- الإعلانات -

کٹر ہندو افسرمقبوضہ کشمیر میں تعینات

بھارت مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی طرز کی کارروائیاں کررہا ہے ۔ اسرائیلی حکومت کا مقبوضہ کشمیر میں بڑھ رہا اثر ورسوخ ملت اسلامیہ کشمیر کیلئے انتہائی تشویشناک ہے ۔ دونوں ممالک جنوبی ایشیا میں اپنے سامراجی وسیاسی عزائم ، جو ان کے مذاہب پر مبنی ہیں ، کی تکمیل چاہیے ہیں ۔ بھارتی فورسز کی طرف سے حریت پسندوں کے رہائشی مکانوں کو مسمار کرنے اورپھلوں کے باغات کو نقصان پہنچانے کا عمل بدترین سامراجیت ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں 1990ء سے ہی اسرائیل فورسز کی تربیت ، سراغرساں امور میں تعاون اور کشمیری حریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیلئے بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے ۔ اسرائیلی حکومت نے اپنے اس تعاون کو اب مزید مضبوط اور موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور بھارت اوراسرائیل کے ایک مشترکہ وفد کی مقبوضہ کشمیر آمد اور بعض لوگوں سے ملاقاتیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ کشمیری عوام یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ بھارتی حکمران اسی طرح کشمیر میں مسلمانوں کو بے بس اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جس طرح اسرائیل نے فلسطین میں کیا ہے ۔ بھارتی حکمران کشمیر یوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے اور اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے دستبردار کرنے کیلئے مکمل طور پراسرائیل کی رہنمائی میں کام کرنا چاہتے ہیں ۔ اب بھارت بھی چاہتاہے کہ کشمیر میں اسرائیل کی موجودگی کو تعلیم، طب، کلچر اور تجارت کی شکل میں مضبوط اور موثر بنایا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی ;34;شدید خلاف ورزی;34; میں ملوث بھارتی پولیس افسران کو اسرائیل میں خصوصی تربیت دی جارہی ہے ۔ 120 افسران نے دو ہفتوں کا کورس مکمل کرلیا ہے ۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ میں 40 اسرائیلی شہریوں نے ایک درخواست دائر کرکے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی پولیس کو کشمیر میں انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی شدید خلاف ورزی میں ملوث بھارتی پولیس افسران کی تربیت سے روک دیا جائے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اخلاقی یا قانونی طور پر بھارتی سکیورٹی فورسز کے ذریعہ کشمیر میں ہونے والی اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی ہیں ۔ اس کے جواب میں اسرائیلی حکومت نے کہاہے کہ عدالت درخواست مسترد کر دے کیوں کہ بھارتی پولیس افسران کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی ۔ بھارت کی فسطائی حکومت نے غیر کشمیریوں کو جموں وکشمیر کے ڈومیسائل کے اجرا کا عمل مزیدتیز کرنے کیلئے نام نہاد جموں وکشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ (پرسیجر ) رول 2020کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں 14لاکھ غیر ریاستی افراد کو ڈومیسائل جاری کر دیئے گئے ہیں ۔ بھارت اور اسرائیل جموں و کشمیر اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اپنا اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کے لئے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کا خون بہانے میں کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں اور انتہا پسند ہنود و یہود کے اس ظالمانہ کھیل میں انہیں امریکہ کی اشیرباد بھی حاصل ہے ۔ غزہ میں جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے پرامن مارچ پر آتش و آہن کی بارش کر کے بیسیوں افراد کو شہید اور 2 ہزار سے زائد کو خون میں نہلا دیا تو اس سے شہہ پا کربھارتی فو ج نے مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشن کے نام پر ضلع شوپیاں اور اسلام آباد میں حملے کر کے کشمیری نوجوانوں کو شہید اور لہولہان کر دیا جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے ۔ فلسطینیوں کے خلاف بربریت پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مذمتی قرارداد پیش کرنا چاہی تو امریکہ نے اسے ویٹو کر دیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں کو خاک و خون میں تڑپانے پر قوموں کے حق خودارادیت اور انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ نے اس کا نوٹس لیا،نہ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کو وہ قراردادیں یاد آئیں جن کے تحت انہوں نے خود بھارت کو کشمیریوں کا حق خودارادی تسلیم کرنے کا پابند کیاتھا ۔ بی جے پی بظاہر قوم پرست جماعت ہے‘ مگر اس کے بیشتر رہنما انتہا پسند ہندو تنظیم’’ آر ایس ایس‘‘ (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس تنظیم کے بانی مثلاً دمودر ساورکر‘ ڈاکٹر مونجے‘ ڈاکٹر کیشوہیڈ گوار‘ ایم ایس گوالکر وغیرہ ان یہودی رہنماؤں کے خیالات و نظریات سے متاثر تھے جنہوں نے صہیونیت کی بنیاد رکھی ۔ جس طرح صہیونیت کے بانیوں نے یہ وکالت کی کہ فلسطین صرف یہود کا ہے‘ چنانچہ عربوں کو وہاں سے نکل جانا چاہیے ۔ اسی طرح آر ایس ایس کے رہنماؤں کی بھی خواہش چلی آ رہی ہے کہ مسلمان بھارت سے نکل جائیں یا ’’ہندوسپرمیسی‘‘ قبول کر لیں ۔ یہی نظریاتی مطابقت اسرائیلی اور بی جے پی حکومتوں کو قریب لے آئی ۔ کارگل جنگ(1999ء ) میں بھارتی توپوں کو گولے فراہم کرنے سے اسرائیلیوں نے بھارتی عوام خصوصاً فوج کے دل جیت لیے ۔ لہٰذا 2000ء میں بھارتی وزیر خارجہ ،جسونت سنگھ نے اسرائیل کا دورہ کیا ۔ یہ کسی ہائی پروفائل بھارتی لیڈر کا پہلا دورہ ِاسرائیل تھا ۔ تین سال بعد 2003 میں ہزار ہا فلسطینیوں کے قاتل‘ اسرائیلی وزیراعظم اریل شیرون نے بھارت کا دورہ کیا ۔ اس طرح عالم اسلام میں واحد ایٹمی قوت، پاکستان کی مخالفت نے نظریاتی طور پہ قربت رکھنے والے دونوں ملکوں کو مزید قریب کر دیا ۔ چنانچہ 2001 میں دونوں ممالک کی باہمی تجارت صرف ایک ارب ڈالر تھی‘ تو وہ 2012ء میں بڑھ کر ساڑھے چار ارب ڈالر تک جا پہنچی ۔ اب بھارتی وزیراعظم،نریندر مودی باہمی تجارت کی مالیت ’’دس ارب ڈالر‘‘ تک لے جانا چاہتے ہیں ۔