- الإعلانات -

ڈھونڈ چکا میں موج موج،دیکھ چکا صدف صدف

قوم نے 11 ستمبر کو بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا 72واں یوم وفات قومی اور ملی اتحاد و یگانگت کے جذبے کے ساتھ عقیدت و احترام سے منا یا ۔ اس موقع پر سرکاری اور نجی سطح پر کرونا کے حوالے سے سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے اور دوسرے احتیاطی اقدامات کے ساتھ مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے یوم قائداعظم کے حوالے سے خصوصی ایڈیشنز اور پروگرامز کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے دن کا آغاز کراچی میں مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی سے ہوا ۔ اس موقع پر پاک فوج کا ایک چاق و چوبند دستہ سلامی پیش کی ۔ قائداعظم کی روح کو ایصال ثواب کیلئے بھی خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ اس موقع پر ملک کی بقاء و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی بھی دعائیں مانگی گیں ۔ تمام قومی اخبارات نے قائداعظم کی رحلت کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ قیام پاکستان کے صرف ایک سال ایک ماہ بعد بانی پاکستان کی وفات ایک ایسا قومی المیہ ہے جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں ‘ کیونکہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے قائداعظم کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی اور مہاجرین کے سیلاب‘ بھارت کی اثاثوں کی تقسیم میں ریشہ دوانیوں اور باءونڈری کمیشن کے غیرمنصفانہ فیصلوں پر نتیجہ خیز بات نہ ہو پائی جن کے نتیجے میں کشمیر کے تنازعہ نے جنم لیا اور گورداسپور سمیت پنجاب کے متعدد علاقے پاکستان کا حصہ نہ بن سکے ۔ اسی طرح ملکی آئین کی تدوین اور ملک کی مختلف اکائیوں کے مابین بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کے حصول میں جو تاخیر ہوئی‘ وہ قائد کی وفات کی وجہ سے مزید الجھ گئے ۔ قائداعظم;231; کی زندگی میں نہ تو اسٹیبلشمنٹ کو جمہوری اداروں اور سیاسی نظام میں دخل اندازی کا موقع ملتا اور نہ ملک کے مختلف سیاسی و مذہبی طبقات اور جغرافیائی اکائیوں میں اختلاف کی خلیج گہری ہوتی‘ کیونکہ قوم کے بھرپور اعتماد‘ احترام اور عقیدت کے علاہ خداداد بصیرت کی وجہ سے قائد;231; نہ صرف اتحاد و یکجہتی کی علامت تھے بلکہ لاینحل مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالامال تھے اور یہ صلاحیتیں قوم کی کشتی کو مسائل کے طوفان سے نکالنے میں صرف ہوئیں ۔ صرف ایک سال کے مختصر عرصہ میں قائداعظم;231; رحلت فرما گئے اور ساڑھے تین چار سال بعد انکے جانشین لیاقت علی خان بھی شہید ہو گئے ۔ قائداعظم;231; کے انتقال کے بعد مسلم لیگ بھی ملک کی بانی جماعت کے طور پر اپنا مضبوط اور موثر کردار ادا کرنے کے بجائے حصوں بخروں میں بٹتی چلی گئی اور اس کا فائدہ ان سیاسی ومذہبی قوتوں نے اٹھایا جن میں سے بعض یا تو قیام پاکستان کی مخالف تھیں یانظریہ پاکستان سے اتفاق نہیں کرتی تھیں ۔ مسلم لیگ کی تقسیم‘ قائداعظم;231; کے ساتھیوں کی باہمی سرپھٹول‘ آئین کی تدوین میں بے جا تاخیر اور ملک کے مختلف حصوں میں جنم لینے والے نسلی‘ لسانی‘ علاقائی اور فرقہ ورانہ اختلافات کی وجہ سے جمہوری نظام کمزور ہوا اور سول و خاکی بیوروکریسی نے پرپرزے نکالنے شروع کئے ۔ ۔ 2008ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پر قوم نے اعتماد کیا‘ وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکی تو 2013ء میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں زمام اقتدار تھما دی مگر بدقسمتی سے پاکستان اس منتخب جمہوری دور میں بھی شدید بحرانوں اور مسائل کی آماجگاہ بنا رہا ۔ حکمران اقبال و قائد کے وارث ہونے کے ضروردعویدار تھے لیکن ملک و قوم کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کی ان میں وہ کمٹمنٹ مفقود ہی رہی جس کے حالات متقاضی ہیں ۔ قائد کی جانشینی کے دعوے دار مسلم لیگی حکمران بھی عوام کی توقعات اور قومی سلامتی کے تقاضوں پر پورا نہ اتر سکے تو قوم نے ۵۲ جولائی 2018ء کو اقتدار کا تاج پی ٹی آئی اور اسکے قائد عمران خان کے سر سجا دیا جنہوں نے اس ارض وطن کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کا اعلان و عہد کرکے درحقیقت بانیانِ پاکستان قائد و اقبال کے وضع کردہ قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کا بیڑہ اٹھایا ۔ یہ حقیقت ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری‘ فلاحی اور جدید ریاست بنانا چاہتے تھے جس کیلئے قوم نے آج وزیراعظم عمران خان سے توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں جو اس مملکت کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کا عزم کرکے درحقیقت اسلامی جمہوری فلاحی مملکت سے متعلق قائد و اقبال کے خواب ہی شرمندہ;63; تعبیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ کرپشن فری سوساءٹی کیلئے ان کا تجسس و تردد بھی قائد کے پاکستان کے احیاء کیلئے ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اکھنڈ بھارت کی داعی ہندو بنیاء لیڈر شپ نے ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے پاکستان کا وجود شروع دن سے ہی قبول نہیں کیا اور نہرو اس زعم میں تھے کہ پاکستان چھ ماہ بھی اپنے پاءوں پر کھڑا نہیں رہ سکے گا اور واپس بھارت کی گود میں آگرے گا‘ اس مقصد کے تحت ہی برطانوی وائسرائے ہند لارڈ ماءونٹ بیٹن کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے قطعی بے وسیلہ اور اقتصادی طور پر کمزور پاکستان قائداعظم کے حوالے کیا گیا جبکہ قائداعظم نے اپنی کمٹمنٹ کے تحت اسی کمزور معیشت والے پاکستان کو اپنے پاءوں پر کھڑا کرکے دکھایا ۔ اگر قائداعظم حیات رہتے تو اسکی سلامتی کیخلاف بھارت کی کوئی سازش پنپ نہ پاتی مگر انکے انتقال کے بعد ہندو بنیاء لیڈر شپ کو پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنی گھناءونی سازشیں پروان چڑھانے کا بھی نادر موقع مل گیا ۔ یہ سازشیں آج جنونی مودی سرکار کے دور میں انتہاء کو پہنچ چکی ہیں جس نے قائداعظم کی قرار دی گئی شہ رگ پاکستان کشمیر پر اپنا مستقل تسلط جما کر گزشتہ 406 روز سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے اور پاکستان ہی نہیں پورے علاقے کی سلامتی خطرے میں ڈال رکھی ہے ۔ بھارت کی کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ گزشتہ دو سال سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے اور گزشتہ روز بیدوری سیکٹر میں بھارتی فائرنگ سے پاک فوج کا ایک حوالدار شہید ہوا ہے جبکہ پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرکے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور گزشتہ روز ایک اور بھارتی جاسوس ڈرون بھی گرایا ہے جو رواں سال پاک فوج کا شکار ہونیوالا گیارہواں ڈرون تھا ۔ پاکستان کی سلامتی کیخلاف یہ بھارتی عزائم بھانپ کر ہی عساکر پاکستان اپنے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرکمان ہر محاذ پر مستعدد و چوکس ہیں اور گزشتہ روز کورکمانڈرز کانفرنس میں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے جنگی جنونی اقدامات کے تناظر میں جنگی تیاریاں بڑھانے کا عندیہ دیا گیا ہے کیونکہ آج بھارت کی مودی سرکار کے ہاتھوں پاکستان کی سالمیت کو پہلے سے بھی زیادہ خطرات لاحق ہیں اور بھارتی وزیراعظم اپنی پارٹی بی جے پی کے پاکستان دشمنی پر مبنی ایجنڈا کی تکمیل کیلئے پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے پر تلے بیٹھے نظر آتے ہیں ۔ بھارت پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا تھا ۔ پھر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا اور اور گزشتہ سال۵ اگست کو مودی سرکار نے مقبوضہ وادی میں آئینی شب خون مار کر جموں اور لداخ کو الگ الگ حیثیت میں بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا ۔ اسی کی آڑ میں اب مودی نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی اپنا حق جتانا شروع کر دیا ہے ۔ پاکستان کا مشرقی بارڈر ہمیشہ بھارت کی جارحیت کے نشانے پر رہا ہے جبکہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سے ملک کی سلامتی مزید خطرات میں گھری نظر آرہی ہے ۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم چین اور روس کے ساتھ اپنے تعاون بالخصوص دفاعی تعاون کو مضبوط بنائیں اور انکے ساتھ تعلقات میں کوئی دراڑ پیدا نہ ہونے دیں ۔ اس حوالے سے چین کے ساتھ سی پیک کے منصوبے کی تکمیل میں ہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دینی چاہیے ۔ ہم قائد کے پاکستان کے دفاع کو یقینی اور مضبوط بنا کر ہی قائد کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں ۔ اس کیلئے ہ میں دہشت گردی اور کرپشن سے پاک پاکستان کی بھی ضمانت فراہم کرنا ہو گی جبکہ روٹی روزگار کے آزار میں پھنسے عوام کو خوشحال بنانے کیلئے وطن عزیز کو اقتصادی اور جمہوری طور پر مستحکم کر کے ہی ہم قائداعظم کی آدرشوں اور امنگوں کے مطابق قیام پاکستان کے مقاصد کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں ۔ قدم اٹھے تو،نگہبانی وطن کےلیے;223;لہو بہے تو، گل افشانی چمن کےلئے ;223; بانی پاکستان کی سچائی، ایمانداری،عزم و استقلال، محنت و مشقت، خودداری،ایفائے عہد،اصول پسندی، پابندی وقت، قوم پرستی،دین اسلام سے لگاؤ،موقع شناسی،قوت فیصلہ،حاضر جوابی اور کردار کی بلندی،جیسے اوصاف حمیدہ کو اپنانا ہوگا جن کی گواہی میں اپنے اور بیگانے رطب اللسان ہیں لیکن افسوس کہ ہم نے قائد کی زندگی کے رہنما اصولوں کو فراموش کر دیا تیرے محیط میں کہیں ،گوہر زندگی نہیں ;223;ڈھونڈ چکا میں موج موج،دیکھ چکا صدف صدف