- الإعلانات -

ایڈمنسٹریٹرکی صلاح اوربھتہ کاحصہ

ایم کیو ایم نے کراچی صوبے کےلئے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ایڈمنسٹریٹر کی کائناتی میں ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا ۔ خالد مقبول صدیقی کے بقول کراچی کے جتنے بھی ایڈمنسٹریٹر لگائے گئے ہیں وہ نہ تو اردو بولنے والے نا پنجابی نا پشتو بولنے والوں میں سے ہیں بلکہ ایک ایڈمنسٹریٹر جو ضلع شرقی میں تعینات کیا گیا وہ انور مجید وغیرہ کے ساتھ منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہے ۔ ایم کیو ایم نے لندن میں دو ارب سولہ کروڑ مالیت کے کئی مکانات کا دعوی ٰبھی کیا ہے جو لندن میں الطاف حسین اور اس کے بھائی وغیرہ کے قبضہ استعمال میں ہیں ۔ ایم کیو ایم کراچی کے باسیوں کی ایک جماعت تھی جواب کئی جماعتوں میں تقسیم ہو چکی ہے جو اپنے عظیم اور خود ساختہ جلاوطن قائد الطاف حسین وغیرہ کیخلاف اربوں روپے کی جائیدادوں کی دعویدار ہے ۔ ایم کیو ایم کراچی پر پرزے نکالنے شروع کئے تو اس کا ٹاکرا جماعت اسلامی جمعیت علما پاکستان، پنجاب پختون اتحاد پارٹی سے ہوا ۔ سب کو مات دے کر ایم کیو ایم کراچی حیدر;200;باد سکھر کی وارث بن بیٹھی ۔ ایم کیو ایم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت کےساتھ ملکر حکومت بنائی خوب استعمال کیا ۔ ہر حکومت کو یرغمال بنا کراپنا سکہ چلایا جب تک کراچی میں ایم کیوایم کا راج رہاقتل و غارت بھتہ خوری کا قبضہ مافیا نے الطاف حسین کے جادوکا راج رہا ۔ ہزاروں جوان کراچی میں ایم کیو ایم کی غنڈا گردی سے کرتے ہوئے کتنی عزتیں لوٹیں کتنا بھتہ وصول کیا گیا کتنی ڈکیتیاں ہوئی کتنے افراد اغوا ہوئے کتنے مجرم کا تعلق ڈاکو پولیس فورس میں بھرتی ہوئے،ان کا شمار مشکل ہے ۔ کتنی دولت لوٹی لندن بھجوائی جائیدادیں لندن بنائی ان کا حساب کتاب بھی مشکل ہے ۔ ایم کیو ایم کراچی میں پیدا ہوئیں حیدر;200;بادسکھر میں جوان ہو کرپھلی پھولی اور لندن میں اس نے اپنے قائد الطاف حسین کو خود ساختہ جلا وطن رکھا ہوا ہے ۔ الطاف حسین نے کراچی میں بلا شرکت غیرے حکومت واقتدار کمایامگر جبر اور ظلم کا اقتدار ایک نہ ایک دن ختم ہو کر ہی رہتا ہے ۔ ;200;ج ایم کیو ایم اقتدار میں بے ساکھیوں کے ذریعے پہنچی ہے اور لولا لنگڑا اقتدار ;200;ج بھی ایم کیو ایم کے نصیب میں ہیں کیونکہ وفاقی حکومت خود لولی لنگڑی ہے ۔ اسے بھی بیساکیوں کی ضرورت تھی اس لئے وفاقی حکومت نے بیساکھیوں والی ایم کیو ایم مسلم لیگ کا اور سندھ گرینڈ الائنس وغیرہ کی بیساکھیاں استعمال کرکے اپنا وقت پورا کر رہی ہے خیر جمہوری حکومتوں کی بعض اوقات انتہائی مخالفین سے تعاون مانگ کر وقت گزارنا پڑتا ہے ۔ موجودہ حکومت بھی ایم کیو ایم کی سب سے بڑی ناقد تھی ، مگر ;200;ج سے ضرورت پڑی ہے توحکومت سازی میں ایم کیو ایم کو خاص وزارتیں بھی دی ہیں اور نخرے الگ برداشت کیے ہیں ۔ بات کراچی میں تعینات ایڈمنسٹریٹر ان سے شروع ہوئی اور وفاقی وزارتوں تک جا پہنچی ہے ایم کیو ایم کراچی میں اپنی پرانی شان و شوکت کو یاد کر کے ;200;نسو بہاتے ہوئے حکومت سندھ سے گلہ کرتی ہے کہ کراچی میں مختلف ایڈمنسٹریٹر لگانے سے پہلے صوبائی حکومت نے وعدہ کیا تھاکہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر ان کے صلاح مشورے سے لگائے گی اور اب ایڈمنسٹریٹر لگا دیئے گئے مگر ہ میں شریک مشورہ نہ کیا گیابلکہ من مرضی سے وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈمنسٹریٹر لگا کر پنجابی پختونوں اور اردو بولنے والوں کو یکسر محروم کر دیا ہے اگر ایم کیوایم کا اعتراض درست ہے تو کراچی کے باسی پختون پنجابی اردو دان پیپلزپارٹی سے نالاں ہو سکتے ہیں یوں پی پی پی نے بھی ان تمام قومیتوں کو یکسر نظر انداز کر کے اپنے ;200;پ کو سندھ تک محدود کر دیا ہے ۔ پنجاب اور پختونوں کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ کراچی میں پیپلز پارٹی کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ جس طرح عمران خان کو ولاءتی مشیروں نے چینی ;200;ٹا کے بحران پھنسایا ہے دیکھنا یہ ہے کہ کراچی حیدر;200;باد کے ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کس نے کیا ہے;238; یہ گیم بلاول کی ہے تو ;200;نےوالے الیکشن میں بلاول کراچی پختونخوا اور پنجاب میں سیاسی طور پر مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں جہاں تک ایم کیو ایم کا شکوہ ہے کہ ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا کہ پیپلزپارٹی شکر کرتی ہوگی کہ ایم کیو ایم بے سے جان چھوٹی ہے اور ایم کیو ایم کے ٹکڑے ہوئے ہیں مشوروں کی بات مقبول صدیقی صاحب گزر چکے ہیں ۔ ;200;پ نے ایک لمبی اننگز کھیلی ہے اب ;200;پ گزارا کریں خاموشی سے وقت گزاریں یہ نہ ہو حکمران ;200;پ سے ماضی کے کٹوتیوں کا حساب نہ مانگ لیں اور ماضی کا حساب کتاب ;200;پ کو بہت مہنگا پڑے گا ۔ خالد مقبول صدیقی صاحب ایم ایم کے عروج کے زمانے میں عیاشیوں بدمعاشی کرنےوالے لاتعداد تھے ۔ اب ;200;پ نے زیادہ شور مچایا تو حساب کتاب ;200;پ کے گلے کی گھنٹی بن جائے گا ۔ کراچی میں پی ٹی ;200;ئی کی صوبائی و قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد ہر سیاسی جماعت سے زیادہ ہے اگر کراچی میں ایڈمنسٹریٹر وں کی تقرری میں پی ٹی ;200;ئی کو نہیں پوچھا گیاجو وفاق کی حکمران جماعت ہے تو ;200;پ زیادہ ٹانگ اڑانے کی کوشش نہ کریں ۔ ;200;پ قائد الطاف حسین اور دوسرے لندن میں مقیم لیڈروں سے جمع شدہ پانڈ کا حساب ضرور مانگیں کیونکہ الطاف حسین کی نگرانی میں بھتہ کاروبار بڑے عروج پر رہا ہے جیسے بلدیہ فیکٹری کو بھتہ نہ دینے پر ;200;گ لگاکر260 افراد کو زندہ جلایا گیا اسی طرح الطاف حسین کے زمانے میں بڑی مقدار میں بھتہ جمع ہوا تھا اس بھتے کی وصولی سے ;200;پ اپنا حصہ لینے کی کوشش کریں قانونی کارروائی ضرور کریں لندن کے عدالتوں کو جمع شدہ اور پاکستان سے گروپوں کے ثبوت جمع کرائیں آپ کی قسمت بدل سکتی ہے ۔