- الإعلانات -

کشمیریوں کا تشخص تباہ کرنے کی سازش

کشمیر کے پورے خطے میں اردو کو ایک مشترکہ زبان سمجھا جاتا ہے ۔ یہ کشمیر اور ہندوستانی انتظامیہ کے مابین بھی ایک لنک زبان کے طور پر کام کرتی ہے ۔ یہ اپنے مختلف شکلوں میں بولی جاتی ہے ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ اعلیٰ ذات کے ہندووَں کے علاوہ سکھوں ، عیسائیوں ، بودھوں اور دیگر مذہبی اور نسلی گروہوں کے ذریعہ بھی ۔ کشمیر میں گوجری کے نامور اسکالر جاوید راہی نے اپنی کتاب’جموں و کشمیر کے قبائلی گروہوں اور ان کی زبانیں ;39;(2015) میں ذکر کیا ہے کہ کشمیر اور لداخ کے بہت سارے ثقافتی گروہوں ، جیسے گوجر ، بلتی ، درد ، بیدا، مون ، گارا ، اورچانگپا، اپنی زبانوں کولکھنے کے لئے اردو کا ہی فارسی وعربی رسم الخط کا استعمال کرتے ہیں ۔ اردو کے بہت سارے الفاظ کوان زبانوں نے مستعار لئے ہیں اور ساتھ ہی میں اپنی مقامی ثقافتوں کو محفوظ رکھتے ہیں ۔ مسلم والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اپنی مادری زبان کشمیری کی ترجیح میں اردو بولیں ۔ 1990 کے بعد پیدا ہونے والی نسل تعلیم اور ملازمت دونوں کے لحاظ سے ہندوستان میں وابستگی کو آسان بنانے کےلئے اردو میں گفتگو کرنا پسند کرتی ہے ۔ بی جے پی کے حامیوں نے حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ اردو کو اب اس خطے کی سرکاری زبان نہیں بنانا چاہئے ۔ آرٹیکل 370 اور 35-;65; کی منسوخی کے بعد 13 ماہ سے مقبوضہ وادی کی جو حالت ہے وہ دنیا کے سامنے ہے ۔ سال سے زائد عرصہ ہوگیا کہ مسلسل کرفیو کی وجہ سے کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں ۔ مودی سرکار نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ رہی ہے ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ سرکار کشمیریوں کا اسلامی، ثقافتی اور لسانی تشخص بھی تباہ کرنے کے درپے ہے ۔ مودی حکومت نے ایک اور مسلم دشمن اقدام کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی زبان اردو کو سرکاری زبانوں سے خارج کر دیا ۔ بھارتی حکومت کے اس فیصلے سے کشمیر میں 131 سال سے بولی جانے والی اردو زبان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں اردو، انگلش، ہندی، کشمیری اور ڈوگری زبان کو سرکاری حیثیت حاصل تھی ۔ تنظیم نو قانون 2019 میں بھارتی حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں ۔ اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں ، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں ، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے ۔ سابق گورنر ستیہ پال ملک کے مشیر فاروق خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہندی قومی زبان ہے جس کا استعمال جموں کشمیر یونین ٹیر یٹری میں بھی کیا جائے گا ۔ اردو کو اس کی معقول جگہ دی جائے گی ۔ انگریزی کا بھی استعمال کیا جائے گا ۔ تنظیم نو قانون کی شق اور فاروق خان کے بیان سے کشمیر ی عوام میں خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر کی سرکاری زبان اردو کو ہمیشہ کیلئے دفن کردے گی ۔ اردو زبان و ادب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کےلئے رابطے کی زبان ہے ۔ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے ۔ اگر سرکار اردو کی جگہ کوئی دوسری متبادل زبان جموں و کشمیر میں سرکاری زبان کے طور پر لاگو کرے گی تو یہ ایک انسان کو اس کی روح سے منقطع کرنے کے مترادف ہوگا ۔ اردو زبان کو تبدیل کرنا کشمیر کی تہذیب پر یلغار ہوگا ۔ بی جے پی کی قیادت والی حکومت پورے بھارت میں ہندی کو عوام پر تھوپنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی کو اقتدار میں آئے ہوئے پانچ سال سے زیادہ عرصہ ہوگیاہے ۔ اب مقبوضہ وادی میں اردو کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ ڈوگرہ کی ہندو ریاست کے دوران1889 سے یہ سرکاری زبان رہی ہے ۔ اردوجموں و کشمیر میں بولی جانے والی30یا اس سے زیادہ کسی بھی زبان سے مماثلت نہیں رکھتی ہے ۔ لیکن2011 میں بھارتی مردم شماری کے مطابق صرف 0;46;13 فی صدمقامی افراد کے بولنے والوں کی تعداد کےساتھ اردو نے آسانی سے اپنی جگہ بنا لی ۔ درحقیقت یہ باہری زبان ہونے کی وجہ سے ہی جموں و کشمیر اور لداخ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ۔ فارسی 14 ویں صدی سے اس خطے میں موجود تھی اور 1845 میں انگریزوں کی آمد تک یہ سرکاری زبان کے طور پر رہی ۔ اس کی موجودگی سے لداخ سمیت پورے جموں و کشمیر میں اردو کی نشوونما اور ترقی میں آسانی ہوئی ۔ صرف مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں اردو مخالفت اقدامات شروع ہو چکے ہیں ۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی میں جو لسانی فارمولا پیش کیا گیا ہے اس فارمولا میں اردو زبان کا کوئی تذکرہ نہیں بلکہ مادری زبان کی فہرست میں اردو کو نظر انداز کر کے مراٹھی کے ساتھ ساتھ ہندی اور سنسکرت زبان کے فروغ کی خوب گنجائش رکھی گئی ہے ۔ مہاراشٹرا میں جہاں کی علاقائی زبان ’’مراٹھی‘‘ ہے ۔ اگر ریاست میں نئی تعلیمی پالیسی نافذ ہوگئی تو یقیناً مستقبل میں یہاں اردو زبان ختم ہوجائے گی ۔ مادری زبان کی فہرست میں اردو زبان کو جگہ نہ دیئے جانے پر ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ کشمیری عتراف کرتے ہیں کہ ریاست کی آزادی کے خدوخال اسی زبان کے مرہون منت رہے ہیں ۔ ہمارے لئے یہ بھول جانا ممکن ہی نہیں کہ ہماری آزادی کی تحریک میں اس زبان کا ایک زبردست کردار رہا ہے ۔ مودی حکومت کا یہ اقدام بظاہر خطے کی دیگر زبانوں کو تسلیم کرنے کی طرف ایک مثبت قدم دکھائی دے رہا ہے مگر کشمیریوں کی غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اصل مقصد اردو اور اس سے جڑی میراث کو تحلیل کرنا ہے جسے ہندو انتہا پسند خالصتاً مسلم ثقافت کا نمائندہ سمجھتے ہیں ۔ اب تو کئی ہندو انتہا پسند یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ کشمیری زبان کا رسم الخط دیوناگری میں تبدیل کردیا جائے، اگر ایسا ہوا تو کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں اپنی تاریخی میراث سے مکمل طور پر نابلد ہوجائیں گی ۔