- الإعلانات -

بائےں بازو کی بائےں بائےں ’’ بطن بطون‘‘

سوچےں بلند ہمالہ’’ پلے ککھ‘‘ نہےں ہوتا ‘ جو پتھرےلے راستوں کے مسافر ہوتے ہےں اور بلاشبہ جو عبد ِ معبودِ برحق ہوتے ہےں وہ اصل اور نقل کی پہچان رکھتے ہےں ۔ بائےں بازو کی بائےں بائےں اور ان کا’’ بطن بطون‘‘تو دےکھےں جن کے بُت خانے اور باوا آدم ہی نرالا ہے ۔ بائےں بازو نام کی ےہ بٹا باز اور بٹ مار بٹالےن باز کب آتی ہے بولنے سے اور بتے بازی سے لےکن ان بانگڑو بچوں کو کوئی کےسے روک ٹوک سکتا ہے بے لگام گھوڑے کی طرح چھلانگےں لگاتے ہےں اور قےنچی کی طرح زبان چلاتے ہےں ۔ انہےں ہنر آتا ہے بات کا بتنگڑ بنانے کا اور ےہ بلبلے بلکہ بتولے بولےاں کےا کےا بولتے ہےں کہ عام آدمی سوچتا ہی رہ جاتا ہے ۔ چند دن قبل اےک شادی کی تقرےب مےں مےرے اےک دوست جو جمعہ جمعہ آٹھ دن‘ ابھی نئے نئے ترقی پسند ےعنی کمےونسٹ ’’سرخے‘‘ بنے ہےں ‘ موصوف انسان کے فکری روےوں پر لےکچر جھاڑ رہے تھے ۔ وہ بائےں بازو کے ترقی پسند دانشوروں کی جدےد تحقےق اور نئے نرالے کارنامے پس ماندہ دےہات کے ان بھولے بھالے غرےب لوگوں کو بتلا رہے تھے جن کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور مشن دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ہے ےعنی دو اور دو چار روٹےاں ۔ موصوف کچھ اس طرح کے واقعات بےان کر کے پھولے نہےں سما رہے تھے کہ اب تو انسان اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ پہاڑوں پر جا کر پر ےوں اور ان کے بچوں سے بھی ملا ہے اور ان سے باتےں بھی کی ہےں ۔ انھوں نے بطور دلےل غالباً مستنصر حسےن تارڑ کا نام لےا اور نانگا پربت کا ذکرِ خےر فرماےا ۔ موصوف خوشی سے اس قدر پھوک رہے تھے جےسے ےہ محاز خود انھوں نے ہی فتح کےا ہو ۔ اسلامی تارےخ بھری پڑی ہے بے شمار واقعات پڑھنے کو ملتے ہےں ‘ عام انسانوں کے حوالے سے نہےں بلکہ اللہ جبار و غفار‘ غفور الرحےم کے برگزےدہ پےغمبروں کے حوالے سے اےک معتبر اسلامی کتاب نز ھتہ المجالس کے مطابق حضرت عےسیٰ کا اےک پہاڑ پر سے گزر ہو اور وہاں آپ کی نظر اےک بہت ہی بڑے سفےد پتھر پر پڑی ۔ آپ اس پتھر کو حےرت کے ساتھ دےکھ رہے تھے کہ اللہ کرےم نے آپ پر وحی نازل فرمائی کہ کےا اس سے بھی عجےب تر چےز آپ پر ظاہر فرمادوں ;238; عرض کی جی ہاں لہٰذا وہ پتھر شق ہو گےا اور اس مےں سے اےک بزرگ اپنے ہاتھ مےں سبز عصا لئے باہر نکلے اور پتھر کے اندرونی حصے مےں انگور کی بےل کی طرف اشارہ کر کے فرماےا کہ مجھے روزانہ رزق اس سے ملتا ہے ۔ مےرے اپنے ہی اےک چوبرگے کا شعر ہے کہ: ۔

