- الإعلانات -

وزیراعظم کی اصلاحات،خوش آئند

حکومتی اقدامات کی وجہ سے حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں ملک میں گندم کی موجودگی کے سلسلے میں بھی وزیراعظم نے اطمینان کا اظہارکیاہے دیگراصلاحات کے سلسلے میں ڈیجیٹل روشن پاکستان ایک نہایت احسن اقدام ہے جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان میں سرمایہ کاری آسانی سے کرسکیں گے ۔ وزیراعظم پاکستان نے اس بات پرزوربھی دیاہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں پاکستان میں رہنے والے لوگوں سے زیادہ وفادار بیرون ملک لوگ بیٹھے ہیں یہ بات وزیراعظم پاکستان نے کہی ۔ بات درست ہے کیونکہ دراصل جو لوگ بیرونی دنیا میں بس رہے ہیں وہ پاکستان کاچہرہ ہیں زرمبادلہ کاسبب بنتے ہیں سرمایہ کاری کرتے ہیں اب حکومت کوشاں ہے کہ وہ یہا ں پرصنعتیں وغیرہ بھی لگائیں ۔ صرف اس کے لئے تحفظ دینالازمی ہے ۔ گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے روشن ڈیجیٹل اکاءونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں تاہم ہمارے ملک میں انہیں اور دہری شہریت والوں کو غدار سمجھا جاتا ہے ان کے ساتھ عجیب رویہ روا رکھا جاتا ہے ان کو عہدہ دینے اور وزیر بنانے پر اعتراض کیاجاتاہے ہر دوسرے دن لوگ ان کے عدالتوں میں چلے جاتے ہیں ۔ یہاں لوگ اوورسیز پاکستانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دہری شہریت والے غدارنہیں جتنے محب وطن پاکستانی باہر بیٹھے ہوئے ہیں شاید ہمارے ملک میں نہیں ہیں 90 لاکھ پاکستانی باہر گئے کیوں کہ ہم ان کو نوکریاں نہیں دے سکے ان کے پیسے سے ملک چلتاہے ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں تعمیرات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں سندھ اور لاہور میں دو بڑے شہر بنائے جارہے ہیں ۔ راوی فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور بنڈل آئی لینڈ منصوبے معیشت کے فروغ کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے بھاشاڈیم مہمندڈیم اور ایم ایل ون منصوبے سے سرمایہ کاری بڑھے گی گندم کی دستیابی اور قیمتیں مناسب بناناحکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ گندم کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے حکومت بھی ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرے گی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو روشن ڈیجیٹل اکاءونٹ سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں آسانی ہو گی، بڑے منصوبوں میں اوورسیز پاکستانیوں کی شمولیت یقینی بنائیں گے ۔ تعمیرات کے شعبہ کے فروغ سے دیگر صنعتوں کو فروغ ملے گا، ملک میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے ملکی معیشت مستحکم ہو گی، کاروبار میں آسانی کے ساتھ سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستانی مہمند اور بھاشا ڈیموں ، ایم ایل ون سمیت دیگر بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر شک کرنا درست نہیں ، یہ ملک میں ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے باعث بیرون ملک کام کررہے ہیں ان پاکستانیوں کو دوسرے ممالک میں اسلامو فوبیا جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کو اپنے ملک میں مکمل آزادی حاصل ہے ۔ دریں اثناوزیرِاعظم نے ملک میں گندم کی دستیابی کی موجودہ تسلی بخش صورتحال اور صوبہ پنجاب کی جانب سے باقاعدگی سے گندم کی ریلیز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے بروقت پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جائے ۔ گندم کی وافر دستیابی کے ساتھ ساتھ مناسب قیمتوں کو یقینی بنانا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کو بنیادی خوراک کے ضمن میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گندم کی وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے نجی شعبہ کے ساتھ ساتھ ٹی سی پی کی جانب سے بھی گندم درآمد کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں عمران خان نے ریور راوی فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور بنڈل آئی لینڈ منصوبوں میں سرمایہ کاروں ، بلڈرز اور کنسٹرکٹرز کی جانب سے گہری دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دو میگا پراجیکٹس سے اربوں کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی اور معیشت کے متعدد شعبوں کو فروغ حاصل ہو گا ۔

