- الإعلانات -

منم محوِ خیال او

آج نہ جانے کیوں میرے ذہن میں بار بار علامہ اقبال ;231; کے یہ اشعار گونج رہے ہیں ’’ پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ، کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب،کس نے بھردی موتیوں سے گوشہء گندم کی جیب یہ زمین کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب ، کون لایا کھینچ کر پچھم سے یاد ساز گار ، موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب ، علامہ صاحب کے اشعار انسانی کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ کائنات کی تخلیق پر غور کرنا ضروری ہے ،سبزہ و گل کیسے دھلے چہروں کیساتھ نمایاں ہیں ، ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے ، مشرقین کیسے ہیں ، مغربین کیسے ہیں ، مشارق ، مغارب کیا ہیں ایک جنت ہے یا جنتین ۔ انسان آتاہے اور پھر جاتا کیوں ہے یہ زندگی خواب کی طرح کیوں دھیرے دھیرے گزرتی جاتی ہے ، احساس تک نہیں ہوا ، پیدائش سے بڑھاپے تک سبھی ادوار صابن کی ٹکیہ کی طرح اپنے ہاتھوں میں گھل جاتے ہیں کچھ بھی پائیدار نہیں ، خواب سے آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب موت کا فرشتہ لینے آجاتا ہے ۔ یہ کچھ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے ، یہی انسان جو بہت سے رشتوں کو نبھانے والا ہوتا ہے میت بن جاتا ہے گھر والے جن کے ساتھ زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہوتا ہے زمین میں دفن کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں ، جس نے گھر بنایا وہی گھر سے باہر ہوجاتا ہے ، وہ دولت مند خوبصورت انا پسند کہاں چلے جاتے ہیں جو اپنے جوتوں پر ہلکی سی گرد پڑنا بھی پسند نہیں کرتے وہ پاؤں مٹی کے نیچے پسندنہیں کرتے وہ منوں مٹی کے نیچے خاک کے بستر پر لیٹے ہوتے ہیں ، موسم بدل جاتے ہیں ، کوئی کسی کے کام نہیں آئیگا نہ ماں نہ باب نہ بیوی نہ بچے ،صرف اپنے اعمال کامیاب یا ناکام بنائیں گے ، وہ ہستی جو تصورات میں رہ کر عبادت کرواتی ہے سامنے ہوگی یہاں انتظار میں گزرتی ہے وہاں دیدا ر ہوگا، شافع محشر کا یہی اور خالق کا ئنات کا بھی ، بنانے والے نے یہ کائنات پر فیکٹ بنائی ہے ، اس میں خوبصورتی ہے اور مقصدیت ہے ، نظر اٹھاکر کائنات کو دیکھنے کا وقت ملے تو کوئی چیز بے تکی بے مقصد معلوم نہیں ہوتی ۔ جون کا مہینہ ہمیشہ جون ہی میں آتا ہے سردی دسمبر ہی میں محسوس ہوتی ہے بارش اور برفباری کا اپنا حساب ہے ،میخوں کی طرح پہاڑوں کو زمین میں گاڑ دیا ہے ، دریاؤں کو روانی دی ستونوں کے بغیر آسمان بنادیا ، اس میں ستارے سیارے چاند اور سورج کو سجا دیا وہ اپنے اپنے مدار میں ایک دوسرے کے پیچھے گردش میں ہیں دونوں کبھی ایک دوسرے کے آ گے جانے کی کوشش نہیں کرتے ، فصلیں زمین سے انسانوں کی خوراک کیلئے اگتی ہے ،جانور انسان کی خوراک اورآسودگیوں کیلئے پیدا کردیئے، کھاری اور میٹھے پانی کوالگ کردیا ، کون ہے جو ہ میں زمین سے نتھرا ہوا پانی پلاتا ہے اگر وہ اسی پانی کو کڑوا کردے تو ہم کیا کرسکتے ہیں ترقی یافتہ سائنس فیل ہوجائے ۔ پانی کی قلت میں سائنسی فارمولے کیوں کام نہیں آتے ، پانی کی مٹھاس رشتوں کی مٹھاس یاد دلاتی ہے ،مامتا مٹھاس ہے مشقت سے پاک کر جنم دینے والی مامتا دوسال سے زیادہ عرصہ اپنے سینے سے چمٹا کر پرورش کرتی ہے ، اس کے پاؤں تلے جنت رکھ دی ، قرآن میں واضح ہدایت فرمادی ’’تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ، ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائے تو ان کے آگے اف تک نہ کرنا ، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کیساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ، عاجزی