- الإعلانات -

سانحہ موٹر وے،ملزمان کو عبرت کا نشان بنانا وقت کا تقاضا

پنجاب حکومت اور پولیس کی جانب سے لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والے ملزمان کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چھاپے کی کارروائی کے دوران ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ملزم کا ;687865;میچ کر گیاجبکہ دوسرے کی بھی شناخت ہوگئی ہے تاہم اطلاع لیک ہونے پر ملزمان فرار ہوگئے، ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاع ہے کہ ایک ملزم وقارالحسن نے گرفتاری دے دی ہے ۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے گرفتاری میں تعاون کرنیوالوں کو25لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملزمان کا سراغ لگالیا گیا ، پولیس اورمتعلقہ اداروں کو ہدایات کی ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ جن درندوں نے خاتون سے زیادتی کی ہے جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے ۔ ملزم وقار الحسن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کیخلاف ڈکیتی کے دومقدمات ہیں اوروہ 14دن پہلے ہی ضمانت پر رہا ہواہے جبکہ کریمنل ڈیٹا بیس میں عابد علی کا ریکارڈ 2013سے موجود تھا ۔ 27سالہ عابد اشتہاری مجرم ہے اور اس کی وارداتوں کا ریکارڈ موجود ہے ۔ اس معاملے کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عادی اور ریکارڈ یافتہ مجرم کس طرح آزاد اور دندناتے پھرتے ہیں ،یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا عدالتی اور پراسیکیوشن کا نظام کہاں کھڑا ہے ۔ ملزم عابد قبل ازیں بھی ایک گھر میں ڈکیتی کی واردات میں اسی طرح ماں ، بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعہ میں ملوث تھا، اگر اس وقت وہ قانون کے شکنجے میں آجاتا اور قرار واقعی سزا پاتا تو آج شاید یہ سانحہ رونما نہ ہوتا ۔ ایسے واقعات سے ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کی ناکامی و کمزوریاں سامنے آتی ہیں جنہیں دور کرنے کی اشد ضرورت کے باوجود بے حس کا راج ہے ۔ ملزم عابد علی کا تعلق ضلع بہاولنگر کی تحصیل فورٹ عباس سے ہے، ملزم کی شناخت میں جیوفینسگ اور موبائل فون سے مدد بھی لی گئی، اس وقت ملزم کی لوکیشن قلعہ ستار شاہ شیخوپورہ تھی،جب سادہ کپڑوں میں پولیس نفری نے چھاپہ مارا مگر وہ فرار بھی ہو گیا ۔ ایسے گھناوَنے جرم پر پوری قوم صدمے میں ہے اور ملزمان کی سرعام پھانسی کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ گزشتہ روز ملک بھرکے بڑے شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے اور پولیس اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ۔ اس صورتحال میں درندہ صفت ملزمان کا بھیانک اور عبرتناک انجام یقینی بنانا ضروری ہے ۔ افسوسناک صورتحال یہ کہ اس دلخراش واقعہ سے ہمارے اداروں کی غفلت و نا اہلی کس طرح کھل کر سامنے آئی ہے ۔ لاہور سیالکوٹ موٹر وے کے افتتاح کو کئی ماہ گزرنے کے باوجود وہاں نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس یا پنجاب پولیس کی تعیناتی نہ ہونا بھی ہمارے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ ماضی میں ایسے کئی واقعہ رونما ہو چکے ہیں مگر ہمارے متعلقہ ادارے ایسے واقعات پر قابو پانے کےلئے کوئی بروقت اقدامات اٹھانے کی بجائے دباوَکم کرنے کےلئے ڈنگ ٹپاوَ پالیسی اپناتے ہیں جیسے اس واقعہ کے بعد کیا گیا کہ اب مذکورہ جگہ پر پولیس کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا نوٹس لینا،یا مذمت کرنا، پنجاب حکومت کا متحرک ہونا اور شدید ردِعمل دکھانا، آئی جی پولیس اور موٹر ویز کی طلبی وغیرہ یہ ان سب کا فرض بنتا تھا مگر اصل کام بروقت اقدامات اور ذمہ داریوں کا تعین ہے ۔ درندے عادی مجرم یا ڈاکو تھے یا کوئی اور کسی بھی لحاظ سے رعایت کے حقدار نہیں ہیں ۔ انہیں جلد از جلد قانون کی گرفت میں لا کر نشانِ عبرت بنانا وقت کا تقاضہ ہے ۔ موٹروے سمیت تمام چھوٹی بڑی شاہراہوں پر دن رات کا سفر محفوظ بنانا آخر کس کی ذمہ داری ہے ۔ موٹر وے پولیس اگرچہ ایک اچھی ساکھ رکھنے والی پولیس فورس ہے مگر اس کے باوجود موٹروے پر سکیورٹی کا اس قدر کمزور سسٹم، مسافروں کے ساتھ سنگین نوعیت کے جرائم کا وقوع پذیر ہونا اور انتہائی سست رد عمل گہری تشویش کا موجب ہے ،اگر موٹروے پولیس بروقت مدد فراہم کردیتی تو شاید یہ سنگین واقعہ رونما ہی نہ ہوتا ،ادھر پولیس چاہے وہ کسی بھی صوبے کی ہواسکا غیر پیشہ ورانہ سسٹم جرائم کی روک تھام میں بڑی رکاوٹ ہے جس سے عوام کی جان و مال غیر محفوظ اور ملک کا امن و امان تباہ ہو چکا ہے ۔

