- الإعلانات -

افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات،وزیراعظم کاخیرمقدم

بلاشبہ افغانستان میں مستقل امن کا قیام ہی اس پورے خطے کے امن کی ضمانت ہے ۔ پاکستان نے بہرصورت افغان امن عمل کا راستہ ہموار کرنے کےلئے بھرپور کردار ادا کیا جس کی امریکہ نے بھی ستائش کی تاہم امریکہ اس خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی خاطر ہمیشہ بھارت کی سرپرستی کرتا رہا ہے اور افغانستان میں امن کا بھی وہ اپنی شرائط پر ہی خواہش مند رہا ہے ۔ امریکہ اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا راستہ بے شک پاکستان نے ہموار کیا تھا جواس مسئلہ میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کی ہر مرحلے پر معاونت کرتا رہا ہے ۔ اب افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے فریقین کے ہمہ وقت نیک نیت رہنے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان کی بدامنی نے اس خطے بالخصوص پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اس لئے اب فریقین امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہونے دیں ، اس کیلئے بھارتی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اب وقت آن پہنچاہے جس کا افغانستان اور پاکستان کے ہر امن پسند انسان کو انتظار تھا ۔ افغان حکومت اور طالبان کے نمائندے مذاکرات کی میز قطر میں بیٹھ گئے ہیں ۔ بالآخر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگیاہے جس میں امریکہ اور پاکستان سہولت کاری کرہے ہیں ۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ امن معاہدہ جلد طے ہو گاجبکہ وزیراعظم عمران خان نے انٹرا افغان مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ وزیراعظم آفس میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطا بق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آخر کار ہماری مشترکہ کوششیں رنگ لائی ہیں وہ دن آگیا جس کا افغان عوام کو کئی سالوں سے انتظار تھا ۔ پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ۔ اب افغان قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے فریقین وعدے پورے کریں مثبت انداز میں مل کر کام کریں اور ایک جامع اور پر امن حل کو یقینی بنائیں پاکستان افغان عوام کی معاونت جاری رکھے گا ۔ پا کستان دہشت گردی کے واقعات، قیمتی جانوں کے نقصان اور بھاری معاشی نقصانات سے آگاہ ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ میں ایک لمبے عرصہ سے یہ بات واضح کرتا آیاہوں کہ افغانستان میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور تنازعات کو صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان نے ان تھک کوششوں سے افغان امن عمل میں معاونت میں کلیدی کردار کیا ہے جس کے نتیجہ میں آج یہ وقت آن پہنچا ہے ۔ افغان قیادت پر مشتمل افغان امن اور تعمیر نو اور مشاورتی عمل افغانستان کی آزادی ہے اور اس سے خطے کی سلامتی، امن اور خوشحالی ممکن ہو گی ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے تمام مسائل کے خاتمہ کےلئے کردار ادا کریں گے اور افغانستان میں امن و استحکام کے مقصد کے حصول کی خواہش کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔ پاکستان اپنی جانب سے افغان عوام کی بھرپور معاونت اور یکجہتی جاری رکھے گا تاکہ امن و امان اور ترقی کے سفر کو یقینی بنایا جا سکے ۔ پاکستان کامانناہے کہ طالبان کا افغانستان کے مستقبل میں ایک اہم کردار ہے ۔ طالبان صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک سیاسی تنظیم بھی ہے جس کا اثر ورسوخ جنوبی افغانستان میں ایک حقیقت ہے ۔ پاکستان نے 90 کی دہائی میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا ۔ پاکستان کےلئے افغانستان میں امن اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ جنگی صورت حال کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے ۔ افغانوں کے آپس کے یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو افغانستان میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا اور اگر خاکم بدہن ناکام ہوئے تو نئی اور ماضی کی تباہیوں سے بڑی تباہی کی بنیاد پڑ جائے گی ۔ یوں اس موقع پر تمام فریقوں کو عجلت سے بھی کام لینا ہوگا ۔

