- الإعلانات -

پانچویں چیف فارغ

پنجاب پولیس کا پانچواں جرنیل فارع ،پولیس کی باگ ڈور کسی دیانت دار اور جہان دیدہ و دلبر افسر کے ہاتھ ہو تو جرائم کم ،مجرم کٹہرے اور عوام محفوظ ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان میں عموماً پولیس حکمران کی فورس بن کر کام کرتی رہی ہے ۔ ادھر پولیس حکمران فورس بن کر کام کرتی ہے تو دوسری طرف پولیس حکمرانوں سے اپنے غلط کاموں پر تحفظ مانگتی ہے جو عموماً حکمران پولیس کو فراہم کرتے ہیں ۔ ہاں جہاں عدالت میں معاملہ چلا جائے تو وہاں پولیس کی مٹی پلید ہو جاتی ہے ۔ اس ;200;نکھ مچولی میں پولیس کی ساکھ خراب اور عوام کے حقوق پامال ہوتے رہتے ہیں ۔ پنجاب پولیس کے کسی افسر کی تعیناتی تبادلہ حکومت پنجاب کا استحقاق ہے ۔ ایم پی اے ہو کہ ایم این اے، وزیر اعلیٰ ہو کہ وزیراعظم اپنے من پسند افسران کو اپنے اپنے حلقوں اضلاع و صوبوں میں ٹرانسفر کرا کے حقدار ہیں ۔ مقابلے میں ہر افسر دیانتداری سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ممبر اسمبلی وزیراعلیٰ کی افسر سے غیر قانونی فعل کرانے کی نہ جراَت کر سکتا ہے اور نہ اختیار رکھتا ہے ۔ جو پولیس افسر اپنے فراءض کو پوری ذمہ داری سے پورا نہ کریں انصاف نہ کرے مجرموں کو نہ پکڑے جرائم کے خاتمہ کےلئے کوشاں نہ ہو رشوت لے نا انصافی کرے کرپشن کرے ،اس کے تبادلہ توکجا اس کو ملازمت سے نکالنے کا فرض حکام پر عائد ہوتا ہے ۔ حکومت پنجاب نے پنجاب میں انعام غنی کو پنجاب پولیس کا چیف مقرر کرتے ہوئے شعیب دستگیر کو ;200;ئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا ہے ۔ قبل ازیں جاوید سلیمی کلیم امام عارف نواز محمد طاہر وغیرہ کو پنجاب کی جرنیلی سونپی گئی ۔ معلوم نہیں کہ وہ تمام نا اہل تھے یا قانون کے پابند تھے ۔ اندرونی کہانی کا علم حکمرانوں کو ہوگا یا سبکدوش ہونےوالے افسران کو ہوگا ۔ بار بار پنجاب پولیس کے سربراہ کو بدلنا پنجاب کے حکمرانوں کو مہنگا پڑے گا ۔ پنجاب کے جتنے بھی انسپکٹر جرنل تبدیل ہوتے ہیں پولیس کا کردار نہیں بدلا ۔ حکومت پنجاب ;200;ئی جی بدلنے کی بجائے پولیس کے معیار کردار اور اختیار کو بدلنا ہوگا ۔ پولیس افسران جتنی بھی نا انصافی کرتی پھرے پولیس افسران کےلئے کوئی سزا نہ ہے ۔ جب تک پولیس کے متاثرین کےلئے انصاف کا فوری بندوبست نہیں ہوتا اور غلط کاری کے ذمہ دار پولیس کے خلاف فوری ایکشن نہیں ہوتا ۔ نہ پولیس کا وقار قائم ہوسکتا ہے اور نہ عوام کو سکھ مجھے میسر;200; سکتا ہے ۔ پولیس کے پانچویں جرنیل کی تبدیلی پر اپوزیشن بھی شور مچا کر پولیس کو بد نام کرنے میں لگی ہوتی ہے ۔ موجودہ حالات میں پولیس پر حکومت پنجاب کے ;200;لہ کار کا الزام لگانا مناسب نہ ہو گا ۔ پولیس چیف اس طرح کی گھٹیا ذہنیت کا مالک ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ حکومت کے اشارے پر مخالفین کو تنگ کرے ہاں تھانہ سطح اور ایس پی لیول کے افسر حکومتی ممبران اسمبلی اور وزراء کے اشارے پر کوئی نہ کوئی نا انصافی کر دیتے ہیں اور پھر پولیس افسران من پسند انصاف کر کے اپنی جیبیں بھرتے ہیں ۔ جب تک پولیس میں اصلاحات نہیں کی جاتی جب تک پولیس کو سیشن جج کا جواب دے نہیں بنایا جاتا پولیس کا ٹھیک ہونا ممکن ہے ۔ جب پولیس ٹھیک ہوجائے گی معاشرے کے نصف جرائم خود بخود اور مجرم توبہ کر لیں گے ۔ پنجاب حکومت نے انعام غنی کو پولیس چیف مقرر کیا ہے دیکھتے ہیں موصوف عوام اور حکومت میں کس قدر مقبول ہوتے ہیں ۔ کیا وہ پولیس کو عوام درست بنانے جرائم کے خلاف لڑنے والی فوج بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ یا اپنا ڈنگ ٹپانے کی کوشش کرتے ہیں یہ وقت بتائے گا چار سابقہ پولیس سربراہان کی تبدیلی کیوں ہوئی;238; اس کا جواب پنجاب حکومت کے سربراہ عثمان بزدار دے سکتے ہیں ۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ سابقہ پولیس سربراہ نالائق ناکام اورنا تجزبہ کار تھے تو موجودہ ;200;ئی جی پنجاب پولیس انعام غنی کیا رنگ دکھائیں گے اور ادھر پانچویں پولیس چیف کے تبادلہ پر مسلم لیگ ن کے ترجمان احسن اقبال فرماتے ہیں کہ شعیب دستگیر نون لیگ والوں کے خلاف جھوٹی کارروائیاں نہ کرنے پر تبدیل کیا گیا ہے ۔ بقول دوستاں احسن اقبال نے تھپڑ ٹھیک نشانے پر مارا ہے ۔ شعیب دستگیر نے حکومتی احکامات کی حکم عدولی کی ہے تو ہمت جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے حصے میں بدنامی تو ضرور ;200;ئے گی کیونکہ روز پولیس چیف کی تبدیلی احسن فیصلے نہ ہے ۔ ادھر چیف جسٹس پنجاب ہائی کورٹ قاسم خان نے فیسکو چیف انجینئر عمر لودھی کے تبادلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے، الزام کے مطابق ایک ایم پی اے کی بات نہ ماننے پر ان افسران کے تبادلے ہوئے ہیں ۔ چیف انجینئر فیسکو کو چاہیے تھا کہ وہ اس ایم پی اے کا نام بھی لکھنا چاہیے تھا اور جس کا کام بھی واضح کرنا چاہیے تھاکہ وہ کیا کام کرانا چاہتا تھا ۔ اس کا کام قانونی تھا کہ غیر قانونی;238; یوں صرف الزام لگا کر عدالت چلا جانا اعلیٰ عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے برابر ہوگاعدالت اس کی گہرائی میں جا کر فیصلہ کرے اگر سرکاری اہلکاروں کا الزام جھوٹا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور اگر دیانتداری محنتی افسران کا تبادلہ بلا جواز کیا گیا ہے تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو ۔ میرے دیس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کافارمولا چل رہا ہے ۔ میرے دیس کا ہر افسر ملک و ملت کی تمام دولت لوٹ کر اپنے خزانے بھرنے کے چکر میں ہے اس دیس کا ہر ادارہ تباہ ہو چکا ۔ عدالت پیسکو کے چیف کے تبادلے پر نوٹس لے کرملک کے بگڑے اداروں کی اصلاح کی ذمہ داری لے ورنہ ہماراحال خانہ جنگی کے حالات کی رہنمائی کر رہا ہے ۔