بھارتی چیرہ دستیاں ، امن کے لئے خطرہ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی جنرل بپن راوت کا غیر ضروری بیان قابلِ مذمت ہے اورآر ایس ایس کے انتہا پسند ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتاہے ۔ بیان بازی سے بھارت کو ذلت کے سوا کچھ نہیں ملے گا،بھارت چین تنازع کو معاہدوں کے مطابق حل کیا جائے، گستاخانہ خاکوں کا معاملہ فرانس حکومت کے ساتھ اٹھایا ، پاکستان مخالف بیانات کی بجائے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیئے ۔ ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بھارتی جنرل بپن راوت کا بیان مسترد کرتاہے ، پاکستان نے کئی بار بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کودنیاکے سامنے بے نقاب کیا ۔ جنرل راوت بےجا الزامات لگانے کے بجائے اپنی پیشہ وارانہ ذمے داریوں پرتوجہ دیں ۔ بھارت کو اس طرح کی بیان بازی سے تنازعات میں شدت اورذلت کے سواکچھ نہیں ملے گا ۔ بھارت پاکستان مخالف جذبات کو ابھارنے کی بجائے حل طلب تنازعات خصوصا کشمیر کے تنازعہ کے حل پرتوجہ دے ۔ پاکستان اور چین صدا بہار اسٹریٹجک کوآپریٹوپارٹنر ہیں ۔ پاکستان کو چینی سرحد پر بھارتی اقدامات پر تشویش ہے،بھارتی اقدامات تمام پڑوسیوں کےلئے خطرہ ہیں ۔ دراصل بھارت کی جانب سے صرف اورصرف مسئلہ کشمیرکودبانے کےلئے ایسے بیانات دیئے جاتے ہیں ۔ کشمیری مسلمانوں کو حق خودارادیت کا موقع فراہم کیا جائے ۔ ان کی ایک ;200;واز ہے کہ انہیں ;200;زادی چاہیے، وہ جبر تشدد اور غاصبانہ حکمرانی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ان کی نسلیں ;200;زادی کی نعمت کو حاصل کرنے کیلئے قربان ہو رہی ہیں ۔ جہاں ظلم ہو وہاں امن قائم نہیں رہ سکتا، مودی تاریخ میں بیسویں صدی کا ہٹلر بن کر یاد رکھا جائیگا، تاریخ اس کے سیاہ کارناموں سے بھری پڑی ہو گی، اس کی چتا کو جلایا جائے گا یہ یہاں بھی ذلیل، خوار ہو گا اور ;200;خرت میں بھی جہنم رسید ہو گا ۔ ان شاء اللہ کشمیری مسلمان غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالیں گے ان کی جدوجہد رنگ لائیگی، ہماری اخلاقی اور سفارتی تعاون ان مظلوموں کے ساتھ ہمیشہ رہےگا ۔

حواکی بیٹی کی پکار۔۔۔ہے کوئی محمدبن قاسم;238;

آج پاکستان میں جگہ جگہ سے حوا کی بیٹیوں کی پکا ر آرہی ہے مگر ان کی آوازسننے والاکوئی نہیں زینب نامی بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی پھرزینب بل آیا مگرحاصل وصول کچھ بھی نہیں ہوا مگراسی وقت سخت تادیبی کارروائی کرلی جاتی تو آج ایسے واقعات پیش نہ آتے المیہ یہ ہے کہ موٹروے پرایک خاتون کے ساتھ اس کے بچوں کے سامنے آبروریزی کی جاتی ہے اورپولیس اس مخمصے میں رہتی ہے کہ وہ ہمارا ایریانہیں یہ ہمارا ایریانہیں پھراس وقت سی سی پی او لاہورعمر شیخ نے جلتی پرپٹرول کاکام کیاجب اس نے کہاکہ تنہاعورت بچوں کے ساتھ باہرکیوں نکلی ،موٹروے سے کیوں گئی ،جی ٹی رو ڈ پرچلی جاتی ۔ یہ بات تو موٹروے کی ہے ایسا ہی واقعہ مورگاہ میں ایک معصوم بچی کے ساتھ پیش آیاپھروفاقی دارالحکومت میں بھی ایک خاتون سائیکلسٹ نے الزام عائد کیاکہ اسے بھی ہراساں کیاگیا ۔ اب سی سی پی او لاہورکے بیان کو دیکھیں تو کیاموٹروے مقبوضہ کشمیر میں واقع ہے وہاں پر کوئی عورت تنہاسفرنہیں کرسکتی ۔ پولیس کافرض عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن انہوں نے تو متاثرہ خاتون کو ہی موردالزام ٹھہرادیا ۔ ایک وہ دورتھا جب محمدبن قاسم ایک حواکی بیٹی کی پکارپراس خطے میں آیا اورپھریہا ں کی کایہ ہی پلٹ گئی اورآج ہردوسرے روز ایسے واقعات پیش آرہے ہیں ملک غیرمحفوظ ہوتاہوانظرآرہاہے ہرطرف جنگل کاقانون ہے کوئی خوفزدہ نہیں ہے جب قانون کے رکھوالے ہی اس طرح کے بیانات دینے لگے تو عوام کدھرجائے گی ۔ وزیراعظم پاکستان کو چاہیے کہ ایسے سی سی پی او کی نہ صرف تمام ملازمت ضبط کرے بلکہ اسے قطعی طورپرملازمت سے برخاست کرکے سخت ترین سزابھی تجویز کی جائے کہ آئندہ کوئی بھی ایسا بیہودہ بیان دینے سے بعض رہے ۔ کمال حیرانگی یہ ہے کہ وفاقی وزراء بھی اس کے بچاءو میں میدان میں آگئے انہی وجوہات کی وجہ سے آج عوام نئے پاکستان سے مایوس نظرآرہی ہے اقدامات اورعمل کی ضرورت ہے ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے یہی عوام کامطالبہ ہے ۔