روشن پاکستان کے قیام کےلئے آرمی چیف کی قوم کو یقین دہانی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ انشا للہ مل کر روشن اور پرامن پاکستان کا مقصد حاصل کریں گے ۔ آرمی چیف کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر جاری خصوصی پیغام میں کہا گیا ہے کہ بابائے قوم کو پوری قوم خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بابائے قوم کی قیادت میں پاکستان ایک الگ خود مختار ریاست کے طور پر ابھرا ۔ قائداعظم کے روشن، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کا وژن ہی ہمارا مقصد ہے ۔ مل کر اس مقصد کو ضرور حاصل کریں گے، ان شاللہ ۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی فوج کے سنٹرل کمانڈر جنرل کینتھ مکینزی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں جیو اسٹرٹیجک صورتحال،خطے کی سیکورٹی، پاک امریکہ فوجی تعاون ، افغانستان امن مذاکرات اور کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔ گزشتہ دوعشروں سے پاکستان میں جاری دہشت گردی اورشرپسندی کو جس عزم اورحوصلے کے ساتھ پاک فوج نے ختم کیا وہ دنیاکے سامنے ایک مثال ہے ۔ اس ان دیکھی اورشدیدجنگ میں پاک فوج کے سینکڑوں افسران اورہزاروں جوان شہیدہوئے،دہشت گردی میں ہزاروں بے گناہ شہری بھی جان سے گئے، مگرپاک فوج نے منظم منصوبہ بندی کے تحت آپریشن ضرب عضب اور پھر ردالفسادکے ذریعے اس پرمکمل قابوپایا آج دنیاجس کی مثالیں دے رہی ہے ۔ دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کے بدولت آج ملک میں امن وامان ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کایہ بیان حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کامقصد حاصل کرکے رہیں گے ۔

موٹروے کے دلخراش واقعہ پرچیف جسٹس کابھی اظہار تشویش

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ملک میں امن و امان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے واقعہ کو شرم ناک قرار دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب پولیس میں ہونیوالے تبادلے سیاسی مداخلت کی علامت ہے،حکومت ہوش کے ناخن لے، ایسا لگتا ہے محکمہ پولیس کا کنٹرول نا اہل لوگوں کے پاس ہے جس نے ملک کا امن و امان تباہ کر دیا، پولیس فورس نظم و ضبط کے بغیر کام نہیں کرسکتی،ہم سرمایہ کاری میں اضافہ کے خواہشمند ہیں تو بہترین عدالتی نظام اہم تقاضا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں کمرشل کورٹس کے ججز کی ٹریننگ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ لاہورسیالکوٹ موٹروے پرپیش آنے والادلخراش واقعہ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ حوصلہ افزا ء بات یہ ہے کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی نوٹس لیاہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ بغیروقت ضائع کئے ملزمان کو پکڑ کرسرعام قرارواقعی سزا دی جائے اورقومی شاہراہوں کی حفاظت کے لئے موثربندوبست کیاجائے ۔ واقعے کے بعد پولیس افسران کے متضاد بیانات نے نہ صرف مایوسی دلائی بلکہ تکلیف اورکرب میں مبتلاقوم کے زخموں پرنمک چھڑکا ۔ ایک عورت انتہائی ظلم وتشددکاشکاروہ مدد کے لئے پکارتی رہی ، پولیس افسران حدود کے تعین کے لئے بیٹھ جاتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے ۔ ضرورت اس امرکی بھی ہے کہ نہ صرف قومی شاہراہوں بلکہ کہیں سے بھی مدد کے لئے پکارپرپولیس اورریسکیوکی ٹی میں حدودوقیودکے چکر میں پڑے بغیرفوراً مدد کے لئے پہنچیں ۔ نیز پولیس اورانصاف کے نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے فوری ا صلاحات کی ضرورت ہے ۔