیانی‘ 163 دیہات زیرآب آنے سے فصلیں تباہ ہوگئیں ۔ ہر سال مون سون میں ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن افسوس انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے پیشگی کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا ۔ رہی سہی کسر بھارت اپنی آبی دہشت گردی کرتے ہوئے فالتو پانی ہمارے دریاءوں میں چھوڑ کر ہ میں سیلاب میں ڈبو دیتا ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں حکومت کی مدد کیلئے ہراول دستے کا کام کرتی ہے‘ قدرتی آفات ہوں یا سرحدوں کی حفاظت‘ پاک فوج ہر میدان میں قومی کی امیدوں پر پوری اترتی ہے ۔ اس وقت بھی کراچی میں پاک فوج کے جوان انتظامیہ کے شانہ بشانہ امدادی کاموں میں مصروف ہیں ۔ اگر حکومتیں اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں نیک نیتی سے پور کریں تو پاک فوج کو اسکے پیشہ ورانہ فراءض ہٹا کر اسے امدادی کاموں کی طرف لانے کی نوبت ہی نہ آئے اور پیشگی اقدامات سے قوم کو بڑے نقصانات سے بچایا جاسکتا ہےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورت حال، خصوصاً کراچی میں اربن فلڈنگ کے حوالے سے درست نشاندہی کی کہ ’’اس قدرتی آفت نے پاکستان کے میگا شہروں کی انتظامیہ کو ترجیحات کے تعین کا موقع فراہم کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی آفات سے بچا سکے‘‘ ۔ آرمی چیف منگل کو دو روزہ دورے پر شہر قائد پہنچے تھے ۔ اربن فلڈنگ کے زمینی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے فضائی معائنے اور کور ہیڈ کوارٹرز میں صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں فوج کی جانب سے سول انتظامیہ کی مدد سے متعلق تفصیلات سے آگہی کے بعد ان کا تاثر یہ تھا کہ پاکستان کا کوئی شہر ایسی قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے بنائے گئے منصوبوں میں فوج کی ہر ممکن مدد کا اعادہ کرتے ہوئے ترجیحات کی اہمیت واضح کی اور کہا کہ ہمارا مسئلہ وسائل کی عدم دستیابی کا نہیں بلکہ ترجیحات کا صحیح تعین نہ کیا جانا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز کو، جو معاشی مشکلات اور کورونا کے اثرات سے نکلنے کی کوششوں میں کامیابی کی منزلوں کی طرف بڑھ رہا ہے، قدرتی آفت کے روپ میں ایک نئی صورت حال کا سامنا ہے ۔ ملکوں اور قوموں کو ایسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہی ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم حوصلے، ہمت اور اتحاد و اتفاق سے ان چیلنجوں پر قابو پانے کی سعی کریں اور چیلنجوں میں چھپے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھائیں ۔ بارشیں ، سیلاب، زلزلے، ٹڈی دل، خشک سالی جیسی آزمائشوں سے بیشتر اقوام کا سامنا رہتا ہے ۔ جن کے لئے ہر وقت تیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نقصانات کو کم کیا جاسکے ۔ ہم بھی اگر اپنے شہروں کی منصوبہ بندی میں آبادی کے بڑھنے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی ضروریات ملحوظ رکھتے، برساتی پانی کی گزر گاہوں میں رکاوٹوں کے امکانات ختم کرتے، ندی نالوں پر تجاوزات قائم نہ ہونے دیتے، نئے شہر آباد کرنے کی طرف توجہ دیتے اور بارش کے حیات بخش پانی کو محفوظ کرنے کی تدابیر کرتے تو یہی پانی جو ملک کے چاروں صوبوں ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں کئی روز سے جاری موسلا دھار بارشوں کی صورت میں درجنوں افراد کےلئے پیغام اجل اور لاکھوں کے بے گھر ہونے کا ذریعہ بنا ان کےلئے زمین کی زرخیزی بڑھنے اور نئی فصلیں لہلہانے کا پیغام لے کر آتا ۔ کراچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کئی دہائیوں سے بڑھتی شہری آبادی، بلامنصوبہ بندی آبادکاری اور بنیادی ڈھانچے کے امور سے متعلق مسائل نے غیر معمولی بارشوں کے ساتھ مل کر صورتحال کو پیچیدہ کردیا ۔ یہ تجزیہ دیگر کئی شہروں کے لحاظ سے بھی اتنا ہی درست ہے ۔ اس باب میں وفاقی و صوبائی سطحوں پر بعض حکومتی فیصلوں کے اچھے اور برے نتاءج کا تجزیہ کیا جانا چاہئے اور وزیر اعظم عمران خان کے جمعہ کے روز ہونےوالے کراچی کے دورے کو صرف پیکج اور منصوبوں کے اعلان تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ایسی ہم آہنگی کا ذریعہ بننا چاہئے جو سندھ بھر کے لوگوں کی مشکلات کم کرنے میں معاون ہو اور دیگر صوبوں سمیت ملک کے ہر حصے کے لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے نمونہ بنے ۔ وزیر اعظم نے احساس پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ عوامی خدمت کی غیرسرکاری تنظی میں بھی اپنے اپنے طور پر سرگرم ہیں ۔ ہماری بری و بحری فوج کے جوانوں نے بارش اور سیلاب میں گھرے لوگوں کو ریسکیو کرنے اور انہیں خوراک پہنچانے میں جو کردار ادا کیا وہ اپنی مسلح افواج پر ہر شہری کے فخر میں اضافے کا باعث ہے انہوں نے تباہی سے نپٹنے کے کاموں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ امدادی کاموں کے تحت خدمات کی بحالی اور بدترین متاثرہ لوگوں کو ترجیح دی جائے، کسی خاص مقام یا برادری کے کسی بھی اثرو رسوخ کو ضرورت مندوں کےلئے مختص توجہ یا وسائل ہٹانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ ایک قومی سطح کی آفت ہے، جس سے نپٹنے کےلئے ہم سب ایک ہیں ۔ آرمی چیف نے کراچی میں بارشوں اور سیلاب سے پھیلنے والی تباہی پر بالکل درست تناظر میں بات کی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ وسائل کا مسئلہ نہیں ،اصل ضرورت ترجیحات کے تعین کی ہے، دُنیا کے کسی بھی مُلک کے پاس لامحدود وسائل نہیں ہوتے ۔ یہ درست ترجیحات ہی ہیں جو ان کی افادیت کو بڑھاتی یا کم کرتی ہیں ۔ اگر وسائل دانشمندی اور سوچ بچار کے بعد اس طرح خرچ کئے جائیں کہ کم وسائل سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو تو اُن کے مثبت نتاءج سامنے آتے ہیں اگر وسائل بے دریغ اور سوچے سمجھے بغیر ہی خرچ کر دیئے جائیں تو اِس بات کا امکان ہوتا ہے کہ ان سے مطلوبہ نتاءج حاصل نہ ہوں ، کراچی میں ترجیحات کا مسئلہ تو اپنی جگہ ہے،لیکن منصوبہ بندی کے بغیر شہر کے پھیلاؤ نے اس کے مسائل کو گھمبیر بنا دیا ہے ۔ اگر اب یہ جائزہ لیا جائے کہ شہر کو بے ہنگم طریقے سے کیوں پھیلنے دیا گیا اور کون اس کا ذمہ دار تھا توتہہ در تہہ پیچیدگیوں کی وجہ سے شاید کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچا جا سکے،لیکن عمومی طور پر اتنا تو معلوم ہی ہے کہ کراچی کی ترقی کے ذمہ دار اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے وسائل کے ضیاع میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور ذاتی مالی منفعت کی خاطر ایسی تعمیرات کی اجازت دے دی گئی، جو بارش جیسی آفت کے دوران مصائب میں اضافے کا باعث بنی ہیں ۔ اب اگر ایسی تعمیرات کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے تو نئے مسئلے سامنے آئیں گے لیکن جب یہ تعمیرات ہو رہی تھیں اِس وقت انہیں روکا جاتا تو آج ہ میں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ،لیکن وقتاً فوقتاً آبائے شہر کے منصب پر فائز ہونےوالوں نے اپنی ذمہ داریاں امانت و دیانت کے اصولوں کے تحت انجام نہیں د یں ۔ ان پر خرچ ہونےوالی رقم بھی مخصوص لوگوں کی جیبوں میں چلی گئی ، اب جب مصیبت آئی تو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہے جسے خیر باد کہہ کر ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے ، اب بھی اگر ترجیحات کا درست تعین کر کے اخراجات کئے جائیں تو تھوڑے ہی عرصے میں حالات بھی بہترہوسکتے ہیں ، اور آئندہ کےلئے بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ بھی ممکن ہے،لیکن اتنا تو ہے کہ جو کام عشروں سے بگڑتے رہے ہیں اُنہیں اب کسی بھی جادوئی طریقے سے تو ختم کرنا ممکن نہیں ،ان کی اصلاح کےلئے وقت لگے گا ۔