- الإعلانات -

طالبان افغان حکومت ، امن مذاکرات

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین 2 دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کےلئے امن مذاکرات جاری ہیں ۔ یہ مذاکرات فروری میں امریکہ اور طالبان کے سکیورٹی معاہدے کے بعد شروع ہونا تھے ۔ لیکن کچھ متنازعہ قیدیوں کے تبادلے پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہو گئے تھے ۔ مذاکرات کے آغاز میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس تاریخی موقع کو ضائع نہیں جانے دیا جائیگا ۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نافذ کیے جانے والے سیاسی نظام کے بارے میں افغانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ امریکہ ایک خودمختار، متحد، جمہوری اورپرامن افغانستان کا حمایت کرتا ہے ۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ جمہوریت خاص طور پر سیاسی طور پر پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کا اصول بہترین طرح سے کام کرتا ہے ۔ افغان امن کونسل اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریق مل کر دیانت داری سے قیامِ امن کے لیے کام کریں تو افغانستان کی مشکلات ختم ہو سکتی ہیں تا ہم اس کےلئے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی لازمی ہے ۔ وہ منصفانہ اور باوقار امن کے خواہاں ہیں ۔ افغان حکومتی وفد میں افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ حنیف اتمار اور کابینہ کے دیگر اراکین شامل ہیں ۔ یہ تاریخی موقع ہے جب افغان بھائی امن کی تلاش میں اپنی طویل جدو جہد کے دوران ایک بڑا قدام اٹھارہے ہیں ۔ بلاشبہ مصیبتوں اوررکاوٹوں کا ایک طویل باب ختم ہوا ۔ ایک نئی صبح طلوع ہورہی ہے ۔ یہ سفرآسان نہیں تھا ۔ مختلف رکاوٹیں ، حادثات، شکوک وشبہات دامن گیر رہے ۔ اس کے باوجودنہ صرف اس راہ میں پیش رفت ہوئی بلکہ اسے برقراربھی رکھا گیا ۔ اس موڑ تک پہنچنا یقینا ایک بڑی کامیابی ہے اور اس کا سہرا افغانوں کو جاتا ہے ۔ یہ کامیابی ان کی ہے اور وہی اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ پاکستان نے اس امن عمل میں بھرپور سہولت کاری کی جس کا حتمی ثمر دوحہ میں انتیس فروری دوہزار بیس کو طے پانے والے امریکہ طالبان امن معاہدہ کی صورت سامنے آیا اور آج ہم اس مرحلے تک آن پہنچے ہیں ۔ بین الافغان مذاکرات کا انعقاد سب کی مشترکہ کوششوں کا حاصل ہے ۔ پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کا یہ ہی دیرینہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ۔ سیاسی تصفیہ ہی اس ضمن میں آگے بڑھنے کی واحد راہ ہے ۔ یہ امر ہمارے لئے باعث فخر واطمنان ہے کہ ہمارے نکتہ نگاہ کو آج عالمی برادری نے قبول کیا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امن مذاکرات کے آغاز پرکہا کہ افغانوں کی قیادت میں افغانوں کو قبول امن عمل کی حمایت جاری رکھتے ہوئے بین الافغان مذاکرات میں پیدا ہونے والے اتفاق رائے کا احترام کیاجائے اور یقینی بنایاجائے کہ افغانستان میں متشدد ماضی لوٹ کر واپس نہ آئے اور نہ ہی یہاں ان عناصر کو کھل کر کھیلنے کا موقع ہی میسرآئے جو اس کی سرحدوں سے دوسروں کو نقصان پہنچائیں ۔ افغانستان کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کےلئے معاشی سرگرمیوں کی تقویت اور نشوونما کی جائے اور وسائل اور مدت کے تعین کے ساتھ افغان مہاجرین کی باعزت اپنے گھروں کو واپسی ممکن بنائے جائے ۔ اس امید افزا مرحلے پر میں اپنے افغان بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ امن، ترقی، سلامتی اور ترقی کی شاہراہ پر آپ کے اس تاریخی سفر میں پاکستان کی حمایت، مدد اور یک جہتی ہمیشہ آپ کو میسر رہے گی ۔ پاکستان ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم، متحد، جمہوری، خوشحال اور خودمختار افغانستان کی حمایت کرتا رہے گا جو نہ صرف داخلی طورپر بلکہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی حالت امن میں ہو ۔ افغانستان کے بعد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو افغان تنازعے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ چالیس سال میں ہم نے دہشت گرد حملوں کا سامنا کیا ، قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا ، آبادی کی نقل مکانی کے عذاب جھیلے، سرحدوں پر عدم استحکام اور بھاری معاشی نقصانات برداشت کئے ۔ لیکن تمام تر مشکلات اور منفی ماحول کے مدمقابل ہم ڈٹ کر کھڑے رہے ہیں ۔ ہمارے شہریوں ، قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے افسروں اور جوانوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں ۔ ہماری قیادت نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم صرف امن میں حصہ دار ہوں گے ۔ اس تاریخی موقع پر یہ انتہائی ناگزیر امر ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے ۔ افغان عوام کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے جیساکہ پہلے ہوچکا ہے ۔ حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بے ثمر اور رائیگاں نہ جانے دیاجائے ۔ پرامن اور مستحکم افغانستان افغان عوام کےلئے ترقی وخوشحالی کی نئی نوید اور امکانات لائے گا ۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خطے کے اندر بلکہ دنیا بھر کے ساتھ تعاون اور روابط استوار کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ۔ داخلی اور خارجی سطح پر خرابی چاہنے والے عناصر اس عمل میں مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کریں گے ۔ اس ضمن میں ہوشمندی و بیداری درکار ہے تاکہ فتنہ پردازوں سے محفوظ رہا جاسکے ۔ ہ میں امید ہے کہ تمام فریقین اپنے عہد کی پاسداری کریں گے اور کسی بھی دقت یا مسائل کے آنے پر مثبت نتاءج کے حصول کے عزم پر کاربند رہتے ہوئے اس عمل کو برقرار رکھیں گے ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا ۔ پائیدار امن کا خواب مفاہمتی عمل سے ہی ممکن ہے ۔ یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے دوحہ میں کابل حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے آغاز کو سراہا ہے ۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائد اٹھاتے ہوئے ملک گیر سطح پر اور فوری جنگ بندی کریں ۔ نیٹو کی جانب سے کہا گیاکہ امن عمل میں پیشرفت اور حالات کو دیکھتے ہوئے افغانستان سے افواج کے انخلاء یا اس کی تعداد میں رد و بدل پر بات چیت کی جا سکتی ہے ۔ سیکرٹری جنرل ڑینس اشٹولٹن برگ نے کہا کہ اس بات کویقینی بنایا جائے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بنے ۔ ایران نے بھی مذاکرات کی حمایت کی ہے ۔