تو ہی رازق حسےن;230; کے قاتلوں کا

بالا سمجھ سے ہے تری بات ساری

حضرت عےسیٰ علیہ السلام نے اس بزرگ سے درےافت کےا کہ آپ اس پتھر کے اندر کتنی مدت سے رہ رہے ہےں ۔ ;238; بزرگ نے فرماےا کہ چار سو سال سے ۔ مےں نے اےسے کئی اسلامی اور تارےخی واقعات کئی اسلامی کتب مےں پڑھے ہےں ۔ اگر بارےک بےنی سے اسلامی لٹرےچر کا مطالعہ کےا جائے تو اس طرز کے کئی سچے واقعات اللہ قادر و قدےر کے دےگر برحق نبےوں کے حوالے سے بھی موجود ہےں جو اسلامی تارےخ مےں سنہرے حروف مےں لکھے گئے ہےں ۔ لےکن ہمےں اس سے کےا فرق پڑتا ہے ہم نے تو صرف اور صرف تنقےد ہی کرنی ہوتی ہے ۔ ’’اےوےں ‘‘ مطالعہ مےں منت مغز کھپانے اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہی کےا ہے ۔ ےہ پر ےوں والا معاملہ اصل مےں کچھ اس طرح ہے کہ دنےا کی دوسری بلند ترےن پہاڑی چوٹی ;75;-2 سر کرنے والے پہلے پاکستانی اشرف امان نے ےہ پہاڑی چوٹی سر کرنے کے بعد اس مشکل ترےن سفر کی داستان تب پڑنٹ مےڈےا کے سامنے بےان کی تھی ۔ اس وقت اشرف امان کے انکشافات اور بےانات ملکی اور غےر ملکی اخبارات مےں شاءع بھی ہوئے تھے ۔ اشرف امان کا کہنا ہے کہ اُسے اس کام کی تحرےک اپنے بزرگوں سے ملی جو ےورپی کوہ پےماءوں کے ساتھ ;75;-2 پر جانے کے حوالے سے نہاےت ہی دلچسپ کہانےاں سناےا کرتے تھے کہ ;75;-2 پر پرےاں اور شےطان رہتے ہےں ۔ مگر جب مےں چوٹی پر پہنچا تو وہاں صرف اپنی ماں دادا اور چچا کی روحوں کو دےکھا ۔ مےں نے دےکھا کہ بزرگوں کی ارواح مےری رہنمائی فرما رہی ہےں ۔ کالم کے شرو ع مےں جن’’ماڈرےٹ سوشلسٹ دانشور‘‘ کا ذکر کےا تھا ان کے بارے مےں اگر ےہ کہا جائے کہ اندھے کو اندھےرے مےں بڑی دور کی سوجھی تو مےرے خےال مےں چنداں غلط نہ ہوگا ۔ اس طرز کے نام نہاد نمائشی اور فےشنی قسم کے ترقی پسند اکثر نجی محفلوں مےں اےسی گفتگو فرماتے ہےں جس کا کوئی سر ہوتا ہے نہ پےر‘عام آدمی کی سمجھ سے بالکل ہی بالا تر باتےں ‘ مےرے خےال مےں اس طرح کی گفتگو کرنے کے مقاصد سادہ لوح لوگوں کو مبہوت کرنا‘ انہےں وسوسوں مےں ڈالنا اور ورغلانا ےا پھر محض اپنی علمی برتری جتانا ہی ہےں ۔ ےہ کچے ذہن کے لوگوں کا کام ہے ۔ سنجےدہ اور مستقل مزاج لوگ جن پہ اس مروجہ فلسفہ ِ زندگی سے ہٹ کر اگر کوئی عقدہ وا ہوا بھی ہو‘ وہ نہ ہوتو اس طرح ڈےنگےں ہانکتے ہےں اور نہ ہی ڈھول گلے مےں ڈال کر اےسی فضول باتوں کا ڈھنڈو را پےٹتے ہےں ۔ پوٹھوہار مےں سب سے پرانے اور بڑے انقلابی لےڈر دادا امےر حےدر کٹر قسم کے کمےونسٹ ےعنی ’’پکے سرخ‘‘ تھے ۔ انھوں نے اپنی ساری زمےن جائےداد بےچ کر غرےبوں کے بچوں کےلیے سکول بنوائے ۔ ساری زندگی بھوکے ننگے غرےب مظلوم و مجبور لوگوں کے حقوق کی خاطر جنگ لڑتے گزاری اور ظلم و جبرو استبدار کے خلاف جہاد کےا ۔ دادا سے کسی نے سوال کےا کہ آپ کے بارے مےں سنا ہے کہ آپ کسی مذہب کے پےروکار نہےں ہےں اور ےہ بھی سنا ہے کہ آپ اگر اپنے گاءوں گوجر خان مےں ہوں تو رمضان مےں روزہ بھی رکھتے ہےں ;464646; ;238; دادا نے جواب دےا کہ مےں مساوات کا قائل ہوں ‘ مےر ے گاءوں کے سارے لوگ روزے کی حالت مےں ہوتے ہےں مےں ےہ مناسب نہےں سمجھتا کہ مےرے بھائی بھوکے پےاسے ہوں اور مےں پےٹ بھر کے کھا لُوں ۔ حضرت ابوہرےرہ;230; سے رواےت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرماےا کہ انسان کا بے فائدہ باتوں کا چھوڑ دےنا اُس کے حسنِ اسلام کی علامت ہے ےعنی اچھا مسلمان ہونے کی دلےل ہے ۔ لےکن بعض لوگ شوشے چھوڑنے کے عادی ہوتے ہےں ‘ اس طرح کے ’’چاچے شوشے‘‘ غلط کو درست اور درست کو غلط بنانے کے کافی ماہر ہوتے ہےں ۔ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ مےں بدلنا ان کے بائےں ہاتھ کا کھےل ہوتا ہے ۔ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی ثابت کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے ۔ ان لوگوں کو ہمےشہ ہر سےدھی چےز اُلٹی نظر آتی ہے: ۔

وحشت مےں ہر نقشہ الٹا نظر آتا ہے

مجنوں نظر آتی ہے لےلیٰ نظر آتا ہے

ترقی ےافتہ ممالک کے غےر مسلم خلاء باز‘ فضاءوں مےں اُڑتے سےاروں کا سفر کرتے جب چاند پہ جا پہنچے تو واپس زمےن پہ آکر فرماتے ہےں کہ چاند پہ تو کچھ بھی نہےں ہے بس وہاں جو صدائےں بلند ہو رہی تھےں آوازےں آ رہی تھےں وہ اس طرح کی تھےں جےسے مسلم مساجد سے اذان کی آوازےں آ رہی ہوتی ہےں ۔ تب پاکستان کا سب سے بڑا ترقی پسند انقلابی شاعر فےض بول اُٹھا تھا کہ: ۔

چاند تری گلی سے زےادہ حسےں نہےں ہے

کہتے سنے گئے مسافر خلاءوں کے