کراچی،پھر ایک اور بوسیدہ رہائشی عمارت منہدم

کراچی کے علاقے لیاری کی بہار کالونی میں کوئلہ گودام کے قریب ایک2 منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی جس کے نتیجے 2افراد جاں بحق ہوگئے ۔ دوروز قبل بھی کورنگی کے علاقے اللہ والا ٹاوَن میں 5منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی تھی جسکے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت 4 جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ اسی روز لاہور میں ایک بوسیدہ گھر کی دیوار گرنے سے ساتھ والا گھر منہدم ہو گیا جس سے 6 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ۔ رواں برس کراچی میں کسی رہائشی عمارت کے گرنے کا یہ پانچواں واقعہ ہے ۔ رواں برس سب سے ہولناک حادثہ 6 مارچ کو گلبہار میں پیش ;200;یا تھا جہاں کثیر المنزلہ عمارت گرنے سے 27 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ۔ 8 جون کوکراچی کے علاقے لیاری میں 5منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق ہوگئے تھے ۔ 8جولائی کو لیاقت آباد میں سندھی ہوٹل کے قریب 5 منزلہ مخدوش عمارت زمین بوس ہوگئی تھی ۔ کراچی میں حالیہ دنوں میں شدید بارشیں ہونے کی وجہ سے کئی رہائشی اور کاروباری عمارات کو سخت نقصان پہنچا ہے ۔ خصوصاً پرانے رہائشی علاقوں میں اس حوالے سے زیادہ مسائل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دوروز کے اندر دو حادثے ہو چکے ہیں اور کئی قیمتی جانیں بھی چلی گئی ہیں ۔ لہٰذامتعلقہ ادارے جاگیں اور بوسیدہ عمارات کی نشاندہی کروا کر انہیں خالی کرائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے ۔ خود عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ از خود محفوظ مقام کی طرف منتقل ہو جائیں ۔

دفاع وطن کےلئے ایک اور شہادت

دفاع وطن کی خاطرایک اور جوان نے جام شہادت نوش کیا ہے ۔ شمالی وزیرستان میں فورسز کی چیک پوسٹ کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید ہوگیا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں فورسز کی چیک پوسٹ کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں 33سالہ جوان ساجد شہید ہوا ہے ۔ دیسی ساختہ بارودی سرنگ کا دھماکا میرانشاہ بویا روڈ پر واقع چیک پوسٹ کے قریب ہوا ۔ دہشت گردوں سے لڑتے لڑتے اب تک کئی جوان اور اعلیٰ افسران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں ،مگر ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے قبائلی علاقے دشمن کے پھیلائے گئے نیٹ ورک کی آماجگاہ تھے اور قبائلی عوام کا جینا محال ہو چکا تھا، اس صورتحال کے سدباب کےلئے پھر افواج پاکستان نے جانوں کی پروای کئے بغیران عناصر کی بیخ کنی کی ٹھانی اور امن دشمنوں کو نکال باہر کیا ،اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب وہاں قبائلی عوام چین سے زندگی گزار رہے ہیں ۔ یہ امن اور سکون پاکستان دشمن عناصر کو ہضم نہیں ہو رہا ہے اسلئے وہ گاہے گاہے اپنی کارراوئیوں میں لگے رہتے ہیں ، لیکن بہادر افواج کی موجودگی میں اب انہیں اپنے مذموم عزائم میں دوبارہ کامیابی نہیں ملے گی ۔