- الإعلانات -

اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش!

لگتا ایسا ہے کہ ملک عزیز میں فرقہ تفرقے کا کھیل شروع ہونے والا ہے اور اس حوالے سے لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا ایک خطرناک علامت ہے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی اور سیاسی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بھی فرقہ واریت اور مسلکی منافرت پھیلا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنے اور ہر حال میں ہم آہنگی، امن و بھائی چارہ، پیار و محبت اور مشترکہ تہذیبی اقدار کی حفاظت کے لیے عوام کو بیدار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ عوام کے سامنے میڈیا کے ذریعے جمہوریت کا ڈھنڈورہ بھی پیٹا جاتا ہے لیکن یہ جمہوریت کے نام پر سرمایہ داروں کا سٹیج ڈرامہ ہے جو عوام کو طفل تسلی کے طور پر کھیلا جاتا ہے ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو تو جمہوریت میں اولین چیز عوام کا باشعور ہونا ہے،ووٹر کو معاشی طور پر مضبوط ہونا چائیے اور ان کی سوچ آذاد ہونی چائیے جس قوم کو دیدہ دانستہ پسماندہ رکھ کر بھوکا اور خوف کا شکار رکھا جارہا ہو اس کے افراد کی کیا رائے ہوگی ۔ موجودہ ملکی سیاسی صورت حال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اورعام آدمی کے لیے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا ہے کہ ملک کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے;238; قومی سطح پر اگر دیکھا جائے تو صاف طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ موجودہ سیاست متضاد نظریات سامنے آرہے ہیں میڈیا پر ٖغوغا آرائی ہورہی ہے مختلف ٹاک شوز کے ذریعے تماشا لگا یا جاتا ہے لوگو ں کو الجھایا جارہاہے، مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے بس لفظی مقابلہ کیا جنگ ہوتی ہے ، زبان درازی کو خوب فروغ مل رہا ہے اور کبھی کبھی گالی گلوچ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے اور اوراس طرح میڈیا عوام کے ذہنوں میں خلفشار پیدا کر رہا ہے اور اس پر خوشی کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ میڈیا آزاد ہے ۔ فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کے جراثیم نے پورے ملک کو آلودہ کردیا ہے ۔ جس کے باعث ایماندار اور ذمہ دار شہریوں میں پایہ جانے والا اضطراب اور بے چینی فطری ہے ۔ سیاست کے اس خوفناک ماحول نے بہار کے حساس او ربا شعور لوگوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ملک عزیز کے اصل مسائل کچھ اور ہیں خاص کر کمزور معیشت، بے روزگاری اور مہنگائی نے ہر فرقہ اور مسلک کے لوگوں کو پریشان کیا ہے اور خالص مصنوعات کا تصور اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے، دودھ ، مشروبات، تیل، گھی، مصالہ جات، آٹے سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کل وقتی کاروبار بن چکا ہے اوراس کاروبار سے وابستہ افراد ناقص اشیاء کے استعمال کے نتیجے میں صارفین کی صحت کو لاحق شدید خطرات کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے ملک بھر بالخصوص بڑے شہروں میں کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد لاعلمی میں اپنے لیے بیماریاں خرید رہی ہیں ۔ کھانے کی اشیاء میں ملاوٹ کے علاوہ دیگر غیر معیاری مصنوعات بھی مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہیں محکمہ خوراک کے مطابق ملاوٹ شدہ مصالہ جات، مٹھائیاں ، شہد اور بیکری کی مصنوعات کی تیاری اور فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہیں ۔ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کے ادارے میں کرپشن کی وجہ سے موجود قوانین پر عمل نہیں کیا جارہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ متعلقہ حکام کی اس خطرے سے نمٹنے میں نہایت کم دلچسپی ہے ۔ ہ میں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنا پڑے گی ۔ ہم عملی طور پر اور اخلاقی طور پر بہت گرے ہوئے لوگ ہیں ۔ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، مسلمان بن کر دکھانا ہوگا ۔ اور اس کا تعلق عمل سے ہے، قول سے نہیں ، رسول ﷺنے بڑے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ’’رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔ دوسری جگہ آپﷺ نے فرمایا: ملاوٹ کرنیوالا ہم میں سے نہیں ‘‘ ۔ گویا ان دو باتوں کا تو فیصلہ ہو گیا کہ رشوت لینے والا، رشوت دینے والا اور ملاوٹ کرنیوالا، یہ تینوں کی مسلمانی سوالیہ نشان ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے اپنے فراءض پورا کریں اورملاوٹ کرنے والے دھشت گردوں کے خلاف بھی مءوثر اپریشن شروع کریں تا کہ ان جرائم کا قلع قمع ہو سکے اور اور عوام کو ان کے حقوق مل سکیں اور یہ فرقہ واریت کا کھیل اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے!!! ۔