- الإعلانات -

ہندوستان میں ہندو بھی محفوظ نہیں

بھارت میں مسلمان اور دیگر اقلیتی قو میں تو کیا خود ہندو بھی محفوظ نہیں ۔ خاص طورپر نچلی ذات کے ہندو ، شودر ، دلت کو تو ہندو مانا ہی نہیں جاتا ۔ سینکڑوں دلت ہندو مذہب تبدیل کر چکے ہیں ۔ انہیں اسلام اور مسیحت میں ہندو مذہب کے مقابلے میں زیادہ سکھ نظر آیا ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے امیج اور ساکھ سے بھارت بہت پریشان ہے ۔ اس کا مقصد کسی نہ کسی طرح پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے ۔ لہذا بھارت نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا نیا کھیل شروع کردیا ہے کہ سادہ لوح ہندوءوں کو سہانے بھارتی شہریت کے خواب دکھا کر ہندوستان بلایا جاتا ہے جہاں انہیں ایسے کیمپوں میں رکھا جاتا ہے جہاں بنیادی سہولتیں میسر نہیں ۔ حالیہ دنوں میں بھارت جانےوالے ایسے 11 سے زائد ہندوکے بارے میں خبر ہے کہ وہ خودکشی کرچکے ہیں جبکہ حقائق کے مطابق انہیں بھارتی سرکار کے انتہا پسند ہندووَں نے مارا ہے ۔ بھارت میں شہریت اختیار کرنے کے لئے جانے والے درجنوں ہندو خاندان ٹھوکریں کھاتے ہوئے واپس پاکستان آرہے ہیں ۔ ان متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر لحاظ سے محفوظ ملک ہے ۔ یہاں انہیں ہر قسم کی مذہبی آزادی اور تمام بنیادی سہولتیں میسر ہیں ۔ ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہ میں پاکستان میں باعزت زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ تمام سہولتیں میسر ہیں جبکہ بھارت صرف برہمن ذات کے ہندوءوں کےلئے بنا ہے، نچلی ذات والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ 14 افراد پر مشتمل ہند و خاندان بھارت سے واہگہ کے راستے پاکستان پہنچا جہاں سے انہیں سندھ میں ان کے آبائی علاقے گھوٹکی روانہ کردیا گیا ۔ خاندان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے انہیں سبز باغ دکھائے ۔ خوشحال زندگی کی خواہش پر انہوں نے بھارت ہجرت کی لیکن وہاں پہنچے تو بھارتی حکومت کے تمام وعدے جھوٹے نکلے ۔ بھارت میں انہیں جھونپڑیوں میں رہنا پڑا ۔ کسمپرسی کی زندگی چھوڑ کر واپس اپنے وطن آگئے ہیں ۔ اس خاندان کا کہنا ہے کہ بھارت جانےوالے کئی اورخاندان بھی پاکستان واپس آرہے ہیں ۔ بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور میں 11 پاکستانی ہندووَں کے قتل کا مقدمہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شہداد پور میں مقتول خاندان کی لڑکی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ۔ شہداد پور تھانے میں مقدمہ بھارت میں قتل ہونے والے کنبے کے سربراہ کی بیٹی شریمتی مکھنی بھیل نے درج کرایا ۔ ایف آئی آر میں موَقف اختیارکیا گیا ہے کہ ان کے پورے خاندان کو راجستھان کے گاؤں لونا میں اگست 2020 میں قتل کیا گیا جس میں ان کے ماں ، باپ، بہن، بھائی اور خاندان کے دیگر لوگ شامل ہیں ۔ آر ایس ایس کے دہشت گرد اور بی جے پی کے غنڈے رات تین بجے گھر میں داخل ہوئے جہاں 80 سالہ والد، 75 سالہ والدہ سمیت پورے خاندان کو زہریلے انجکشن لگا کر قتل کیا ۔ مکھنی بھیل نے مطالبہ کیاکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے اور آر ایس ایس اور بی جے پی کو دہشت گرد تنظی میں قرار دیا جائے ۔ اس حوالے سے شری متی مکھی کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے ان کے خاندان کو پاکستان مخالف ایجنٹ بننے کا کہا لیکن انکار پر انہیں قتل کردیا گیا ۔ گھوٹکی سندھ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فقیرنی کاکہنا تھا یہ لوگ وہاں جھونپڑیوں میں رہتے تھے ۔ ان کے مرد اور بچے محنت مزدوری کرتے ۔ انہیں دوسے تین سے روپے اجرت ملتی جس سے ان کے گھرکا چولہا جلتا تھا ۔ اگر بیمار ہوجائیں تودوائی نہیں ملتی تھی ۔ بہت مشکل سے گزاراہورہا تھا ۔ ہم نے کہا کہ ہ میں واپس پاکستان جانا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی میں کئی ہندوخاندان انتہائی اذیت ناک زندگی گزاررہے ہیں اور ان سے کئی واپس آنا چاہتے ہیں ۔ ایک اور ہندو لڑکی سپنا کا کہنا تھا پاکستان سے بھارت جانےوالے ہندو خاندان جس طرح جھونپڑیوں میں رہ رہے تھے ۔ وہ بھی اسی طرح جھونپڑیوں میں ہی رہتے تھے جہاں کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں تھی ۔ پاکستان ان کی جنم بھومی ہے ۔ اس لئے واپس لوٹ آئے ہیں ۔ ہندوفیملیزکا یہ بھی کہنا تھا کہ جب کبھی بارش ہوتی جھونپڑیوں کا علاقہ تالاب بن جاتا تھا ۔ بھارت انتظامیہ ہ میں اچھوت سمجھتی تھی، کوئی سہولت نہیں دی جاتی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چھوڑ کر جانے والے ہندووَں کی بڑی تعداد پاکستان واپس بھی آ چکی ہے ۔ ہندو اشرافیہ کا تجارتی طبقہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں آزادانہ کاروبار کرتا ہے، رہائش اختیار کرتا ہے، کیونکہ ان کے رشتے دار وہاں پر ہیں ۔ پاکستان میں زبردستی مسلمان بنائے جانے واقعات میں مبالغہ آرائی کا عنصر زیادہ ہے ۔ جب اس قسم کے واقعات پر عدلیہ نے نوٹس لیا تو مسلمان ہونے والی خواتین نے عدلیہ میں بیان دیا کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں اور اپنی پسند کی شادی کی ہے، جسے روکنے کےلئے ہندو اشرافیہ مذہبی جذبات میں اشتعال پیدا کرنا چاہ رہا ہے ۔ کراچی جیسے حساس شہر میں متعدد جگہوں پر مندر اور مذہبی جگہیں موجود ہیں ، لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہندو برادری کو کسی بھی مسلم کی جانب سے پریشان کیا گیا ہو ۔ ان تمام تر الزامات کا مقصد صرف پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی سازش ہو سکتا ہے ۔ پاکستان نے ہندووَں کی دیوالی میں سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان کر کے فراخ دلی و مساوات کی اچھی مثال قائم کی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندو برادری اپنے حقوق کےلئے اپنی ہی ذات، کاسٹ سے اپنے نمائندہ منتخب کریں تا کہ ان کے حقیقی مسائل سے پاکستان کے عوام بھی درست آگاہ ہو سکیں اور بے بنیاد پروپیگنڈوں سے غلط فہمی پیدا نہ ہو ۔