اور محبت کیساتھ ان کے سامنے بازو پھیلائے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ میرے پروردگار ان پر ویساہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے اور جو تمہارے دلوں میں ہے، اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے ،اگر تم رجوع کرنیوالے اور نیک ہو تو ان کو اللہ بخشنے والا ہے اور مسکینوں ، مسافروں رشتے داروں کا حق ادا کرتے رہو ، بے جا خرچ نہ کرو ، بے جا خرچ کرنیوالے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکر ا ہے ، اگر تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے اپنے رب کی اس رحمت کی جستجو میں جسکی تو امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہئے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سمجھا دے ، کوئی خیانت کرنیوالا ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہر گز پسند نہیں ‘‘ ۔ اسے ہمارے لیڈر سوچتے ہی نہیں ، زمین پر زندگی ہے ، کائنات کو جاننے والا انسان ہے ، اشرف المخلوقات ہے ، تخلیق کو سٹڈی کرنا اور خالق کی معرفت حاصل کرنا ہے اسی اشرف المخلوقات کے ذمے ہے ، یہ تو صرف میرے اور تیرے کی جنگ میں لگا ہوا ہے ، انسان کیا ہے میں تو کائنات کومکمل طور پر دریافت نہیں کرسکا ، اللہ کی معرفت آسان کام نہیں مجھے تو اپنا ہونا اور نہ ہونا سمجھ نہیں آیا بس میرا سر اس خالق کے سامنے جھک گیا ہے جو اس خوبصورت کائنات بنانیوالا ہے ، مجھے تو درخت اور بیج کی سمجھ نہیں آئی ۔ ایک بیج میں کتنے درخت پھر درختوں میں کتنے بیج ۔ ایک انسان چار پانچ نسلوں کے بعد سینکڑوں رشتے داریوں کا منبع بن جاتا ہے ۔ کائنات پر غور کرنے سے کچھ سمجھ آتی ہے کہ اللہ کا نظام ازل سے ابد تک ہے ۔ انسان کا ئنات کو اپنے تصرف میں لانا چاہتا ہے کوششیں جارہی ہیں ،پہاڑوں کو توڑ پھوڑ کر اپنے استعمال میں لارہے ہیں لیکن یہ ختم نہیں ہوئے ۔ سمندر سے جیتنے دریا نکالیں و ہ ختم نہیں ہوتے ، پہاڑوں پر گری برف پگھل کر بھی ختم نہیں ہوتی ، زمین کے خزانے ختم نہیں ہورہے ۔ اللہ کی بنائی ہوئی کوئی بھی چیز ختم نہیں ہورہی یہ کیا نظام ہے، ہر شے جوں کی توں ہے ، مالک کائنات کے خزانے ختم نہیں ہوسکے ، اس نظام کو داد یتے ہوئے سجدہ ہی ہوسکتا ہے ۔ وہ بھی ہ میں نصیب نہیں ہورہا ہے ، فرعون نمرود ،شداد اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئے ،ان کے قصے قیامت تک آنیوالے انسانوں کو ہدایت دینے کےلئے موجود ہیں ۔ سیارے اورستارے جمیل ، جسیم سب اپنے اپنے مدار میں چلتے جا رہے ہیں ، سورج اپنی روشنی فراہم کرنے کا کبھی بل نہیں بھیجتا ، بارش پانی کا بل طلب نہیں کرتی ۔ کائنات اپنے خوبصورت مناظر دکھانے کی فیس چارج نہیں کرتی ، ہر تخلیق اپنے ہونے میں یکتا ہے ، فرصت ایک منٹ کا تفکر بہت دور لے جاتا ہے ، کائنات تو انسان کو اپنی خوبصورت جھلکیاں دکھا کر دعوت فکر دے رہی ہے لیکن ہم روز چہروں کو دیکھتے ہیں کوئی چہرہ دوبارہ ویسا نہیں بنتا ، نہ آپ کسی کے برابر اور نہ کوئی آپ کے برابر، یہ سب جلوے ہیں ، اللہ انسان کو باغی ہونے تک ڈھیل دیتا ہے اور پھر ڈور کھینچ لیتا ہے ،پتہ بھی نہیں چلتا ،منظر بدلتے ہوئے دیر ہی نہیں لگتی ، غور کرنے کی ہ میں عادت ہی نہیں ۔ رات اور حق کی ذات جب تنہائی ہو تو زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے ۔ دن اور رات قربت کا اور ہی لطف عطا فرماتے ہیں ، مالک کائنات ہ میں معاف فرما ۔ ہم تیری نافرمانی ، بے شعوری میں کئے جارہے ہیں لیکن تو پھر بھی اپنے کرم کے انوار سے ہماری ہستی کو فروزاں کئے ہوئے ہے ، معاف فرما دے مالک یہ پیشانی تیرے سامنے سجدے میں ہے ۔